سی پیک کے دوسرے مرحلے میں مکمل شفافیت رکھی جائے گی، عاصم سلیم باجوہ

اپ ڈیٹ 19 جون 2020

ای میل

سی پیک کے دوسرے مرحلے میں خصوصی معاشی زون، زراعت کے شعبے اور سماجی و اقتصادی ترقی کی جانب توجہ مرکوز کیا جانا ہے۔ فائل فوٹو:رائٹرز
سی پیک کے دوسرے مرحلے میں خصوصی معاشی زون، زراعت کے شعبے اور سماجی و اقتصادی ترقی کی جانب توجہ مرکوز کیا جانا ہے۔ فائل فوٹو:رائٹرز

اسلام آباد: حکومت نے جمعرات کو پاک چین اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کے دوسرے مرحلے کے دوران مکمل شفافیت اور قرضوں پر کم انحصار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین اور وزیر اعظم معاون خصوصی برائے اطلاعات ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ ‘مکمل شفافیت‘ کو یقینی بناتے ہوئے سی پیک کا دوسرا مرحلہ ’مکمل تیاری اور ادارہ جاتی انداز’ میں شروع کیا جائے گا۔

وہ ٹیکسلا میں معروف چینی تاجروں اور ہیوی میکینیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) کے درمیان اس ادارے کی بحالی کے لیے کاروباری تعاون کے معاہدوں پر دستخط کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

پاکستان اور چین نے اپریل میں وزیر اعظم عمران خان کے دورہ بیجنگ کے دوران سی پیک کے دوسرے مرحلے کے آغاز پر بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے اتفاق کیا تھا۔

مزید پڑھیں: سی پیک کے تحت تمام اقتصادی زونز پر کام جاری ہے، عاصم سلیم باجوہ

دوسرے مرحلے میں خصوصی معاشی زون، زراعت کے شعبے اور سماجی و اقتصادی ترقی کی جانب توجہ مرکوز کیا جانا ہے۔

واضح رہے کہ 2015 میں چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ اسلام آباد کے دوران انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لیے پاکستان اور چین کے درمیان اربوں ڈالر کے مشترکہ منصوبے کا آغاز کیا گیا تھا۔

اس منصوبے کا پہلا مرحلہ زیادہ تر توانائی کے منصوبوں کے قیام اور گوادر پورٹ کو کاشغر سے جوڑنے والے روڈ نیٹ ورک کی تیاری کے بارے میں تھا۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ سی پیک کے فیز ایک کے تمام منصوبوں کو ضابطے کی یا تکنیکی معاملات کی وجہ سے تاخیر سے شروع کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ بجلی پیدا کرنے کے آٹھ منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جنہوں نے نیشنل گرڈ میں تقریبا 6 ہزار میگاواٹ بجلی شامل کی جبکہ مزید 9 پر کام جاری ہے۔

خیال رہے کہ سی پیک پر امریکا کی جانب سے تنقید کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے سی پیک سے متعلق دعوؤں کو مسترد کردیا

امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اس کے تحت منصوبوں میں شفافیت کا فقدان ہے اور اس نے پاکستان کے غیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

اسلام آباد اور بیجنگ دونوں ہی نے امریکی تنقید کو پروپیگنڈا کے طور پر مسترد کردیا تھا۔

دفتر خارجہ نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سی پیک شفاف طریقے سے قومی ترقی میں حصہ ڈال رہا ہے اور اس منصوبے پر عمل درآمد کے معاملات کو موجودہ طریقہ کار کے ذریعے بیجنگ اور اسلام آباد نے دو طرفہ طور پر حل کیا ہے۔

دفتر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ سی پیک منصوبوں سے متعلق عوامی قرض کل قرضوں کے بوجھ کا دس فیصد سے بھی کم ہے۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ فیز 2 میں چینی اور پاکستانی تاجروں کے مابین کاروباری تعلقات کو فروغ دیتے ہوئے قرضوں پر انحصار کم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم اگلے مرحلے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور غیر ملکی کمپنیاں اور کاروباری افراد جو مقامی سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے ساتھ شراکت میں ہیں، کو دیکھ رہے ہیں‘۔