شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں 23 جولائی تک توسیع

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2020

ای میل

عدالت عالیہ میں جسٹس مسعود عابدی نقوی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل بینچ نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ فائل فوٹو:اے ایف پی
عدالت عالیہ میں جسٹس مسعود عابدی نقوی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل بینچ نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی عبوری درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کو انہیں 23 جولائی تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔

عدالت عالیہ میں جسٹس مسعود عابدی نقوی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت شہباز شریف سے اظہار یکجہتی کے لیے لیگی رہنما رانا ثنا اللہ اور عطا تاڑر بھی ہائیکورٹ پہنچے اور شہباز شریف کے وکلا کی عدم دستیابی کے باعث عبوری ضمانت میں توسیع کی استدعا کی۔

مزید پڑھیں: لاہور ہائی کورٹ: شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں 16 جولائی تک توسیع

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ 'شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ اور اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ اسلام آباد میں مصروف ہیں، ان کی مصروفیات کے باعث کیس کی سماعت ملتوی کی جائے'۔

اس موقع پر نیب استغاثہ کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے نیب کیسز جلد نہ نمٹانے پر از خود نوٹس لے رکھا ہے۔

دوران سماعت شہباز شریف خود روسٹرم پر آگئے اور بیان دیا کہ میں ڈاکٹروں کے مشورے کے خلاف عدالت کے احترام کی خاطر عدالت میں پیش ہوا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف فورمز پر میری بیماری کو سیاسی رنگ دیا گیا ہے۔

جسٹس مسعود عابد نقوی نے ان سے استفسار کیا کہ 'عدالت کے آخری آرڈر کے مطابق آپ کو حاضری سے استثنی بھی دیا گیا تھا' جس پر شہباز شریف نے جواب دیا کہ 'نیب حکام نے آخری بار پیشی میں تسلیم بھی کیا تھا ان کی تفتیش مکمل ہو گئی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں حلفیہ کہتا ہوں کہ نیب کے دفتر میں 7 لوگ بیٹھے تھے جنہوں نے تفتیش مکمل ہونے کا کہا نیب والے عدالت میں کچھ کہتے ہیں اور اپنے دفتر میں کچھ کہتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'میری ضمانت کی درخواست پر اللہ نے یا اس عدالت نے فیصلہ کرنا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ: شہباز شریف کو کورونا کا ٹیسٹ کروانے، رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم

عدالت میں نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر سید فیصل رضا بخاری کا کہنا تھا کہ 'شہباز شریف نے نیب میں گزشتہ پیشی پر تمام سوالات کا جواب دینے سے انکار کیا تھا'۔

بعد ازاں عدالت نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں 23 جولائی تک توسیع کرتے ہوئے نیب کو شہباز شریف کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔

شہباز شریف کی وطن واپسی کے بعد تحقیقات کا احوال

یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر مارچ کی 22 تاریخ کو لندن سے وطن واپس آئے تھے جس کے بعد نیب نے انہیں آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کے حوالے تحقیقات کے لیے متعدد مرتبہ طلب کیا۔

17 اور 22 اپریل کو شہباز شریف نے کورونا وائرس کے باعث صحت کو وجہ بناتے ہوئے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ نیب نے انہیں طبی ہدایات کے مطابق تمام تر احتیاطی تدابیر اپنانے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

بعدازاں شہباز شریف 4 مئی کو نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے جہاں ان سے ایک گھنٹہ 45 منٹ تک آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس سے متعلق سوالات کیے گئے تھے۔

نیب نے شہباز شریف کے جوابات کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے انہیں 2 جون کو دوبارہ طلب کیا تھا۔

شہباز شریف نے اپنے وکیل کے توسط سے مطلوبہ دستاویز قومی احتساب بیورو میں جمع کروادیے تھے تاہم نیب نے ان دستاویزات اور شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے انہیں ذاتی طور پر سوالات کا جواب دینے کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔

ان کے پیش نہ ہونے پر 2 جون کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار تھا جہاں 2 سے ڈھائی گھنٹے گزارنے کے بعد اسے خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔

چھاپے کے اگلے ہی روز شہباز شریف نے عبوری ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا کہ جس پر عدالت نے نیب کو 17 جون تک شہباز شریف کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔

ضمانت ملنے کے بعد 9 جون کو شہباز شریف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں نیب میں پیش ہوئے جہاں ان سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک تفتیش کی گئی۔

ان کی ضمانت کی مدت ختم ہونے سے ایک روز قبل نیب نے شہباز شریف کی ضمانت کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا تاہم 17 جون کو عبوری ضمانت میں توسیع کردی تھی جس میں بعد ازاں مزید توسیع بھی کی گئی تھی۔