حکومت بلوچستان کو ایئر ایمبولینس کی خریداری سے روک دیا گیا

اپ ڈیٹ 04 جولائ 2020

ای میل

بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو ایئرایمبولینس کی خریداری سے روک دیا — تصویر بشکریہ بلوچستان ہائی کورٹ
بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو ایئرایمبولینس کی خریداری سے روک دیا — تصویر بشکریہ بلوچستان ہائی کورٹ

بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو ایئر ایمبولینس کی خریداری سے روک دیا ہے جس کی سالانہ بجٹ 21-2020 میں منظوری دی گئی تھی۔

جسٹس محمد کامران ملاخیل اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بلوچستان ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے تربت میں ضلعی ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں کے حوالے سے کیس کی سماعت کرتے ہوئے حکم جاری کیا۔

مزید پڑھیں: مالی سال 21-2020: بلوچستان کا 465 ارب روپے کا بجٹ پیش

عدالت نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے گزشتہ ایک سال میں حکومت بلوچستان کی جانب سے استعمال کیے گئے ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹرز کی لاگ بک فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

سماعت کے دوران عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہسپتالوں کی حالت بہتر نہیں ہو سکتی کیونکہ درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے پیش کردہ تصاویر اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔

عدالت نے مزید کہا کہ تربت کا ہستپال علاقے میں رہنے والے غریب افراد کے وسائل کا واحد ذریعہ ہے۔

اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل نے ایک مرتبہ پھر عدالت سے مہلت کی درخواست کی اور یقین دہانی کرائی کہ عدالت کے احکامات پر عمل کیا جائے گا اور ایک جامع رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف علاج کیلئے ایئر ایمبولینس میں لندن روانہ

جس پر عدالت نے امید ظاہر کی کہ ایڈووکیٹ جنرل ہسپتالوں کو ادویات کی مستقل فراہمی، یو پی ایس کے ہمراہ ایکس رے مشین اور ایکس رے فلم کی فراہمی، آکسیجن پلانٹ کی تنصیب تک آکیسجن سیلنڈر کی دستیابی یقینی بنانے اور دو ڈائلیسز مشین اور اس کے لیے درکار تربیت یافتہ عملے کی موجودگی کے حوالے سے ذاتی حیثیت میں عدالت سے رجوع کریں گے۔

اس سلسلے میں ہدایت کی گئی کہ ایک اور آپریشن تھیٹر کی تعمیر کا معاملہ بھی فوری طور پر متعلقہ محکمے کے سامنے اٹھایا جائے اور ڈاکٹرز پیرامیڈکس سمیت کلاس فور اور دیگر چھوٹے عملے کی دستابی یقینی بنائی جائے، اس کے لیے عملے کی بائیو میٹرک حاضری بھی یقینی بنائی جائے۔

عدالت نے حکام کو ہسپتالوں میں صفائی کی صورتحال بہتر بنانے کا بھی حکم دیا، ساتھ ہی کہا کہ ڈپٹی کمشنر تربت کی زیر نگرانی چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن کو ہفتہ وار صفائی کے لیے تعینات کیا جائے اور اگر عملے کی کمی کا مسئلہ درپیش ہو تو دستیاب عملے کے ساتھ ساتھ دیگر اضلاع کے عملے کو بھی روٹیشن کی بنیاد پر تعینات کیا جائے۔

مزید پڑھیں: حکومت بلوچستان کا پبلک ٹرانسپورٹ بحال نہ کرنے کا فیصلہ

مزید برآں ایک اور درخواست پر حکم جاری کرتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ نے حکومت بلوچستان کو ایئرایمبولینس کی خریداری سے روک دیا اور اس سلسلے میں ایئر ٹریفک اور پائلٹ کی تربیت پر بھی اخراجات سے روک دیا ہے، عدالت نے حکم دیا کہ ہیلی کاپٹرز کے غیرضروری استعمال پر تاحکم ثانی پابندی عائد کی جاتی ہے۔

بینچ نے حکم دیا کہ مقدمے کی نقول ایڈیشنل چیف سیکریٹری ڈویژن، سیکریٹری صحت، فنانس سیکریٹری، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان، کمشنر مکران ڈویژن، تبت کے ڈپٹی کمشنر، ڈائریکٹر جنرل صحت، ایم ایس ڈی ایچ تربت ہسپتال، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن تربت اور ایڈیشنل ڈائریکٹر میڈیسن کو بھی ارسال کی جائیں۔