حکومت بلوچستان کا پبلک ٹرانسپورٹ بحال نہ کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 19 مئ 2020

ای میل

خیبرپختونخوا اور پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ بحال کی گئی تھی—فائل فوٹو: ڈان
خیبرپختونخوا اور پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ بحال کی گئی تھی—فائل فوٹو: ڈان

حکومت بلوچستان نے صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت نے نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ بحال نہ کرنے کا فیصلہ کیا بلکہ ٹرین میں لوگوں کے ٹرینوں میں سفر کی حوصلہ شکنی کی تاکہ وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ روکا جاسکے۔

اس حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال الیانی کی صدارت میں ایک اجلاس ہوا جس میں ٹرانسپورٹ اور ریل سروس کی بحالی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ بغیر ایس او پیز کے ٹرانسپورٹ کی بحالی صوبے کے گاؤں اور دوردراز علاقوں میں کووڈ 19 پھیلنے کا باعث بنے گی۔

مزید پڑھیں: حکومت سندھ عید کی تعطیلات کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ چلانے پر رضامند

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں انٹر سٹی اور انٹر پروونشل پبلک ٹرانسپورٹ بحال نہیں کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے عوام سے سفر نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کے لوگوں کو یہاں سے باہر نہیں جانا چاہیے جبکہ دیگر علاقوں سے لوگوں کو بھی صوبائی دارالحکومت نہیں آنا چاہیے کیونکہ کوئٹہ میں متاثرہ لوگوں کی تعداد زیادہے ہے جو باہر سے آنے والے دیگر لوگوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔

ادھر پاکستان ریلوے کے کوئٹہ میں موجود ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ بدھ سے کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی ایک ٹرین جعفر ایکسپریس بحال ہوجائے گی۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ ایکسپریس اور بولان ایکسپریس مزید نوٹس تک معطل رہیں گی۔

مذکورہ اجلاس میں صوبے میں کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے صحت کی سہولیات میں بہتری کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر بلوچستان کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر عمران گچکی نے اجلاس کو بتایا کہ مجموعی صورتحال کے مطابق بلوچستان میں 94 فیصد کیسز مقامی طور پر منتقلی کے ہیں جبکہ 6 فیصد کیسز بیرون ملک سے آئے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز تک صوبے میں 37 اموات ہوئیں جبکہ 454 افراد صحتیاب ہوئے، اس کے علاوہ شیخ خلیفہ بن زاید ہسپتال کوئٹہ میں 20، فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل ہسپتال میں 18 مریض زیر علاج ہیں جبکہ 2 ہزار 163 سیلف آئیسولیشن ہے۔

مزید یہ کہ 149 ڈاکٹرز اور 43 پیرا میڈکس بھی وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کورونا کیسز 43 ہزار 336، صحتیاب افراد کی تعداد 12 ہزار سے متجاوز

خیال رہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے باعث لگائے گئے جزوی لاک ڈاؤن اور مختلف پابندیوں میں 9 مئی سے نرمی کا اعلان کیا گیا تھا۔

جس کے بعد مختلف صوبوں اور علاقوں میں کاروباری مراکز کھل گئے تھے جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی کھولنے کا اعلان سامنے آیا تھا۔

تاہم اس معاملے پر سندھ میں ابتدائی طور پر انکار دیکھنے میں آیا تھا تاہم بعد ازاں وزیرٹرانسپورٹ سندھ نے کہا تھا کہ عید کے بعد صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر سفری سہولیات کو بحال کردیں گے۔