امریکا: 17 برس بعد مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد کا شیڈول جاری

اپ ڈیٹ 17 جون 2020

ای میل

—فائل فوٹو: اے ایف پی
—فائل فوٹو: اے ایف پی

امریکی اٹارنی جنرل نے فیڈرل بیورو آف پرزنز (وفاقی قیدی بیورو) کو 17 برس کے بعد سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کی سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے احکامات جاری کردیے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کے مطابق امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار نے 2003 سے سزائے موت کے منتظر قیدیوں سے متعلق احکامات جاری کیے۔

مزید پڑھیں: دنیا میں سزائے موت کے 10 طریقے

محکمہ کے بیان کے مطابق بچوں کے قتل میں ملوث 4 وفاقی قیدیوں کی پھانسی کی تاریخ جولائی اور اگست میں مقرر کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے انتہائی زہریلے انجکشن سے سزائے موت پر عملدرآمد شروع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن عدالت نے حکم امتناع جاری کردیا تھا۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ کو اپریل میں اس وقت کامیابی ملی جب امریکی عدالت برائے کولمبیا سرکٹ نے ضلعی جج کے حکم نامے کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس نے چاروں مجرمان کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: واشنگٹن سمیت امریکا بھر میں نسل پرستی کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

اٹارنی جنرل ولیم بار نے چاروں مجرموں کے حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ قوانین کے تحت مکمل اور منصفانہ کارروائی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم خوفناک جرائم کا نشانہ بننے والے افراد اور ان کے سوگوار خاندانوں کے لیے اپنے نظام انصاف کے ذریعے عائد سزا کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں'۔

قیدیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے جاری شیڈول کے مطابق 13 جولائی کو ڈینیئل لی، 15 جولائی کو ویسلی پورکی، 17 جولائی کو ڈسٹن ہنکن اور 28 اگست کو کیتھ نیلسن کی سزاؤں پر عمل ہوگا۔

امریکا میں زہریلے ٹیکے کے ذریعے سزائے موت دینے کا اصول یہ ہوتا ہے کہ ایک ٹیکا ایک فرد کو لگے گا اور اسے جو لگاتا ہے اس کا چہرہ چھپا کر رکھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا میں سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے ہونے والی جنگ کی داستان

بیشتر امریکی ریاستوں میں کوئی فرد ہی اس زہریلے ٹیکے کو قیدیوں کو لگاتا ہے جبکہ کچھ جگہ مشینوں کو بھی استعمال کیا گیا، تاہم تکنیکی خرابیوں کے باعث اسے ختم کردیا گیا۔

عام طور پر زہریلے ٹیکے کے لیے پینتھاہول کو استعمال کیا جاتا ہے جو عام طور پر آپریشن کے دوران مریضوں کے لیے بے ہوش کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے تاہم اس کی مقدار 150 ملی گرام رکھی جاتی ہے، جبکہ سزائے موت کے قیدی کے لیے یہ مقدار 5 ہزار ملی گرام ہوتی ہے، جبکہ پوٹاشیم کلورائیڈ اور دیگر زہروں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔