گوگل کی بھارتی کمپنی ریلائنس جیو میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری

15 جولائ 2020

ای میل

— اے ایف پی فائل فوٹو
— اے ایف پی فائل فوٹو

گوگل نے رواں ہفتے 10 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری بھارت میں کرنے کا اعلان کیا تھا اور اب امریکی کمپنی نے وہاں کے بڑے براڈ بینڈ، موبائل سروسز اور آن لائن کامرس پلیٹ فارم جیو کے 7 فیصد حصص ساڑھے 4 ارب ڈالرز میں خرید لیا ہے۔

گوگل کی جانب سے یہ اعلان بدھ کو کیا گیا اور فی الحال انتظامی منظوری کا انتظار ہے جو کہ 10 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا حصہ ہے جو اگلے 5 سے 7 سال تک کی جانی ہے۔

اس سے قبل رواں سال ہی فیس بک نے بھی جیو پلیٹ فارم کا 9.9 فیصد حصہ 5.7 ارب ڈالرز میں خریدا تھا۔

واضح رہے کہ جیو پلیٹ فارم ریلائنس انڈسٹریز کا حصہ ہے جس میں ٹیکنالوجی مصنوعات پر توجہ دی جاتی ہے۔

گوگل نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ جیو کے ساتھ مل کر سستے اسمارٹ فون کی تیاری پر کام کیا جائے گا۔

ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی کا اکہنا تھا کہ دونوں کمپنیاں مل کر کم قیمت انٹری لیول اینڈرائیڈ فون کو ڈیزائن کریں گی۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ منصوبہ گوگل کے کم قیمت اینڈرائیڈ پراجیکٹ اینڈرائیڈ گو کا حصہ ہوگا یا نہیں۔

گوگل کا کہنا تھا کہ اسے توقع پے کہ جیو پلیٹ فارم میں سرمایہ کاری سے اسمارٹ فونز کو زیادہ افراد تک پہنچانے میں مدد ملے گی، خاص طور پر بھارت میں جہاں بہت کم افراد کو انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز تک رسائی حاصل ہے۔

یہ سرمایہ کاری اس وقت ہوئی جب بھارت کی جانب سے چینی کمپنیوں پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

گزشتہ دنوں بھارتی حکومت نے ٹک ٹاک سمیت 59 چینی کمپنیوں پر بھی پابندی عائد کی تھی۔

خیال رہے کہ 13 جولائی کو گوگل کے چیف ایگزیکٹو (سی ای او) سندر پچائی نے بھارت میں کمپنی کے سالانہ ایونٹ کے دوران گوگل فار انڈیا ڈیجیٹائزیشن فنڈ کے قیام کا اعلان کیا جس کے تحت اگلے 5 سے 7 سال کے دوران یہ کمپنی 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔

سندر پچائی نے کہا کہ یہ فنڈ مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں، شراکت داری اور انفرااسٹرکچر کے لیے سرمایہ کاری کی دستیابی یقینی بنائے گا۔

کمپنی کی جانب سے 4 شعبوں پر توجہ دی جائے گی جس میں زبانوں پر مبنی سروسز، مقامی کمپنیوں کو ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بنانے میں مدد اور مقامی ضرورت کے مطابق سروسز کی فراہمی شامل ہیں۔

چوتھا شعبہ صحت، تعلیم اور زراعت وغیرہ کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے پر مبنی ہوگا۔

حالیہ کچھ ماہ کے دوران بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھارت میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے۔

فیس بک کی جانب سے ریلائنس جیو میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ ایپل نے 2021 میں اپنا پہلا ریٹیل اسٹور کھولنے کا اعلان کررکھا ہے۔

گوگل کی جانب سے اس سرمایہ کاری کا اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب بھارت کی جانب سے چین کی ٹیکنالوجی سروسز کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے اور متعدد ایپس پر پابندی عائد کی گئی جبکہ بھارتی حکومت نے آن لائن اسٹورز اور پلیٹ فارمز (آمیزون جیسی کمپنیاں) کے حوالے سے قوانین سخت کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

رواں سال مئی میں فنانشنل ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ گوگل کی جانب سے ووڈا فون آئیڈیا کے 5 فیصد حصص خریدنے پر غور کیا جارہا ہے جو بھارت کی دوسری بڑی ٹیلی کام کمپنی ہے۔

فنانشنل ٹائمز کے مطابق گوگل کی جانب سے ووڈا فون کے ساتھ جیو ریلائنس سے بھی مذاکرات ہورہے ہیں۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران فیس بک اور گوگل کی جانب سے بھارت پر بہت زیادہ توجہ دی گئی ہے اور مختلف پروگرامز پر کام شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آن لائن لانا ہے۔

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے اپریل میں کہا تھا کہ ان کی کمپنی جیو پلیٹ فارمز کے ساتھ کام کرکے چھوٹے کاروباری افراد اور اداروں کو آن لائن لانے میں مدد فراہم کرے گی اور دونوں کمپنیوں نے اپنی شراکت داری سے کام بھی شروع کردیا ہے۔