مغوی صحافی مطیع اللہ کو بازیاب کرانا حکومت کا فرض ہے، شبلی فراز

اپ ڈیٹ 21 جولائ 2020
—فائل فوٹو: ڈان نیوز
—فائل فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے اسلام آباد سے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مطیع اللہ جان کو بازیاب کرائے۔

کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے بتایا کابینہ کا اجلاس ختم ہونے کے بعد مجھے مطیع اللہ جان کے لاپتا ہونے کی اطلاع تو فوراً وزیر داخلہ کو فون کیا لیکن وہ راستے میں تھے اور ان کے بھائی بہت بیمار ہیں۔

اس دوران بعض صحافیوں نے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے مبینہ طور پر لاپتا ہونے پر سینیٹرشبلی فراز کی پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا۔

بعدازاں ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ جلد از جلد یہ معلوم کیا جاسکے کہ وہ اس وقت کہاں پر ہیں تاکہ انہیں 'بازیاب' کرایا جا سکے۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ 'یہ حکومت کا فرض ہے کہ صحافی مطیع اللہ جان کو بازیاب کرایا جائے'۔

کابینہ نے ٹی وی لائسنس فیس میں اضافے کا معاملہ مؤخر کردیا

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ٹی وی لائسنس فیس میں اضافے کا معاملہ مؤخر کردیا۔

واضح رہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) نے صارفین کے بجلی کے بلز میں شامل ٹی وی لائسنس کی فیس میں اضافہ کر کے اپنی آمدن میں اضافہ کرنے کی تجویز کا یہ جواز دیا تھا کہ دنیا بھر میں سرکاری نشریاتی اداروں کو حکومت سپورٹ کرتی ہے تا کہ ان کے قومی بیانیے کی ترویج کی جائے اور اس وقت جو رقم وصول کی جارہی ہے وہ بہت معمولی ہے۔

مزیدپڑھیں: پی ٹی وی کا ٹی وی لائسنس فیس میں اضافے کا دفاع

جس کے بعد سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف سخت تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ کابینہ نے ٹی وی لائسنس فیس بڑھانے کا فیصلہ اگلے ہفتے تک مؤخر کردیا۔

انہوں نے کہا کہ آٹا کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں سے دریافت کیا اور آٹے کی قیمتوں میں توازان رکھنے کی ہدایت کی۔

شبلی فراز نے بتایا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ آٹے کی قیمت زیادہ نہ ہو، گندم کی فراہمی بروقت اور اس کی ترسیل میں کوئی رکاوٹیں نہ ہو، طلب اور رسد میں فرق کو ختم کرنے کے لیے نجی اور سرکاری ادارے درآمد کرسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گندم ذخیرہ اندوزوں کی حوصلہ شکنی کے لیے 4 لاکھ ٹن گندم کے آرڈر بھی ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تعمیراتی صنعت کے فروغ کیلئے قومی سطح کی کمیٹی بنا دی ہے، شبلی فراز

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں حکومت سندھ سے درخواست ہے کہ وہ گندم کی درآمد پر ڈیڑھ روپے کی ایکسائز ڈیوٹی کی چھوٹ دے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اسٹیل سمیت دیگر ادارے عظمت کے نشان ہیں، ماضی کی حکومتیں ان اداروں کو بہتر کرنے کی بجائے تباہی کی طرف لے گئیں۔

وفاقی وزیر نے ایجنڈے سے متعلق بتایا کہ کابینہ نے کیش مینجمنٹ اینڈ ٹریجریز اینڈ سنگل اکاؤنٹ رولز 2009 کی منظوری دی ہے جس کے تحت تمام وزارت، ڈویژن اور شعبے کا ایک اکاؤنٹ ہوگیا جس میں سے رقوم جاری کی جائیں گی۔

انہوں نے سنگل ٹریجری اکاؤنٹ کی منظوری کو بڑا اقدام قرار دیا۔

سینیٹر شبلی فراز نے بتایا کہ کابینہ نے انسداد منی لانڈرنگ سے متعلقہ قوانین میں ترمیم کے لیے مجوزہ بل 2020 کی بھی منظوری دی جس کے تحت منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی معاونت کی روک تھام کو مؤثر بنانا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ منی لانڈرنگ کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سود کی شرح میں اضافے سے سرکاری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری بھی بڑھ گئی، اسٹیٹ بینک

علاوہ ازیں وفاقی وزیر نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 اور کورٹ آف کرمنل پروسیجر 1898 میں بھی مجوزہ ترامیم کی منظوری دی گئی۔

انہوں نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ سستے مکانات کی فراہمی ملک کا بڑا مسئلہ ہے کیونکہ بینکس عام طورپر تعمیراتی صنعت کو اتنا قرضہ نہیں دیتے۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ تعمیراتی صنعت پورے ملک کی معیشت کو چلاسکتی ہے کیونکہ تعمیراتی صنعت سے 40 سے زیادہ صنعتیں جڑی ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'اس سے قبل پاکستان میں ایسا کوئی کام نہیں ہوا اس لیے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے آغاز میں غیرمعمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا'۔

تبصرے (0) بند ہیں