برطانیہ کا 5 جی نیٹ ورکس سے ہواوے کو نکالنے پر غور

06 جولائ 2020

ای میل

— اے ایف پی فائل فوٹو
— اے ایف پی فائل فوٹو

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اپنے ملک میں 5 جی نیٹ ورکس سے ہواوے کے آلات کو نکالنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت کی جانب سے رواں سال ہی ہواوے کو فائیو جی نیٹ ورکس کی تشکیل کے عمل سے باہر کیا جاسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے نیشنل سائبر سیکیورتی سینٹر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں چینی کمپنی ناقابل اعتبار ٹیکنالوجی استعمال کرسکتی ہے، جس سے سیکیورٹی خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔

بورس جانسن نے رواں سال جنوری میں ہواوے کو برطانیہ میں 5 جی نیٹ ورک کی تشکیل کے لیے کردار دینے کی منظوری چند شرائط کے ساتھ دی تھی۔

اس منظوری میں ہواوے کو 5 جی نیٹ ورکس کے بنیادی حصوں کی تعمیر سے نکال دیا گیا تھا اور حساس جغرافیائی مقامات پر کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

برطانیہ کی جانب سے یہ منظوری اس وقت دی گئی تھی جب امریکا نے اپنے اتحادی ملک پر زور دیا تھا کہ وہ چینی کمپنی پر پابندی عائد کرے۔

خیال رہے کہ امریکا نے مئی 2019 میں ہواوے کو بلیک لسٹ کیا تھا اور امریکی صدر نے ایک ایگزیکٹیو آرڈر میں قومی سلامتی کے خدشات کو جواز بنا کر چینی کمپنی پر پابندی عائد کی تھی۔

اس پابندی کے دورانیے کو رواں سال مئی میں مزید ایک سال کے لیے بڑھا دیا گیا تھا۔

اب نئی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکام کی جانب سے 5 جی نیٹ ورکس میں استعمال ہونے والی ہواوے کٹس کو نکالنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، تاہم ابھی اس کے وقت کا تعین نہیں کیا جاسکا۔

اسی طرح ابھی نیشنل سیکیورٹی کونسل میں اس موضوع کو زیربحث لانے کی بھی کوئی تاریخ طے نہیں ہوسکی ہے۔

برطانیہ کے کلچر سیکرٹری اولیور داؤڈن نے اسکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا 'اگر امریکا پابندیوں کا نفاذ کرتا ہے، جو وہ لگا چکا ہے، تو ہمارا ماننا ہے کہ اس سے ہواوے کے آلات کی پائیداری پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے، اگر پالیسی میں تبدیلی ضروری ہوئی تو ہم پارلیمان میں واضح بیان دیں گے کہ کیسے اور کب یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے'۔

بعد ازاں ایل بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہواوے کے حوالے سے بیان پارلیمان میں 22 جولائی سے پہلے دیا جائے گا۔