میکسیکو: نشے کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر فائرنگ، 24 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 02 جولائ 2020

ای میل

ریاستی پولیس کا کہنا تھا کہ بظاہر حملہ آوروں نے بحالی مرکز میں سب کو گولی ماری، کسی کو یرغمال نہیں بنایا گیا۔ اے پی:فائل فوٹو
ریاستی پولیس کا کہنا تھا کہ بظاہر حملہ آوروں نے بحالی مرکز میں سب کو گولی ماری، کسی کو یرغمال نہیں بنایا گیا۔ اے پی:فائل فوٹو

میکسیکو کے وسطی علاقے میں غیر قانونی طور پر قائم نشے کے عادی افراد کے بحالی مرکز میں مسلح افراد نے گھس کر فائرنگ کردی جس کے نیتیجے میں 24 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق ملک کی شمالی وسطی ریاست گیاناجوٹو کی پولیس کا کہنا ہے کہ ایراپیوٹو شہر میں ہونے والے حملے میں 7 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے 3 کی حالت تشویشناک ہے۔

ریاستی پولیس کا کہنا تھا کہ بظاہر حملہ آوروں نے بحالی مرکز میں سب کو گولی ماری، کسی کو یرغمال نہیں بنایا گیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ جائے وقوع کی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بحالی مرکز میں موجود افراد پر گولیوں کی بوچھاڑ کی جارہی تھی تو وہ سب زمین پر لییٹے ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: میکسیکو: 11 سالہ طالب علم نے استاد کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی

میکسیکو کا شہر گواناجوٹو جلیسکو کارٹیل اور ایک مقامی گینگ کے درمیان خونی جنگ کا میدان بنا ہوا ہے اور ریاست میکسیکو سب سے زیادہ پرتشدد ریاست بن چکی ہے۔

حملے کا کوئی مقصد تو اب تک سامنے نہیں آیا تاہم گورنر ڈیاگو سنہو روڈریگز ویلجیو نے بتایا کہ لگتا ہے کہ اس میں منشیات کے گروہ ملوث ہیں۔

گورنر کا کہنا تھا کہ 'میں آج سہ پہر میں ایراپیوٹو میں ہونے والے واقعات پر افسوس اور مذمت کرتا ہوں، منظم جرائم کی وجہ سے پیدا ہونے والے تشدد سے نہ صرف نوجوانوں کی جانیں لی جاتی ہیں بلکہ یہ اس شہر میں لوگوں سے امن چھین رہے ہیں'۔

میکسیکو کے منشیات کے گروہوں نے ماضی میں بھی ایسی سہولیات میں پناہ دینے والے حریف گروہوں کے مشتبہ ڈیلروں کو ہلاک کیا ہے۔

اس سے قبل سنہ 2010 میں شمالی میکسیکو کے شہر چی ہواہوا میں بحالی مرکز پر حملے میں 19 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس کے بعد سے اس طرح کی سہولیات پر ایک درجن سے زائد حملے ہوچکے ہیں تاہم آج ہونے والا حملہ سب سے خطرناک تھا۔

یہ بھی پڑھیں: میکسیکو کی لڑکی پاکستانی لڑکے کی محبت میں سرگودھا پہنچ گئی

میکسیکو میں طویل عرصے سے نشے کے عادی افراد کی بحالی کے مراکز کو مسائل کا سامنا ہے کیونکہ ان میں سے بیشتر نجی طور پر چلائے جاتے ہیں، فنڈ کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں یا اکثر نشے کے عادی افراد کی بحالی کے دوران بدسلوکی کرتے ہیں۔

حکومت بحالی پر نسبتا بہت کم رقم خرچ کرتی ہے جس کی وجہ سے اکثر غیر رجسٹرڈ مراکز کو غریب خاندانوں کے لیے واحد راستہ تصور کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ نشے کے عادی افراد اور ڈیلر جنہیں سڑکوں پر حریفوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بعض اوقات بحالی مراکز میں پناہ لیتے ہیں اور کلینک ہی کو حملے کا نشانہ بناتے ہیں۔

پھر بھی دوسرے گروہوں پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ نشے کے عادی افراد کی بحالی کے مراکز میں زبردستی اپنے ڈیلرز بھرتی کرتے تھے اور انکار پر انہیں قتل کردیتے ہیں۔