'وفاقی حکومت کی صفوں میں بغاوت شروع ہو چکی ہے'

اپ ڈیٹ 25 جون 2020

ای میل

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ حکومتی صفوں میں بغاوت حکومت گرنے کی نشان دہی ہے—فائل/فوٹو:ڈان
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ حکومتی صفوں میں بغاوت حکومت گرنے کی نشان دہی ہے—فائل/فوٹو:ڈان

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی صفوں میں بغاوت شروع ہو چکی ہے۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کے درمیان اختلافات سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ وفاقی حکومت کی صفوں میں بغاوت شروع ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں ادھر ادھر سے لائے گئے لوگ اپنے گھروں کو واپس جانے کے لیے پر تول رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:فواد چوہدری کے بیان پر وزیراعظم ناخوش، کابینہ اجلاس میں وزرا الجھ پڑے

ترجمان بلاول بھٹو نے کہا کہ بجٹ کی منظوری سے قبل حکومتی صفوں میں بغاوت حکومت گرنے کی نشان دہی ہے، عمران خان ایسے بدترین ناکام ہوئے ہیں کہ ان کی ناکامی کا بوجھ کوئی اٹھانے کو تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ناکامی کا بوجھ اٹھانے کو وہ لوگ بھی تیار نہیں ہیں جو انہیں لائے تھے۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ حکومتی ارکان اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ سرکاری افسروں اور عوام کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے ہیں۔

خیال رہے کہ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میرے تجزیے کے مطابق حکومت بننے کے بعد جہانگیر ترین، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی آپس کی رسہ کشی کی وجہ سے سیاسی لوگ کھیل سے باہر ہوگئے اور اس سے پیدا ہونے والے خلا کو نئے لوگوں نے پُر کیا جن کا سیاست سے تعلق نہیں تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے بہت کوشش کی اور سمجھایا بھی لیکن بات نہیں بنی، ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ جب اسد عمر وزیر خزانہ تھے تو جہانگیر ترین نے زور لگا کر انہیں وزارت سے فارغ کروایا پھر اسد عمر نے دوبارہ آنے کے بعد کوششیں کر کے جہانگیر ترین کو فارغ کروا دیا۔

یہ بھی پڑھیں: رہنماؤں کے اختلافات نے پی ٹی آئی کے سیاسی لوگوں کو باہر کردیا، فواد چوہدری

فواد چوہدری کے مطابق اسی طرح شاہ محمود قریشی کی بھی جہانگیر ترین سے ملاقاتیں ہوئیں لیکن بات نہیں بنی، پارٹیوں میں اختلافات، گروہ بندی عام بات ہے لیکن آپ جس شاخ پر بیٹھے ہوں اس کو تو نہیں کاٹا جاتا۔

دوران انٹرویو انہوں نے کہا تھا کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں اندرونی اختلافات نے نہ صرف پارٹی کو بہت نقصان پہنچایا بلکہ ’پوری سیاسی کلاس آؤٹ ہوگئی‘ اور ان کی جگہ بیوروکریٹس نے لے لی۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی فواد چوہدری کے بیان پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور پارٹی رہنماؤں کو اندرونی معاملات کھلے عام بیان کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی تھی۔

رپورٹس کے مطابق وفاقی کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں بھی پی ٹی آئی رہنماؤں کے اختلافات سامنے آئے تھے اور وفاقی وزرا نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے جس پر وزیراعظم کو مداخلت کرنا پڑی۔

کابینہ اجلاس میں جب ایک وزیر نے فواد چوہدری کے انٹرویو کا معاملہ اٹھایا تو معاملہ بگڑ گیا اور وزرا نے ایک دوسرے پر الزامات لگائے۔

کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا تھا کہ فواد چوہدری کا معاملہ اجلاس میں زیر غور آیا تھا اور وزیراعظم نے اس پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔