سی پیک کے تحت تمام اقتصادی زونز پر کام جاری ہے، عاصم سلیم باجوہ

ای میل

—فائل فوٹو: بشکریہ آئی ایس پی آر
—فائل فوٹو: بشکریہ آئی ایس پی آر

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و چیرمین پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے چیئرمین عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ وزارت اطلاعات اور میڈیا میں بہتری لانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں، تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور کوششیں کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی اطلاعات کے طور پر اضافی ذمہ داری ملی ہے۔

مزیدپڑھیں: فردوس عاشق کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ معاون خصوصی اطلاعات مقرر

اسلام آباد میں چیرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے صحافیوں کے وفد سے گفتگو میں کہا کہ سی پیک حقیقت ہے اور منصوبے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ خنجراب سے گوادر تک کے دونوں روٹس کی تیز رفتار تکمیل کے لیے منصوبہ بندی کر لی ہے اور آنے والے چند ماہ میں باقی رہ جانے والی سڑکوں کی تعمیر کے بڑے منصوبےشامل ہیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ سی پیک قومی منصوبہ ہے اور دوسرا مرحلہ نہایت اہم اور جلد شروع ہو گا۔

عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں زرعی، صنعتی، تجارتی، سائنس و ٹیکنالوجی شعبوں پر توجہ مرکوز ہے اور چاروں صوبوں میں اقتصادی زونز فعال کرنا ترجیح ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے سی پیک سے متعلق دعوؤں کو مسترد کردیا

انہوں نے کہا کہ گوادر کی ترقی کے منصوبے بھی دوسرے مرحلے میں شامل ہیں اور پاک، چین مشترکہ تعاون کمیٹی کا اجلاس جلد منعقد ہو گا۔

معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت تمام خصوصی اقتصادی زونز پر کام تیزی سے جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چین، پاکستان میں ’پیسٹ کوکنٹرول سینٹر‘ قائم کرے گا جس کے تحت فصلوں کو بیماریوں سے مقابلے کے قابل بنانے کے لیے بیجوں کا معیار بہتر بنایا جائے گا۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ 20 ہزار پاکستانی طلبہ اسکالرشپ پر چین جائیں گے اور اس ضمن میں بہت جلد اعلان ہو گا۔

واضح رہے کہ 27 اپریل کو کابینہ ڈویژن سے جاری نوٹی فکیشن کے تحت فردوس عاشق اعوان کی جگہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو وزیر اعظم کا نیا معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کردیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے سی پیک پر امریکی مؤقف مسترد کردیا

علاوہ ازیں گزشتہ سال نومبر میں وفاقی حکومت نے عاصم سلیم باجوہ کو سی پیک اتھارٹی کا چیئرپرسن مقرر کردیا تھا۔

لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ ریٹائرمنٹ سے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی)، ڈی جی آرمز اور کمانڈر سدرن کمانڈ سمیت دیگر اہم عہدوں پر فائز رہے۔

امریکا کا انتباہ اور چین کا ردعمل

خیال رہے کہ چند روز قبل ایک ’غیر معمولی‘ تقریر کرتے ہوئے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں جنوبی ایشیائی امور کی سب سے اعلیٰ عہدیدار ایلس ویلز نے کہا تھا کہ یہ کثیر الارب (ملٹی بلین) ڈالر منصوبہ (سی پیک) پاکستانی معیشت کے لیے ادائیگی کے وقت مشکلات کا سبب بنے گا۔

ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ سی پیک پاکستان کے لیے امداد نہیں بلکہ مالی معاملات کی ایسی شکل ہے جو چین کی سرکاری کمپنیوں کے فوائد کی ضمانت دیتا ہے جبکہ پاکستان کے لیے اس میں انتہائی معمولی فائدہ ہے۔

جس پر ردِ عمل دیتے ہوئے پاکستان میں تعینات چینی سفیر یاؤ جِنگ نے سی پیک منصوبے میں کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'سی پیک کے بارے میں کرپشن کی بات کرنا تب آسان ہے، جب آپ کے پاس درست معلومات نہ ہوں، ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ نیب اور حکومتی ایجنسیوں کو سی پیک منصوبوں میں کرپشن کے کوئی ثبوت نہیں ملے اور مکمل شفافیت پائی گئی لہٰذا امریکا، سی پیک پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے احتیاط کرے'۔

انہوں نے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی اعلیٰ عہدیدار کے بجلی ٹیرف کے زائد ہونے کے بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خود امریکی سفارتکار کو ٹیرف اسٹرکچر سے متعلق بریف کرچکے ہیں اور انہیں بتایا تھا کہ یہ ٹیرف ان تمام ممالک سے کم ہے جنہیں چینی کمپنیاں بجلی فراہم کر رہی ہیں۔

انہوں نے سوال کیا تھا کہ '2013 میں جب چینی کمپنیاں پاکستان میں پاور پلانٹ لگارہی تھیں اس وقت امریکا کہاں تھا؟ پاکستان کو بجلی کی شدید ضرورت تھی یہ جاننے کے باوجود امریکا نے پاکستان میں سرمایہ کاری کیوں نہیں کی؟'

پاکستان نے بھی سی پیک کے حوالے سے امریکی خدشات کو مسترد کردیا تھا۔

گزشتہ روز پاکستان میں تعینات امریکی سفیر پاؤل ڈبلیو جونز کا کہنا تھا کہ ’امریکی معاون سیکریٹری ایلس ویلز کے سی پیک کے حوالے سے دیے گئے بیان کا مقصد ایک مباحثہ شروع کرنا تھا، تاہم یہ پاکستان کا مکمل اختیار ہے کہ وہ سی پیک کے مستقبل کا خود فیصلہ کرے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اس بات کی توقع نہیں کرتے کہ ہر کوئی ہماری بات سے یا امریکی عہدیدار کی تقریر کے ہر پہلو سے اتفاق کرے'۔