وفاق المدارس کا 'حکومتی اجازت' سے طلبہ کے امتحانات لینے کا اعلان

05 جولائ 2020

ای میل

وفاق المدارس کا مؤقف ہے کہ امتحانات میں سماجی فاصلہ برقرار رکھا جاسکتا ہے —فائل فوٹو: اے ایف پی
وفاق المدارس کا مؤقف ہے کہ امتحانات میں سماجی فاصلہ برقرار رکھا جاسکتا ہے —فائل فوٹو: اے ایف پی

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی جانب سے 11 جولائی سے ملک بھر میں موجود مدارس میں طلبہ کے امتحانات لینے کا اعلان کردیا گیا۔

خیال رہے کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن سے قبل ہی تعلیمی ادارے و مدارس کو بند کردیا گیا تھا جبکہ بعد ازاں حکومت نے انٹر تک کے طلبہ کو پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تاہم اب ملک میں مدارس کے ایک بہت بڑے نیٹ ورک کی تنظیم وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے ان سے منسلک مدارس میں نہ صرف طلبہ کے امتحانات لینے کا اعلان کردیا بلکہ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس حوالے سے حکومت کی اجازت حاصل کرلی گئی ہے۔

علاوہ ازیں وفاق المدارس کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا کہ عیدالاضحیٰ سے قبل امتحانات کا سلسلہ مکمل کرکے عید کے بعد تدریسی عمل کے آغاز کے لیے مشاورت جاری ہے۔

مزید پڑھیں: مدارس کا طلبہ کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار

عربی خبررساں ادارے اردو نیوز کی ایک رپوٹ کے مطابق کراچی میں وفاق المدارس العربیہ کے ترجمان طلحہ رحمانی نے بتایا کہ مذکورہ فیصلہ وفاقی حکومت کی مشاورت کے بعد کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ وفاق المدارس کے تحت محدود پیمارے پر امتحانات منعقد کیے جاتے ہیں لہٰذا اس دوران ضابطہ کار (یعنی حکومت کے بنائے گئے ایس او پیز) پر عملدرآمد باآسانی ہوتا ہے۔

امتحانات کے حوالے سے بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر طلبہ کو ہال یا صحن میں فاصلے سے بٹھایا جاتا ہے اور یہ عمل سماجی فاصلہ قائم رکھنے کے مطابق ہوتا ہے۔

حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کے طلبہ کو بنا امتحان پروموٹ کرنے سے متعلق انتظامیہ وفاق المدارس کا کہنا تھا کہ امتحانات کے بغیر طلبہ کو پروموٹ (ترقی) نہیں کر سکتے۔

دوسری جانب اس تمام صورتحال پر وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ مولانا حنیف جالندھری کا کہنا تھا کہ ان کے لیے طلبہ کا امتحان اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ بعد ازاں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) انہیں ایک ایکولینسی (مساوی) سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان سرٹیفکیٹ کے اجرا کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ طالب علم اپنی تمام اسناد کو پیش کرے، لہٰذا اگر ہم بغیر امتحان کے طلبہ کو ترقی دے دیں گے تو پھر انہیں سند کیسے جاری کریں گے اور جب سند نہیں ہوگی تو آئندہ برسوں میں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: مدارس کو قومی دھارے میں لانا اولین ترجیح ہے، وزیر اعظم

عید کے بعد تدریسی عمل سے متعلق مولانا حنیف جالندھری کا کہنا تھا کہ ابھی اس حوالے سے اجازت نہیں ملی تاہم وہ پرامید ہیں، ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب ملک میں دیگر شعبوں کو ضابطہ کار کے تحت کھول دیا گیا ہے تو پھر تدریس کا شعبہ بند کیوں رکھا جارہا ہے۔

جہاں ایک طرف حنیف جالندھری نے یہ بات کہی وہیں دوسری جانب وفاق المدارس کے ترجمان بھی یہی کہتے نظر آئے کہ بغیر امتحان طلبہ کو ترقی دینے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہے اور مذکورہ معاملہ کسی بھی وقت قانونی پیچیدگیاں اور مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

ادھر انتظامیہ وفاق المدارس کا یہ مؤقف تھا کہ کامیاب طلبہ کو جو اسناد دی جاتی ہیں اس میں یہ گواہی ہوتی ہے کہ طالب علم نے امتحان دیا، جس کے بعد متعلقہ مضامین میں کامیابی حاصل کی تاہم جب امتحان ہی نہیں ہوگا تو پھر یہ سند کیسے جاری کی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے جب سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی سے رابطہ کیا گیا تو ان کی وزارت کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ مدارس وفاقی حکومت کے تحت چلتے ہیں جبکہ 18ویں ترمیم میں شعبہ تعلیم صوبائی حکومتوں کو دینے کے باوجود مدارس کا انتظام اب بھی وفاق کے پاس ہے۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آتے ہی پہلے سندھ جبکہ بعد ازاں وفاقی سطح پر تعلیمی ادارے بند کردیے گئے تھے، جس میں بعد ازاں 15 جولائی تک توسیع کی گئی تھی، تاہم ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ بورڈ کے امتحانات دینے والے نویں سے 12ویں جماعت کے طلبہ کو بغیر امتحانات کے پروموٹ کیا جائے گا۔