کراچی: ایم کیو ایم لندن اور جسقم کے 'لاپتا' کارکنان کی لاشیں برآمد

اپ ڈیٹ 17 جون 2020
—فائل/فوٹو:ڈان
—فائل/فوٹو:ڈان

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن اور جئے سندھ قومی محاذ (جسقم) اَریسر گروپ کے مبینہ طو پر لاپتا 2 کارکنان کی لاشیں برآمد ہوگئیں۔

پولیس، مقتولین کے اہل خانہ اور پارٹی کا کہنا تھا کہ شہر میں دو افراد کی لاشیں ملی تھیں جنہیں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا جو ایم کیو ایم (لندن) اور جسقم کے لاپتہ کارکنان تھے۔

پولیس کے مطابق دونوں کارکنان کی لاشیں شہر کے مضافاتی علاقے سے ملی ہیں اور ان پر گولیوں کے نشانات ہیں۔

ایس ایچ او سچل پولیس صفدر عباسی کا کہنا تھا کہ سپر ہائی وے میں جمالی پل کے قریب جھاڑیوں سے ایک لاش ملی تھی۔

مزید پڑھیں:صحافی ولی بابر کا سزا یافتہ مرکزی قاتل کراچی سے گرفتار

ان کا کہنا تھا کہ مقتول کی شناخت 50 سالہ آصف حسین صدیقی کے نام سے ہوئی، جس کے سر پر دو گولیاں لگی تھیں جبکہ جائے وقوع سے گولیوں کا کوئی خول نہیں ملا۔

پولیس نے مقتول کے بھائی عاطف کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کردیا۔

پولیس افسر کے مطابق درخواست گزار نے پولیس کے سامنے اپنے بھائی کے لاپتہ ہونے کا ذکر نہیں کیا۔

ایم کیو ایم لندن نے ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ آصف عرف پاشا پارٹی کا ڈیفنس کلفٹن سیکٹر کا سینئر کارکن تھا، جس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 22 فروری 2019 کو اٹھایا تھا۔

بیان میں کارکن کے قتل کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا گیا۔

الیکٹرانک میڈیا کے ایک حلقے نے رپورٹ کیا گیا کہ آصف صدیقی عرف پاشا مبینہ طور پر دہشت گردی اور قتل کے مقدمات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ایم کیو ایم لندن کے کارکنان کا کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا اعتراف

رپورٹ کے مطابق آصف صدیقی عرف پاشا مبینہ طور پر پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) ناظم آباد دفتر پر حملے میں ملوث تھا۔

ادھر نیشنل ہائی وے کے ساتھ ملحق سپرہائی وے روڑ پر سمندری بابا مزار کے قریب سے 32 سالہ نیاز لاشاری کی لاش ملی، جن کے سر پر گول ماری گئی تھی۔

مقتول کے بھائی اطہر لاشاری نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے بھائی دو مرتبہ جبری گم شدگی کا نشانہ بنے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقتول کو مبینہ طور پر 16 اپریل 2018 کو ملیر کے علاقے پپری میں ان کی رہائش گاہ سے سادہ کپڑوں میں چند افراد نے اٹھایا تھا۔

اطہر لاشاری نے کہا کہ حیدرآباد پولیس نے دہشت گردی کے مقدمات میں ان کے بھائی کی گرفتاری ظاہر کی تھی۔

مقتول مبینہ طور پر 10 جنوری 2019 کو انسداد دہشت گردی عدالت حیدرآباد میں سماعت کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے۔

ان کی والدہ نے سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد بینچ میں ایک درخواست بھی دائر کردی تھی جوالتوا کا شکار ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقتول جسقم آریسر گروپ سے منسلک تھے جس پر حال ہی میں پابندی عائد کی گئی ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں