پاکستان میں پہلی وینٹی لیٹرز پیداواری سہولت کا افتتاح

اپ ڈیٹ 07 جولائ 2020

ای میل

وزیر اعظم عمران خان نے طبی آلات کی تیاری میں پاکستان کو خود انحصار کرنے کی سمت ایک اہم اقدام میں ملک کے پہلے وینٹیلیٹرز پیداواری سہولت کا افتتاح کردیا۔ فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی ٹوئٹر
وزیر اعظم عمران خان نے طبی آلات کی تیاری میں پاکستان کو خود انحصار کرنے کی سمت ایک اہم اقدام میں ملک کے پہلے وینٹیلیٹرز پیداواری سہولت کا افتتاح کردیا۔ فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی ٹوئٹر

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے طبی آلات کی تیاری میں پاکستان کو خود انحصار کرنے کی سمت کے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ملک کے پہلے وینٹیلیٹرز پیداواری سہولت کا افتتاح کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک علیحدہ پیش رفت میں وزیر اعظم نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں پاکستان میں کورونا وائرس سے متعلق سفری پابندیوں کا معاملہ اٹھایا اور ان پابندیوں کو واپس لینے میں ان سے تعاون کا مطالبہ کیا۔

عمران خان نے ہری پور میں نیشنل ریڈیو اور ٹیلی مواصلات کارپوریشن (این آر ٹی سی) میں وینٹیلیٹرز فیکٹری کا افتتاح کرنے کے بعد کہا کہ 'یہ ملک کے لیے ایک اہم کامیابی ہے اور اس کے لیے میں پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں'۔

مزید پڑھیں: بغیر علامات والے مریضوں پر عالمی ادارہ صحت نے مؤقف بدل لیا

انہوں نے کہا کہ اب حکومت کی توجہ صحت کے شعبے میں اصلاحات پر مرکوز ہوگی، 'اس وبائی مرض کے جواب میں اور معیشت کو تیز تر رکھتے ہوئے اسمارٹ لاک ڈاؤن کو اپنانے کے ہمارے طریقہ کار کو بڑے پیمانے پر تسلیم کیا گیا ہے اور اب ہماری توجہ صحت کی جامع اصلاحات پر مرکوز ہوگی'۔

وزیر اعظم نے این آر ٹی سی اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے مقامی سطح پر وینٹیلیٹرز پیدا کرنے کے اقدام کی تعریف کی۔

عمران خان نے کہا کہ ملک کو نئی ٹیکنالوجیز میں خود انحصار کرنے کی صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور حکومت نوجوانوں کی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اس طرح کے تمام اقدامات میں مدد فراہم کرے گی۔

بعد ازاں وزیر اعظم عمران خان نے این آر ٹی سی کے مختلف حصوں کا دورہ کیا۔

اس موقع پر وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری، وزیر برائے توانائی عمر ایوب، وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے کووڈ 19 ڈاکٹر فیصل سلطان اور این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل موجود تھے۔

این آر ٹی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر بریگیڈیئر توفیق احمد نے وزیر اعظم کو این آر ٹی سی کی تاریخ، تحقیق و ترقی کے شعبوں، این آر ٹی سی کی جانب سے فراہم کی جانے والی مصنوعات اور خدمات کے بارے میں آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ این آر ٹی سی مقامی طور پر ان آلات کے لیے مواصلاتی سازو سامان، الیکٹرو میڈیکل آلات اور ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر تیار کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس دماغی صحت کو کس طرح نقصان پہنچاتا ہے؟

علاوہ ازیں وزیر اعظم خان نے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادہانوم کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے دوران حکومت کی جانب سے پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بتایا۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری پریس ریلیز کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس حوالے سے حکومت کے اقدامات کی تعریف کی۔

عمران خان نے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں پاکستان اور دیگر ممالک کو فراہم کردہ تعاون کی تعریف کی۔

انہوں نے سائنسی اور ڈیٹا سے چلنے والی مداخلت کے ساتھ ساتھ صحت کی سہولیات میں تیزی سے بہتری کی پاکستان کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی جبکہ زندگی اور معاشی سرگرمیوں کے مابین توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے وبائی امراض کے پھیلاؤ میں کمی کے رجحان کے مثبت نتائج کے بارے میں بھی بتایا۔

انہوں نے ڈبلیو ایچ او سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان اور دوسرے ممالک پر کورونا وائرس سے متعلق سفری پابندیوں کو ختم کرنے اور غیر امتیازی سفر کے قواعد کے ڈیٹا سے چلنے والے نظام کی طرف کام کرنے کے لیے ممبر ممالک کو شامل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

عالمی ادارے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او ان وائرس سے متعلق سفری ہدایات پر کام کر رہا ہے تاکہ ان رہنما اصولوں کی روشنی میں بین الاقوامی برادری کو اپنے سفری فیصلے کرنے میں مدد ملے۔