18ویں ترمیم کے خاتمے کی کوشش فیڈریشن پر حملہ ہوگا، ادارے پارلیمنٹ کا احترام کریں، زرداری

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2020

ای میل

سابق صدر آصف علی زرداری—فائل فوٹو: اے ایف پی
سابق صدر آصف علی زرداری—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے 18 ویں ترمیم ختم کرنے کی کسی بھی کوشش پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کا کوئی بھی قدم فیڈریشن پر حملہ ہوگا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے یہ بیان پیپلز پارٹی کی جانب سے (آج) اتوار کو پورے ملک میں منائے جانے والے 'یوم سیاہ' کی مناسبت سے سامنے آیا۔

واضح رہے کہ 5 جولائی 1977 کو فوجی آمر جنرل ضیا الحق کی جانب سے ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی کی منتخب حکومت کے خاتمے کو 43 برس مکمل ہونے پر یہ دن یوم سیاہ کے طور پر منایا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: مہنگائی اور بجٹ کے خلاف اپوزیشن متحد ہوجائے، بلاول بھٹو زرداری

پیپلزپارٹی کی جانب سے ہفتے کو اعلان کیا گیا تھا کہ اتوار کو 'یوم سیاہ' کی مناسبت سے ملک بھر میں پارٹی کی تمام رہائش گاہوں اور دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے۔

شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ ملک میں تمام اداروں کو پارلیمنٹ کا احترام لازمی کرنا چاہیے، 'پارلیمنٹ ایک اعلیٰ ترین ادارہ ہے اور یہ ہر ایک فرد اور ادارے کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا احترام کرے'۔

کچھ عرصے سے علیل جبکہ عوام اور میڈیا سے کئی ماہ سے دور آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ 18ویں ترمیم کو ختم کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں لیکن ان کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس ترمیم سے صوبوں کو خودمختاری ملی اور یہ وفاق اور وفاقی یونٹس کے درمیان ایک معاہدہ تھا، لہٰذا 'اس سے چھیڑ چھاڑ فیڈریشن پر حملے کے مترادف ہوگا'۔

انہوں نے کہا کہ اس ترمیم سے صوبوں کو خودمختاری ملی جو وفاق اور وفاق یونٹوں کے مابین ایک معاہدہ تھا اور "اس کی وجہ سے ہونے والا تنازع فیڈریشن پر حملے کے مترادف ہوگا"۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ 1973 کا آئین انسانی آزادی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ وفاقی یونٹس کو خودمختاری بھی فراہم کرتا ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے مقصد کے لیے ثابت قدم رہنے کے لیے پرعزم ہے اور وہ ان اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

اس موقع پر انہوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کے دوران اپنی زندگی کے 'سنہری دنوں' کو جیلوں میں گزارنے سمیت دیگر مشکلات کا سامنا کرنے پر بیظیر بھٹو اور پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

یوم سیاہ

دوسری جانب ایک علیحدہ پیغام میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری نے 5 جولائی 1977 کو ملک کی تاریخ کا 'سیاہ ترین اور سب سے زیادہ شرمناک دن' قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کی منتخب کردہ حکومت اور پہلے براہ راست منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ان عناصر کی جانب سے ہٹایا گیا جو آیا غائب ہوگئے یا شرمناک ترین زندگی گزار رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت سندھ 8 برسوں میں ایسا ہسپتال نہ بناسکی جہاں آصف زرداری کا علاج ہوسکے، مراد سعید

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 'جس طرح اس میں شامل تمام کرداروں کی قسمت کے واقعات نے ثابت کردیا کہ جرم اور گناہ کی کوئی میراث نہیں، پھر بھی وقت کے ہر ناجائز حکمران، جیسے کے آج کی کٹھ پتلی حکومت اس عالمگیر حقیقت کو سمجھنے اور تسلیم کرنے میں ناکام رہی ہے'۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ 5 جولائی 1977 تو جمہوریت کو لپیٹ دیا گیا، تمام شہری حقوق معطل کردیے گئے، ترقیاتی عمل روک دیا گی اور تمام سمتوں میں آمرانہ عمل کو اپنایا گیا۔