سی اے اے کا پائلٹوں کو طیاروں میں تمباکو نوشی پر انتباہ

اپ ڈیٹ 11 جولائ 2020

ای میل

اگر اس معاملے کو رپورٹ نہ کیا گیا تو افراد کے خلاف انظباطی کارروائی کی جائے گی—تصویر: سول ایوی ایشن فیس بک پیج
اگر اس معاملے کو رپورٹ نہ کیا گیا تو افراد کے خلاف انظباطی کارروائی کی جائے گی—تصویر: سول ایوی ایشن فیس بک پیج

راولپنڈی: پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے طیاروں بالخصوص کیبن اور کاکپٹ میں عملے کے اراکین کے تمباکو نوشی کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام آپریٹرز (ایئرلائنز) کو قواعد و ضوابط کی پیروی اور عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر آف فلائٹ اسٹینڈرڈز نے اس بات کی نشاندہی کی کہ طیارے میں تمباکو نوشی ممنوع ہونے کی متعدد ہدایات کے باوجود یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے جو نہ صرف قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس اصول سے بھی صریح انکار ہے جس میں پاکستان میں رجسٹرڈ طیاروں میں ہر قسم کی تمباکو نوشی پر پابندی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ان قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر آرڈیننس کے تحت تعزیراتی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شاہین ایئر حادثہ: پائلٹ کے نشے میں ہونے کا انکشاف

سول ایوی ایشن نے آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ کاکپٹ عملے بشمول کیپٹن، فرسٹ آفیسر کو کاک پٹ میں تمباکو نوشی کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی کسی تیسرے فرد کو وہاں تمباکو نوشی کی اجازت ہے۔

ہدایت نامے میں کہا گیا کہ اگر کیپٹن کاکپٹ میں تمباکو نوشی کرے تو فرسٹ آفیسر جبکہ اگر فرسٹ آفیسر کرے تو کیپٹن اس کی شکایت کرے۔

سی اے اے کا کہنا تھا کہ اگر دونوں میں سے کسی نے بھی اس خلاف ورزی کی شکایت نہ کی تو دونوں کے خلاف سخت انظباتی کارروائی ہوگی جس میں ابتدائی طور پر جرمانہ کیا جائے گا تاہم خلاف ورزی دہرائے جانے کی صورت میں لائسنس کی توثیق اور معطلی پر عمل ہوگا۔

مزید پڑھیں: پاکستانی پائلٹ نے شراب نوشی کا الزام قبول کرلیا

سی اے اے نے مزید خبردار کیا کہ دورانِ پرواز یا گراؤنڈ پر تمباکو نوشی کے واقعے کو عملے کے اراکین (کاکپٹ اور کیبن) یا کوئی بھی گراؤنڈ اسٹاف جو خلاف ورزی ہوتے دیکھے اس کے لیے رپورٹ کرنا لازم ہے۔

مزید یہ کہ اگر اس معاملے کو رپورٹ نہ کیا گیا تو افراد کے خلاف انظباطی کارروائی کی جائے گی۔

تاہم جو افراد مذکورہ بالا خلاف ورزی کو رپورٹ کریں گے ان کے خلاف کوئی انظباطی یا انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

سی اے اے کا کہنا تھا کہ تمام آپریٹرز کو ایک مرتبہ پھر عملدرآمد یقینی بنانے کا ذہن نشین کروایا جارہا ہے، کاکپٹ میں تمباکو نوشی غیر صحت بخش رجحان ہے اور اسے ہر انتظامی سطح پر بھرپور طریقے سے روکنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایئرلائنز کو سگریٹ نوشی پر عائد پابندی پرعمل درآمد کی ہدایت

سی اے اے کا مزید کہنا تھا کہ ’تمام آپریٹرز سے درخواست کی جاتی ہے کہ کاپٹ میں تمباکو نوشی منع کے رجحان کو یقینی بنائیں اور جو اس واقعے کی شکایت کرے اسے مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل مارچ 2018 میں بھی سی اے اے نے پاکستان کی تمام ایئرلائنز کو دوران پرواز طیارے میں سگریٹ نوشی پر پابندی کو یقینی بنانے کی سختی سے ہدایت کی تھی۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے خبردار کیا تھا کہ دوران پرواز کاکپٹ کا عملہ سگریٹ نوشی میں ملوث پایا گیا تو اس کا لائسنس تین ماہ کے لیے معطل کردیا جائے گا اور دوسری مرتبہ غلطی کی صورت میں کاکپٹ عملے کا لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔