معروف عالم دین علامہ طالب جوہری انتقال کر گئے

علامہ طالب جوہری—فائل فوٹو: ٹوئٹر
علامہ طالب جوہری—فائل فوٹو: ٹوئٹر

کراچی: معروف عالم دین اور ذاکر علامہ طالب جوہری طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وہ ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں رات گئے خالق حقیقی سے جاملے, ان کی عمر 80 برس تھی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ علامہ طالب جوہری گزشتہ 15 روز سے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں زیر علاج تھے، ان کے پسماندگان میں 3 بیٹے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جامعہ بنوریہ کراچی کے مہتمم اور عالم دین مفتی نعیم انتقال کرگئے

معروف اہلِ تشیع عالم کی تقاریر محرم الحرام کے دوران سرکاری و نجی ٹیلی ویژنز پر باقاعدگی سے نشر ہوتی تھیں۔

مجلس وحدت مسلمین کے میڈیا سیل کے مطابق علامہ طالب جوہری 27 اگست 1939 کو بھارتی ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا محمد مصطفیٰ جوہر سے حاصل کی۔

تقسیم ہند کے بعد 1949 میں وہ اپنے والد کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور بعد میں عراق کے شہر نجف چلے گئے جہاں انہوں نے 10 سال تک اس وقت کے معروف شیعہ علمائے دین سے مذہبی تعلیم حاصل کی۔

مزید پڑھیں: معروف ٹی وی میزبان طارق عزیز انتقال کرگئے

اہلِ تشیع مکتبہ فکر میں علامہ طالب جوہری کو انتہائی قدر و منزلت حاصل تھی کیوں کہ وہ معروف عالم دین آیت اللہ سید علی الحسینی السیستانی کے ہم جماعت تھے۔

بعدازاں 1965 میں وہ واپس کراچی آئے اور جامعہ امامیہ کے پرنسپل تعینات ہوئے۔

خیال رہے کہ 2 روز قبل ہی جامعہ بنوریہ عالمیہ کے ممتہم مفتی نعیم بھی 65 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد ابتقال کر گئے تھے۔

تعزیتی پیغامات

صدر مملکت عارف علوی نے علامہ طالب جوہری کے بیٹے اسد جوہری کو ٹیلی فون کر کے ان کےانتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

صدر مملکت نے غمزدہ خاندان سے تعزیت کی اور مرحوم کی درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ دینی اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے علامہ طالب جوہری کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے معروف عالم دین علامہ طالب جوہری کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

علاوہ ازیں وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے علامہ طالب جوہری کی وفات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک بڑے عالم دین سے محروم ہو گیا۔

نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ دین اسلام کے لیے ان کی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا، اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور اپنے جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں