عمران خان سے مولانا کے دھرنے پر دھاوا بولنے کا فیصلہ مؤخر کرایا، چوہدری شجاعت

اپ ڈیٹ 11 جولائ 2020

ای میل

عمران خان کو معاملات افہام و تفہیم سے چلانے کا مشورہ دیا، چوہدری شجاعت — فائل/فوٹو:ڈان
عمران خان کو معاملات افہام و تفہیم سے چلانے کا مشورہ دیا، چوہدری شجاعت — فائل/فوٹو:ڈان

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے کے حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز الہٰی کے مشورے پر وزیراعظم نے دھرنے پر دھاوا بولنے کا فیصلہ مؤخر کردیا۔

چوہدری شجاعت حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم سب کو تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور واقعات سے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن جب دھرنے کے لیے اسلام آباد آئے تو کچھ لوگ دھرنے پر دھاوا بولنے کے حامی تھے۔

مزید پڑھیں:مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد دھرنا ختم، نئے محاذ پر جانے کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے جاکر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں تھا اور سب ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے کہ آپ بات کریں، آپ بات کریں۔

رہنما مسلم لیگ (ق) نے کہا کہ چوہدری پرویز الہٰی حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن بھی نہیں تھے لیکن ان سے کہا گیا کہ وہ عمران خان سے بات کریں۔

چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الہٰی نے عمران خان سے ملاقات کی اور انہیں مشورہ دیا اور کہا کہ اگر تشدد شروع ہوا اور کوئی جانی نقصان ہوا تو الزام لینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز الہٰی نے عمران خان کو بتایا کہ وزیراعظم کو ہر چیز کا جواب دینا پڑے گا جس پر فیصلہ مؤخر کردیا گیا۔

دھرنے پر اپنی پارٹی کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے معاملے پر ہماری پارٹی پر الزام لگایا گیا حالانکہ معاملہ پرویز الہٰی کی باہمی سوچ پر عمل کرتے ہوئے افہام و تفہیم سے حل ہوا۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس وقت حالات کیا ہوں گے، ایک طرف پولیس تھی اور دوسری طرف مدارس کے طلبا مولانا فضل الرحمٰن کے حکم کا انتظار کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ان حالات میں بڑی دور اندیشی کا ثبوت دیا اور تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ مولوی صاحبان اور پولیس چند قدموں پر کھڑے تھے لیکن لڑائی نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:چوہدری برادران کی فضل الرحمٰن سے ملاقات،'حکومت اور اپوزیشن میں کوئی ڈیڈلاک نہیں'

مولانا فضل الرحمٰن کی پالیسی کو سراہتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے دھرنے کے سارے واقعے میں ایک گلاس تک نہیں ٹوٹا۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ عمران خان سے کہوں گا کہ مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کرنے کی کوشش کریں، ملکی بحران کو سب چیزیں بھول کر حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کا ردعمل

جے یو آئی (ف) نے چوہدری شجاعت کے بیان پر ردعمل میں ان سے پورا سچ بولنے کا مطالبہ کردیا۔

حافظ حسین احمد نے کہا کہ چوہدری شجاعت آدھی بات کرکے ہمیں لب کشائی پر مجبور نہ کریں، جے یو آئی سے مذاکرات کی جو امانت چوہدری برادران کے پاس ہے وہ اس سے قوم کو آگاہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری شجاعت نے سچ کا ایک حصہ بتایا ہے، وہ آدھی بات کرنے کے بجائے پورا سچ بتائیں۔

رہنما جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ہماری امانت کی کیا پوزیشن ہے چوہدری برادران بتائیں کیونکہ اپنی امانتیں خطرے میں نظر آرہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چوہدری برادران کو ہمارے پاس بھیجنے والے کوئی اور تھے کیونکہ حکومتی کمیٹی پرویز خٹک کی سرپرستی میں بنائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری برادران سے مذاکرات کے بعد ہی اپوزیشن کے رہنما جو پہلے ہی نیم دلی سے ہمارے ساتھ تھے مزید فاصلہ کرگئے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 'آزادی مارچ' کے سلسلے میں ملک بھر سے اپوزیشن جماعتوں بالخصوص جے یو آئی (ف) کے قافلے 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے تھے اور 13 روز تک جے یو آئی (ف) کی قیادت میں آزادی مارچ کے شرکا نے اسلام آباد کے ایچ 9 گراؤنڈ میں پڑاؤ کیا تھا۔

اس عرصے میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے تاہم مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کے استعفے اور نئے انتخابات کے معاملے کو لے کر ڈیڈ لاک برقرار رہا تھا۔

چوہدری پرویز الہٰی نے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقاتیں کی تھیں اور دونوں فریقین میں ثالثی کی بھی کوشش کی تھی۔

بعد ازاں 13 نومبر کو مولانا فضل الرحمٰن نے دھرنا ختم کرتے ہوئے پلان 'بی' کے تحت نئے محاذ پر جانے کا اعلان کردیا تھا۔

آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ دو ہفتوں سے قومی سطح کا اجتماع تسلسل سے ہوا، اب نئے محاذ پر جانے کا اعلان کر دیا گیا ہے، ہمارے جاں نثار اور عام شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں، ہماری قوت یہاں جمع ہے اور وہاں ہمارے ساتھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو کا انتظار ہے، ہم آج اسلام آباد سے روانہ ہوں گے اور جس طرح یہاں آئے ہیں اب اُسی طرح یہاں سے دوسرے محاذ پر جائیں گے۔

مزید پڑھیں: یہ بھی پڑھیں: دھرنے والوں کے ساتھ گزاری گئی ایک رات

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومتی اراکین کی جانب سے ایسے جملے کہے جارہے ہیں جو حوصلہ شکنی کا سبب بنیں، حکومتی حلقوں میں خیال تھا کہ اجتماع اٹھے گا تو حکومت کے لیے آسانیاں ہو جائیں گی لیکن اب صوبوں اور ضلعوں میں حکومت کی چولیں ہل گئی ہیں۔

'نواز شریف کو ملیحہ لودھی کے خلاف بغاوت کیس بنانے سے روکا'

مسلم لیگ (ق) کے صدر نے نواز شریف کے دور میں ان کی موجودگی میں کیے گئے فیصلے پر بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی ملیحہ لودھی کو بغاوت کے کیس میں گرفتار کرنے کا کہا تھا لیکن میں نے اختلاف کیا اور کہا کہ اقدام سے صحافی برادری اور عالمی برادری میں اچھا تاثر نہیں جائے گا۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ میں نے نواز شریف سے کہا کہ ملیحہ لودھی کی گرفتاری کی صورت میں نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔