ہاتھوں پیروں میں سرخ نشانات اور کووڈ 19 میں تعلق ثابت

03 جولائ 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

جیسے جیسے نوول کورونا وائرس دنیا بھر میں پھیل رہا ہے، طبی ماہرین کی جانب سے اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی نئی ممکنہ علامات کو شناخت کیا جارہا ہے۔

عام علامات میں بخار سب سے عام ہے جس کے بعد کھانسی، سانس لینے میں مشکلات اور سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی دیگر عام علامات ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک تحقیق میں بھی کووڈ 19 کے شکار افراد میں مسلسل کھانسی اور بخار کی سب سے عام علامات ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔

کچھ عرصے پہلے کورونا وائرس کی ایک ممکنہ علامت کووڈ ٹویئز کے نام سے سامنے آئی تھی، مگر اس حوالے سے تنازع تھا کہ پیروں اور ہاتھوں میں سرخ نشانات یا دانے واقعی کورونا وائرس کا نتیجہ ہوتے ہیں یا نہیں۔

اب ایک نئی طبی تحقیق میں اس کا جواب سامنے آیا ہے۔

جریدے برٹش جرنل آف ڈرماٹولوجی میں شائع تحقیق ایسے شواہد فراہم کیے گیے جو کووڈ 19 اور کووڈ ٹویئز کے درمیان تعلق کی حمایت کرتے ہیں۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہاتھوں اور پیروں میں ایسے سرخ دانوں والے افراد میں اکثر روایتی کووڈ 19 ٹیسٹ میں تشخیص نہیں ہوتی مگر محققین نے دریافت کیا کہ جن بچوں میں کووڈ ٹویئز کو دیکھا گیا، ان کی جلد میں کورونا وائرس موجود تھا۔

محققین نے اپنے تجزیے میں کورونا وائرس کو خون کی شریانوں کے خلیات اور پسینے کے غدود میں دریافت کیا۔

انہوں نے بتایا کہ نتائج سے کورونا وائرس اور کووڈ ٹویئز کے درمیان تعلق کی تصدیق ہوتی ہے اور خون کے خلیات کو وائرس سے پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں یہ سرخ نشانات ابھرتے ہیں۔

خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بخار اس انفیکشن کی سب سے عام علامت ہے جو سب سے پہلے سامنے آتی ہے اور لگ بھگ 88 فیصد کیسز میں اسے دیکھا گیا (چین میں 55 ہزار کیسز کے تجزیے کے بعد یہ شرح بتائی گئی)، اس کے علاوہ خشک کھانسی، تھکاوٹ، گاڑھے بلغم کے ساتھ کھانسی اور سانس لینے میں مشکلات وغیرہ۔

اس کے بعد مارچ میں برطانوی سائنسدانوں نے سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی کو بھی اس بیماری کی علامات قرار دیا گیا اور اس پر متعدد تحقیقی رپورٹس سامنے آچکی ہیں، جن میں اس خیال کی تائید کی گئی ہے کہ اچانک سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی کووڈ 19 کی علامت ہوسکتی ہے، خصوصاً یہ ان مریضوں میں عام ہوتی ہے جن میں دیگر عام علامات نظر نہیں آتیں۔

اس کے علاوہ حال ہی میں یہ رپورٹ بھی سامنے آئی کہ یہ وائرس آنکھوں میں زیادہ طویل عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے اور آشوب چشم بھی اس کی ایک نشانی ہوسکتی ہے۔

اپریل کے شروع میں جریدے امریکن جرنل آف کیٹروانٹرالوجی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 کے کچھ مریضوں کو نظام ہاضمہ کے مسائل خصوصاً ہیضے کا سامنا پہلی علامت کے طور پر ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ایسے مریض جن میں ہیضہ پہلی علامت کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، ان میں بیماری کی شدت معتدل تھی، نظام تنفس کی علامات بعد میں طاہر ہوئیں بلکہ کچھ کیسز میں تو ایسی علامات نظر ہی نہیں آئیں۔

کووڈ ٹویئز

فوٹو بشکریہ این بی سی شکاگو
فوٹو بشکریہ این بی سی شکاگو

دوسری جانب جرنل آف دی یورپین اکیڈمی آف ڈراماٹولوجی اینڈ وینرولوجی میں شائع ایک خط میں اٹلی کے ایک ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ لمبارڈے کے خطے میں کووڈ 19 کے 88 مریضوں کے تجزیے میں معلوم ہوا کہ 20 فیصد میں جلدی مسائل سامنے آئے۔

ان میں سے بیشتر میں سرخ دانے یا ریشز ان کے دھڑ پر نمودار ہوئے جبکہ کچھ میں ایسے آبلے پڑگئے جو لاکڑا کاکڑا سے مماثلت رکھتے ہیں۔

اس کے بعد اپریل کے شروع میں فرانس کے 400 سے زائد جلدی امراض کے ماہرین کے ایک ادارے نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کووڈ 19 کے ممکنہ مریضوں میں جلدی علامات جیسے چھپاکی (hives)، سرخ دانے اور بہت ٹھنڈ یعنی فراسٹ بائیٹ جیسے نشانات ہاتھوں اور پیروں میں نظر آتے ہیں۔

پھر اپریل کے وسط میں جرنل آف امریکن اکیڈمی آف ڈرماٹولوجی میں شائع ایک خط میں اٹلی کے ڈاکٹروں نے کہا کہ لاکڑا کاکڑا جیسے دانے بھی کووڈ 19 کی ایک علامت ہوسکتی ہے۔

امریکا میں ہاتھوں اور پیروں میں فراسٹ بائیٹ جیسے نشانات کو کووڈ ٹوئیز کا نام دیا اور طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے مریضوں میں جامنی رنگ کے نشان اور سوجن نظر آسکتے ہیں اور امرکن اکیڈمی آف ڈرماٹولوجی نے ان کو کووڈ 19 کی علامات کی رجسٹری میں شامل کرلیا۔

نیویارک یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر ایلیسا فیمیا نے بتایا کہ انہوں نے ان تمام علامات کو کووڈ 19 کے مشتبہ یا مصدقہ مریضوں میں دیکھی ہے اور دریافت کیا ہے کہ ان کو ممکنہ علامات میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا 'ایک وائرس جس نے اولین 5 ماہ میں انسانوں کے ساتھ یہ سب کچھ کیا، وہ مجھے چونکا دیتا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں میں اکثر گلابی رنگ کے خارش والے دانے دھڑ اور ہاتھوں و پیروں میں نمودار ہوتے ہیں جبکہ کچھ میں پھنسیاں بن جاتی ہیں جو لاکڑا کاکڑا جیسی ہوتی ہیں، مگر یہ علامت بہت کم نظر آتی ہے۔

ان کے بقول فی الحال یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ اس طرح کے جلدی مسائل واقعی سارس کوو 2 وائرس کا نتیجہ ہیں یا علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کا اثر، تاہم اکثر یہ اتنے نمایاں ہوتے ہیں کہ ممکنہ طور پر یہ وائرس کا نتیجہ بھی ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ دنوں میں کووڈ ٹوئیز کوو انہوں نے بہت زیادہ دیکھا ہے اور ایسے افراد میں بھی جن میں کووڈ 19 کی دیگر علامات بہت کم ہوتی ہیں، تاہم ابھی مکمل طور پر یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کووڈ 19 سے ہونے والا مسئلہ ہے۔

ایسے متعدد افراد کا کووڈ 19 کا ٹیسٹ نہیں ہوتا کیونکہ وہ اتنے بیمار نہیں ہوتے کہ اننہیں زیادہ طبی امداد فراہم کی جائے، جس کی وجہ سے یہ تعین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ وائرس سے منسلک ہے یا نہیں، کچھ افراد میں وائرس کی تصدیق نہیں ہوتی مگر جلدی مسائل کی کوئی وجہ بھی سامنے نہیں آتی۔

ان کے خیال میں کووڈ 19 کے ایسے مریض جن میں علامات نظر نہیں آتیں یا بہت معمولی ہوتی ہیں، ان میں کووڈ ٹوئیز کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی بہت کچھ جاننا باقی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ابتدائی تحقیق سے عندیہ ملتا ہےک ہ کووڈ 19 کے مریضوں کی جلد میں ریشز کی وجہ دوران خون کے مسائل کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے جو زیادہ فکرمندی کا باعث ہے۔

جلد میں خون کے چھوٹے لوتھڑے یا کلاٹس بننے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دیگر حصوں میں بھی بلڈکلاٹس بن رہے ہیں ، گردوں، جگر یا دیگر اعضا میں ایسا ہونا زیادہ سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

نیویارک میں دیگر جلدی امراض کے ماہر کووڈ 19 اور جلدی عوارض جیسے چنبل اور دیگر کے درمیان تعلق کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

ایشکن اسکول آف میڈیسین کی تحقیقی ٹم نے اس مقصد کے لیے مریضوں کی خدمات حاصل کی ہیں اور انہیں توقع ہے کہ وہ جلدی مسائل اور کووڈ 19 کے درمیان تعلق کے بارے میں جان سکیں گے۔

وہ ہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ جلدی امراض کے علاج کے لیے تجویز کی جانے والی ادویات جسم میں ورم کم کرنے کے ساتھ نئے نوول کورونا وائرس کے خلاف مدافعتی نظام کو کس حد تک بہتر کرتی ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج کچھ عرصے میں سامنے آئیں گے مگر ڈاکٹر ایلیسا فیمیا کا کہنا ہے کہ جن افراد میں غیرمعمولی جلدی مسائل نظر آتے ہیں، انہیں ڈاکتر کے مشورے سے ادوات کا استعمال کرنا چاہیے، جس سے یہ جاننے میں مدد مل سکے گی کہ ان علامات کا کووڈ 19 سے تعلق ہے یا نہیں اور انہیں خود کو آئسولیشن کرنا چاہیے یا نہیں۔

خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بخار اس انفیکشن کی سب سے عام علامت ہے جو سب سے پہلے سامنے آتی ہے اور لگ بھگ 88 فیصد کیسز میں اسے دیکھا گیا (چین میں 55 ہزار کیسز کے تجزیے کے بعد یہ شرح بتائی گئی)، اس کے علاوہ خشک کھانسی، تھکاوٹ، گاڑھے بلغم کے ساتھ کھانسی اور سانس لینے میں مشکلات وغیرہ۔