افسانہ: آسیب زدہ ماحول، خوفناک بارش اور محبوب کی ابھرتی یادیں

16 جولائ 2020

ای میل

ٹین کی پرچھتی پر گرتی موسلا دھار بوندیں اب ایک آسیب کے سائے کا گمان دے رہی تھیں۔ مسلسل کچے فرش پر گرتا ہوا پرنالہ زمیں میں ایک گڑھا کھودنے میں مصروف تھا۔

چھت کے کونوں سے جگہ جگہ بنتے سوراخوں سے بارش کے پانی کی دھاریں زمین کی طرف رینگتی قطاریں بنا رہی تھیں، بالکل ان یادوں کی طرح جو اس کے دل کے ہر کونے سے جگہ بناتی رینگتی ہر رکاوٹ توڑتی چلی آتی تھیں۔

وہ کونوں کی ہزار مرمت کرتی، سوراخوں پر بند باندھتی، ٹپکتی بوندوں کو برتن، بالٹی اور پراتوں میں سنبھالنے کی کوشش کرتی مگر اس کی قسمت میں ڈوبنا لکھا تھا۔ یادوں میں بھی اور بارش میں بھی رات بھر وہ ٹپکتی چھت کو سنبھالتی رہی تھی، کبھی کواڑ ڈھکتی، کبھی پرانی چادروں سے سوراخ بند کرتی مگر پانی اور یاد اپنی جگہ بنا ہی لیتے ہیں!

ایسی ہی ایک بارش اس کی یادوں میں جاگنے لگی جب اس کا برسنا عذاب نہیں تھا۔ جوانی کی صبح صادق سر پر تھی اور محبوب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھا۔ برستی بارش گرجتے بادل کا خوف پس پشت ڈالے وہ دونوں بارش میں بھیگتے گنگناتے ایک دوسرے پر چھینٹے اڑاتے پرے دھکیلتے اپنے کچے آنگن میں مون سون کی پہلی پھوار میں کھلکھلا رہے تھے۔

زندگی جب بے درد نہ تھی اور راستے بوجھل اور تقدیر کے کیچڑ سے لت پت نہ تھے۔ جب محض ایک دوسرے کا ساتھ ہی ہزار بدصورت حقیقتوں سے بڑھ کر تھا۔ گلیاں نکھری اور راستے سنور رہے تھے۔ ان کو خبر نہ تھی کہ کچھ لمحوں کی روشنی کے بعد تاریک رات مقدر ٹھہرے گی!

مزید پڑھیے: افسانہ: نالہ لئی میں بہتے خواب

آسماں پر لپکی خوفناک گرج نے اسے خوفزدہ کردیا۔ وہ بستر پر چادر میں دبک کر رہ گئی۔ وہ جو کالی رات میں کتوں کے بھونکنے سے ڈر جاتی تھی اب اندھیری رات کی گرج چمک میں بچوں کو لپیٹے بیٹھی کانپتی تھی۔

باہر برستی بارش کچھ اور تیز ہوگئی تھی اور گلی میں روشنی کرتی بتیاں بھی بجلی کے تعطل کے باعث بجھ گئی تھیں۔ اندھیرے میں گرج چمک کا شور ماحول کو اور بھی ہولناک بنا رہا تھا۔ ہر لپک پر لگتا تھا کہ یہ بجلی اس کی ٹین کی چھت پر ہی گرنے والی ہے مگر نہیں، وہ ہر بار بچ جاتی تھی۔ اس کا انجام اور آرام ابھی مقدر نہ ہوا تھا۔

ابھی ان طوفانوں کو سر پر سہنا باقی تھا۔ وہ بستر پر بچوں کے قریب تر کھسکتی گئی۔ شکر ہے کہ جب اندھیری راتوں میں خوف سے کانپتی اکیلی ماؤں کے دل منہ کو آتے ہوں تو بھی بچے بہرحال بے فکری سے سو ہی جاتے ہیں۔ شکر ہے کہ ماؤں پر ٹوٹی قیامت سے بچے انجان رہتے ہیں۔ ہر آفت اور قیامت کے شور سے بے خبر ہوکر بچے سو رہے تھے۔

بہت دیر سے اسے پیاس لگی تھی۔ ہر دیوار سے ٹپکتے پانی اور فرش پر پھیلے کیچڑ میں اس کے پاس پینے کو چند گھونٹ تک نہیں تھے۔ کمرے میں پینے کا پانی ختم تھا اور نیلا ٹینک صحن کے دوسرے کونے میں اندھیری رات کے بھوت کی طرح ہولناکیوں میں گھرا تھا۔ دونوں کے بیچ بادوباراں اور گرج چمک کا طوفان خیمے گاڑے بیٹھا تھا۔ ایسے موسم میں وہ ڈر کر اس سے لپٹ جاتی تھی۔

جب تک بادل گرجتے رہتے اور بجلی چمکتی رہتی وہ اس کے بازو میں سر اور منہ چھپائے آنکھیں میچے دبکی رہتی تھی۔ 'کچھ نہیں ہوتا!'، وہ یہی جملہ کہتا تھا جب بھی اس کے ساتھ ہاتھ تھامے آدھی رات کو پانی لینے باہر جاتا۔

اسے کیا خبر کہ جب بادل گرجتے ہیں اور عورت کے سر پر چھت سا کوئی سایہ نہیں ہوتا تو کیا کچھ ہوجاتا ہے۔ جب چھت ٹپکے اور اسے مضبوط کرنے والا کوئی نہ ہو تو سمجھنا مشکل نہیں کہ پریشانی کیسی ہوتی ہے۔ عفریت نما اس معاشرے میں شاید مرد ہی گھر کی اصلی چھت ہے!

مزید پڑھیے: افسانہ: کھڑکی سے جھانکتی زندگی

اس کے قریب ہی چارپائی کے پائے کے ساتھ کلمہ شہادت پڑھتا زندگی کا سکھ چین بھی اُٹھ گیا تھا۔ کندھوں پر وہ ایسا رخصت ہوا کہ گھر کی چھت، چادر، چار دیواری سب کے سب ساتھ لے گیا تھا۔ جوان بیوہ!

’ساری عمر بیوگی جینی پڑے گی‘، دلاسے تھے کہ تنبیہات؟ ترس تھا کہ ہدایات! وہ سمجھ نہیں پاتی تھی مگر ڈر کر سفید چادر کا مقدر اس نے اپنے اور بچوں کے گرد کس کر لپیٹ لیا تھا۔ بس! اب دنیا میں اس کے لیے اور کوئی سہارا نہیں تھا۔ نظریں جھکا کر ملنے والے نظر اٹھا کر بولنے لگے تھے اور محض 30 برسوں میں ہی اسے اپنی ملائم، مدھر آواز روز بروز کھردری، بدھی اور تلخ کرنی پڑگئی تھی۔

ٹین زور زور سے بجنے لگا، ہواؤں کا شور کھڑکیاں دروازے دھکیلنے کی کوشش کرنے لگا۔ صحن میں گلی سے گندا پانی بہہ کر زور و شور سے اندر آنے لگا تھا۔ ایسے جیسے آج اس گھر کو ڈبو کر چھوڑے گا، 'بارش رکے گی، صبح ہوگی، ایک دن یہ قیامت کی رات بھی گزر جائے گی'، اس کے سوکھے لب اور تر بتر دل ایک ہی تسبیح کو مسلسل ورد کرنے لگے تھے۔

'میرے گھر والے ہیں ناں تمہیں سنبھالنے کو'، جانے والے کو کس قدر یقین تھا۔ اگر جو ایک بار پلٹ کر دیکھ لیتا تو ساری عمر قبر میں بھی سکون سے سو نہیں پاتا۔ وہ جن کے پاؤں زمیں پر رکھنے نہیں دیتا تھا ان جگر گوشوں کو اس ٹپکتی چھت کے نیچے ننگی چارپائی پر سوتے دیکھ لیتا تو کلیجہ پھٹ جاتا۔ بازوؤں میں چھپ کر سونے والی بیوی کو ایسی خوفناک رات میں اندھیرے شہر کی کالی گلیوں میں لرزتے دیکھتا تو دنیا، کائنات اور ہر وجود سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منکر ہوجاتا! گھر والے اس کی دی دیواریں تک اکھاڑ کر لے گئے تھے۔

گھر والوں کے لیے بیٹے کی ہر چیز قیمتی تھی، سامان کپڑے، جوتے سے لے کر موٹر سائیکل تک، بس بچے اور بیوی ہی بیکار تھے ان کے لیے جن کا کسی پر ذمہ نہ تھا، جن کا کسی پر حق نہ تھا۔

مزید پڑھیے: افسانہ: زرد شام

سوائے بچوں کے کوئی ایسی نشانی نہیں تھی جو اس کے پاس ہونے کے احساس کو زندہ کرسکتی ہو، کوئی کپڑا، کوئی جوتا جو سینے سے لگا کر وہ اپنے خوف اور اذیت کو کم کرسکتی یا سر پر مار کر اذیت ناک خوف سے نجات ہی پاسکے یا جس کی رسی میں لٹک کر وہ زندگی کی اس آزمائش سے ہی نکل سکے۔

جہاں جینا مشکل اور مرنا آسان ہوجائے، وہ آج کل ہر دم ایسے ہی ایک موڑ پر رہتی تھی، اگر جو یہ 2 بچوں کی جانیں اس کی صورت نہ تکتی ہوتیں تو اب تک وہ کسی کپڑے کا پھندا گلے میں ڈال کر خود کو لٹکا چکی ہوتی۔

پانی اب بستر تک پہنچنے لگا تھا۔ اس نے اٹھ کر چارپائیوں کو آہستہ آہستہ دھکیلتے ہوئے دیوار سے دُور کیا تھا۔ بچے سوئے ہیں۔ کم سے کم بچوں کو تو سوئے ہی رہنا چاہیے۔ اس کی کوشش تھی کہ اس قیامت سی آزمائش میں بچوں کو محفوظ رکھا جائے۔

بیوگی شروع ہوتے ہی لوگوں کی صورتیں بدل گئی تھیں۔ مردوں کی آنکھ میں چمک اور عورتوں کی آنکھوں میں خوف اتر آیا تھا۔ کچھ لوگ اس کی طرف جھکنے اور کچھ پیچھے ہٹنے لگے تو اس نے جانا کہ ملکیت ہونا بھی کتنی بڑی نعمت ہے۔ وہ ملکیت نہ رہی تھی۔ ماں باپ نے اسے آسرا دیا، چھت دے دی، مگر ماں باپ جواں اولاد کے ساتھ کتنے برس جی سکتے ہیں بھلا!

بارش کا راگ اب ژالہ باری کے شور میں بدل گیا تھا۔ پیاس تھی کہ نہ جو بجھتی تھی اور نہ دبتی تھی۔ گھر کی چھت اور دیواریں یوں گونجنے لگی تھیں جیسے ہزاروں لوگ ہاتھوں میں پتھر اٹھائے اسے سنگسار کرنے پر تُلے ہوں۔

وہ بچوں اور خود پر مقدس کلمات کا مسلسل دم کر کرکے تھک چکی تھی۔ جو عمر بھر کے ساتھ کا وعدہ لے کر آیا تھا مگر عمر بھر کے لیے اسے تنہا چھوڑ گیا تھا۔

مزید پڑھیے: ’اگر میں نے بچوں کو بتادیا کہ میں جوکر ہوں تو وہ مجھ سے نفرت کریں گے‘

اور کتنا ڈر اور کتنا خوف!

وہ اپنے خوف کی شدت سے تھک گئی۔ گلاس ٹٹولتی وہ بستر سے اُتری۔ ٹوٹی جوتی پانی کے ساتھ بہہ کر کسی کونے میں جا پھنسی تھی۔ چھپ چھپ پانی میں دیوار پر ہتھیلیاں رکھتے ہوئے، ننگے پاؤں چلتی لرزتی کانپتی وہ لکڑی کے دروازے تک پہنچی، اور خوف سے سفید چہرے نے دروازہ کھول دیا۔

دروازہ کھلتے ہیں پانی تیزی سے کمرے کی طرف لپکنے لگا۔ تاریک آنگن بجلی کی کوند اور گرج سے گونج اٹھا۔ موٹے موٹے اولے در و دیوار کو توڑنے پر بضد تھے۔ اتنا شور تھا کہ وہ خود کو بھی سن نہ پاتی تھی۔ برستی بارش اور کڑکتی بجلی میں وہ پانی کے نیلے ڈرم تک پہنچی تو اس نے جانا کہ پانی سے بھری اس کی ساری کائنات میں وہ ایک ڈرم خالی تھا۔