فوجی عدالتوں کے فیصلے پر نظرثانی کا آرڈیننس کلبھوشن کیلئے سہولت ہے، اپوزیشن

اپ ڈیٹ 15 جولائ 2020

ای میل

—فائل/فوٹو:ڈان
—فائل/فوٹو:ڈان

سینیٹ میں سابق چیئرمین رضا ربانی سمیت اپوزیشن کے دیگر اراکین نے فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست سے متعلق آرڈینس پر احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے وضاحت کا مطالبہ کردیا۔

سینیٹ میں اپوزیشن نے آرڈیننس کو بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' کے گرفتار جاسوس کلبھوشن یادیو کے لیے ایک سہولت قرار دیتے ہوئے حکومت سے وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیں:کلبھوشن یادیو نے سزا پر نظرِ ثانی کی اپیل دائر کرنے سے انکار کردیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ رات کے اندھیرے میں ایک آرڈیننس جاری کیا گیا، بین الاقوامی عدالت انصاف نظر ثانی اور از سر نو غور سے متعلق آرڈینس 20 مئی کو جاری ہوا۔

انہوں نے کہا کہ آرڈینس کے مطابق کوئی غیر ملکی شہری، یا مشن کا کوئی شخص فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی یا دوبارہ غور کی درخواست آرڈینس اجرا کے 60 دن کی اندر ہائی کورٹ میں دائر کر سکتا ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ جس کشمیریوں نے یوم شہدا منایا تھا اسی دن دفترخارجہ نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ واہگہ کے ذریعے کھولنے سے متعلق اعلان کیا۔

رضا ربانی نے چاہ بہار معاہدے سے متعلق پارلیمان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

خیال رہے کہ 8 جولائی کو ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان نے بتایا تھا کہ پاکستان میں گرفتار اور سزا یافتہ بھارت کی خفیہ ایجنسی 'را' کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو نے اپنی سزا کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل دائر کرنے سے انکار کردیا ہے اور اس کے بجائے انہوں نے اپنی زیر التوا رحم کی اپیل پر جواب کے انتظار کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں جو کیس پاکستان نے جیتا تھا اس کے فیصلے کے اہم نکات میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ویانا کنونشن برائے قونصلر روابط کی دفعہ 36 کے تحت کلبھوشن یادیو کو ان کے حقوق کے بارے میں بتایا جائے۔

احمد عرفان نے بتایا تھا کہ فیصلے میں یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ بھارتی قونصل کے افسران کو کلبھوشن یادیو سے بات چیت کرنے کی اجازت اور قونصلر رسائی دی جائے تا کہ وہ ان سے ملاقات کریں اور ان کے لیے قانونی نمائندگی کا بندوبست کریں۔

یہ بھی پڑھیں: کلبھوشن کیس، کب کیا ہوا؟

ان کا کہنا تھا کہ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ کلبھوشن کیس پر مؤثر نظر ثانی کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں جس میں اگر ضرورت پڑے تو قانون سازی کا نفاذ بھی شامل ہے اور جب تک مؤثر نظرِ ثانی اور دوبارہ غور مکمل نہ ہوجائے اس وقت تک پھانسی کی سزا کو روک دیا جائے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ حکومت پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

حکومت پاکستان کے اہم اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آئی سی جے فیصلے کے فوراً بعد کلبھوشن یادیو کو ویانا کنویشن کی دفعہ 36 کے تحت قونصلر رسائی کے ان کے حق کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ پاکستان نے را کے ایجنٹ کمانڈرکلبھوشن یادیو کی سزا پر نظرِ ثانی اور دوبارہ غور تک کے لیے روک دیا اور نظرِ ثانی اور دوبارہ غور کے لیے پاکستان نے اپنے موجودہ قوانین کا جائزہ لیا تاکہ ویانا کنوینشن کے آرٹیکل 36 کے تحت مناسب طریقے سے نظرِ ثانی اور غور کیا جاسکے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حالانکہ پاکستان کا قانون نظرِ ثانی کا حق فراہم کرتا ہے لیکن عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر صحیح طور سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے 28 مئی کو ’انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ریویو اینڈ ری کنسیڈریشن آرڈینسس 2020‘ نافذ کیا۔

اس آرٹیننس کے تحت 60 روز میں ایک درخواست کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نظرِ ثانی اور دوبارہ غور کی اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے کلبھوشن یادیو کیس میں بھارتی وکیل کے بے بنیاد الزامات مسترد کردیے

انہوں نے مزید بتایا کہ آرڈیننس کے سیکشن 20 کے تحت کلبھوشن یادیو بذات خود، قانونی اختیار رکھنے والے نمائندے یا بھارتی ہائی کمیشن کے قونصلر اہلکار کے ذریعے نظرِ ثانی اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ 17 جون 2020 کو کلبھوشن یادیو کو ان کی سزا پر نظرِ ثانی اور دوبار غور کی اپیل دائر کرنے کی پیش کش کی گئی اور پاکستان نے را ایجنٹ کے لیے قانونی نمائندگی کا انتظام کرنے کی بھی پیش کش کی۔

انہوں نے بتایا کہ کلبھوشن یادیو نے اپنے قانونی حق کو استعمال کرتے ہوئے سزا پر نظرِ ثانی اور دوبارہ غور کے لیے اپیل دائر کرنے سے انکار کردیا اور اس کے بجائے زیر التوا رحم کی اپیل پر جواب کے انتظار کا انتخاب کیا۔

احمد عرفان کا کہنا تھا کہ پاکستان بارہا بھارتی ہائی کمیشن کو کلبھوشن یادیو کی سزا پر نظرثانی اور اس پر غور و فکر کا عمل شروع کرنے کی دعوت دے چکا ہے۔