ڈینیئل پرل قتل کیس: چاروں افراد کی حراستی مدت میں 30 ستمبر تک توسیع

اپ ڈیٹ 03 جولائ 2020

ای میل

حراست میں رکھنے کا حکم انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن '11-ای ای' کے تحت جاری کیا گیا — فائل فوٹو: اے پی
حراست میں رکھنے کا حکم انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن '11-ای ای' کے تحت جاری کیا گیا — فائل فوٹو: اے پی

حکومت سندھ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل میں سزا یافتہ 4 افراد کی حراستی مدت میں توسیع کا حکم جاری کردیا جن کی سزاؤں کو اپریل کے اوائل میں سندھ ہائی کورٹ (ایس ایچ سی) نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

احکامات سے متعلق سینٹرل جیل کراچی اور محکمہ داخلہ سندھ کے دو عہدیداروں نے ڈان ڈاٹ کام کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف عمر شیخ اور شریک ملزمان فہد نسیم، شیخ عادل اور سلمان ثاقب کو 30 ستمبر تک جیل میں زیر حراست رکھا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ڈینیئل پرل کیس: عمر شیخ کی سزائے موت 7 سال قید میں تبدیل، 3 ملزمان رہا

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 2002 میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل میں احمد عمر سعید شیخ کی بریت کے خلاف اپیل کی فوری سماعت کی سرکاری درخواست کو مسترد کردیا تھا جس کے باعث ان کی رہائی کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔

کراچی سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ حسن سہتو نے غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کو بتایا کہ چاروں افراد 30 ستمبر تک ایک قانون کے تحت زیر حراست رہیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ مذکوہ قانون حکام کو مشتبہ شخص کو ایک سال تک حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان افراد کی رہائی سے امن عامہ کو خطرہ ہوگا۔

حراست میں رکھنے کا حکم انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن '11-ای ای' کے تحت جاری کیا گیا۔

واضح رہے کہ مذکورہ قانون سے حکومت کو 'مشتبہ افراد کی گرفتاری یا حراست میں رکھنے کا اختیار ملتا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینئیل پرل کے قاتلوں کو رہا کروانے کا منصوبہ ناکام

احمد عمر سعید شیخ کے وکیل محمود شیخ نے کہا کہ وہ اپنے موکل کی حراست میں توسیع کے بارے میں نہیں جانتے، عدالتی حکم کے تحت میرے موکل کی بریت کے خلاف اپیل کی سماعت 25 ستمبر کو ہوگی۔

خیال رہے کہ وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کو جنوری 2002 میں کراچی میں اس وقت اغوا کر کے قتل کردیا گیا تھا جب وہ مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے ایک مضمون پر کام کر رہے تھے۔

سندھ ہائی کورٹ نے 2 اپریل کو اس مقدمے میں 4 ملزمان کی دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلی تھیں، جبکہ عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔

وہ پہلے ہی سزائے موت پر 18 سال جیل میں گزار چکا تھا اور اغوا کے الزام میں 7 سال کی سزا کو اس وقت کے حساب سے شمار کیا گیا تھا۔

ڈینیئل پرل کے والدین نے بھی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سامنے اپیل دائر کی ہے۔

مزید پڑھیں: ڈینیئل پرل قتل کا ملزم باعزت بری

ڈینیئل پرل کو 23 جنوری 2002 میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا، جب وہ عسکریت پسندوں کے حوالے سے ایک خبر پر تحقیق کر رہے تھے۔

فروری 2002 میں امریکی سفارتکاروں کے ذریعہ موصول ویڈیو ٹیپ سے اس بات کی تصدیق ہوئی تھی کہ 38 سالہ ڈینیئل پرل کی موت ہوگئی تھی اور ان کا سر قلم کردیا گیا تھا۔