پاکستان نے کلبھوشن یادیو کیس میں بھارتی وکیل کے بے بنیاد الزامات مسترد کردیے

اپ ڈیٹ 10 مئ 2020

ای میل

دفتر خارجہ کے مطابق کلبھوشن یادیو سے متعلق پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر مکمل طور پر عمل کیا  ─ فائل فوٹو: ڈان نیوز
دفتر خارجہ کے مطابق کلبھوشن یادیو سے متعلق پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر مکمل طور پر عمل کیا ─ فائل فوٹو: ڈان نیوز

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستان، کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کے وکیل ہریش سالوے کی جانب سے لگائے گئے بے بنیاد اور غلط الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

خیال رہے کہ 3 مئی کو ایک آن لائن لیکچر کے دوران عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں بھارت کی نمائندگی کرنے والے وکیل ہریش سالوے نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کیس سے متعلق آئی سی جے کے فیصلے کو لے کر چلنے، اس پر دوبارہ جائزے اور غور کرنے کے حوالے سے بھارت کے سوالوں پر جواب دینے سے انکار کردیا۔

دوسری جانب ٹریبیون انڈیا کے مطابق ہریش سالوے نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو 4 سے 5 خط لکھے ہیں لیکن وہ صرف انکار کرتے رہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم اس مقام پر آگئے ہیں جہاں ہمیں اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں نتیجہ خیز ہدایات کے لیے دوبارہ آئی سی جے سے رجوع کرنا چاہیے یا نہیں کیونکہ پاکستان آگے نہیں بڑھا۔

ہریش سالوے نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو 'بہت دیر' سے قونصلر رسائی دی اور بھارت سے کیس کی تفصیلات شیئر کرنے سے انکار کردیا۔

مزید پڑھیں: گرفتار جاسوس کلبھوشن یادیو سے بھارتی قونصلر کی دو گھنٹے ملاقات

بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے فیصلے پر مکمل طور پر عمل کیا ہے۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے بھارت کو قونصلر رسائی دی تھی اور آئی سی جے کے فیصلے کی ہدایات کے مطابق اس کیس معاملے کے مؤثر جائزے اور اس پر غور کے اقدامات پر عملدرآمد کررہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارتی وکیل کے بیانات 'افسوسناک اور حقائق کی غلط ترجمانی' تھے، اس میں مزید کہا گیا کہ پاکستان نے اپنی تمام ٖبین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس 17 جولائی کو عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کلبھوشن یادیو کیس فیصلہ: ’پاکستان کیلئے کم بھارت کیلئے زیادہ بُرا ہے‘

عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کو پاکستانی فوجی عدالت کی جانب سے دیا جانے والا سزائے موت کا فیصلہ منسوخ اور حوالگی کی بھارتی استدعا بھی مسترد کردی تھی جبکہ حسین مبارک پٹیل کے نام سے کلبھوشن کے دوسرے پاسپورٹ کو بھی اصلی قرار دیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پاکستان کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے جس کے بعد پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے کا اعلان کیا تھا۔

بعدازاں 2 ستمبر 2019 کو پاکستان کی جانب سے زیر حراست بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو ویانا کنونشن اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے تحت قونصلر رسائی دے دی گئی تھی اور یہ ملاقات دو گھنٹوں تک جاری رہی تھی۔

کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور عالمی عدالت میں مقدمہ

یاد رہے کہ ’را‘ کے لیے کام کرنے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ کہ انہیں ’را‘ کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

کلبھوشن نے یہ بھی کہا تھا کہ 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد 'را' کے لیے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی جس میں اس نے اعتراف کیا تھا کہ اس کا پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھا۔

بعدازاں اپریل 2017 کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کو فوجی عدالت نے پاکستان کی جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا تھا، جس کی توثیق بعد میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی تھی۔

بھارت نے 9 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کی تھی، اور درخواست کی تھی کہ آئی سی جے پاکستان کو بھارتی جاسوس کو پھانسی دینے سے روکے جسے سماعت کیلئے مقرر کرلیا گیا۔

عالمی عدالت انصاف میں کی گئی درخواست میں بھارت نے پاکستان پر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا تھا کہ ویانا کنونشن کے مطابق جاسوسی کے الزام میں گرفتار شخص کو رسائی سے روکا نہیں جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی عدالت میں کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت مکمل

بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو ایک بے قصور تاجر ہے جسے ایران سے اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر زبردستی را ایجنٹ ہونے کا اعتراف کروایا گیا لیکن بھارت اغوا کیے جانے کے کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا تھا۔

13 دسمبر 2017 کو کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھارت کی شکایت پر پاکستان کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں جوابی یاد داشت جمع کرائی گئی تھی۔

جس کے بعد 18 مئی 2018 کو عالمی عدالت انصاف نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کلبھوشن کی پھانسی روکنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد دفتر خارجہ نے آگاہ کیا تھا کہ آئی سی جے کے حکم پر حکومتِ پاکستان نے متعلقہ اداروں کو اس پر عمل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

مزید پڑھیں: کلبھوشن کیس: پاکستان نے عالمی عدالت میں تحریری جواب جمع کرا دیا

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے کیے گئے دعووں پر پاکستان اور بھارت کی جانب سے 2، 2 جوابات داخل کروائے گئے تھے۔

تاہم بھارت یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا تھا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ سے کب اور کس طرح ریٹائر ہوا، کیونکہ پکڑے جانے کے وقت کلبھوشن کی عمر 47 برس تھی۔

علاوہ ازیں بھارت کو اس بات کی وضاحت دینے کی ضرورت تھی کہ کلبھوشن یادیو کے پاس جعلی شناخت کے ساتھ اصلی پاسپورٹ کیسے آیا، جس کو اس نے 17 مرتبہ بھارت آنے جانے کے لیے استعمال بھی کیا اور اس میں اس کا نام حسین مبارک پٹیل درج تھا۔

دسمبر 2017 میں پاکستان نے کلبھوشن کے لیے ان کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کے انتطامات کیے تھے۔

یہ بھی دیکھیں: کلبھوشن کیس: پاکستانی وکیل کے دلائل پر بھارتی وکیل پریشان

یہ ملاقات پاکستان کے دفترِ خارجہ میں ہوئی جہاں کسی بھی بھارتی سفیر یا اہلکار کو کلبھوشن کے اہلِ خانہ کے ساتھ آنے کی اجازت نہیں تھی۔

مذکورہ ملاقات کے دوران کلبھوشن یادیو نے اپنی اہلیہ اور والدہ کے سامنے بھی بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لیے جاسوسی کا اعتراف کیا تھا۔

گزشتہ سال 2019 میں 18 سے 22 فروری کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان کلبھوشن یادیو کیس کی عوامی سماعت مکمل ہوگئی تھی۔

بعد ازاں 17 جولائی 2019 کو عالمی عدالت نے کیس کا فیصلہ سنادیا تھا جس کے مطابق کلبھوشن یادیو کو پاکستانی فوجی عدالت کی جانب سے دیا جانے والا سزائے موت کا فیصلہ منسوخ اور کلبھوشن کی حوالگی کی بھارتی استدعا مسترد کردی گئی تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو ہدایت کی تھی کہ وہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے، جس پر پاکستان نے بھارتی جاسوس کو قونصلر رسائی فراہم کردی تھی۔