فواد عالم کا پراسرار معاملہ

اپ ڈیٹ 26 جولائ 2020

ای میل

مارچ 2020ء کے ابتدائی دن، قذافی اسٹیڈیم


فواد عالم قذافی اسٹیڈیم کے پریس باکس کے آگے سیمنٹ کے زینوں پر تنہا بیٹھے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جہاں لوگ اپنی ثقافت و تاریخ کے ان ہیروز کے مجسمے گرانے میں مصروف ہیں جنہوں نے دیگر کے ساتھ زیادتیاں کی تھیں، وہیں قومی فخر کی یادگار کو اب تک قذافی کے نام سے منسوب دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔

خیر اپنے وطن کی سرزمین پر بنے کرکٹ اسٹیڈیم کا نام متنازع شخصیت کے نام پر رکھنے پر آپ جو بھی خیالات رکھتے ہوں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ سیمنٹ کے بنے ان زینوں پر بیٹھے فواد عالم کے چہرے پر شاندار بیئرڈ آئل لگے بال خوب چمک رہے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا ایک اور میچ ختم ہوا ہے۔ دنیا بھر میں کھیلی جانے والی تمام ٹی20 لیگوں کی تاریخ میں ہار جیت کا سب سے بدترین ریکارڈ رکھنے والی ٹیم لاہور قلندر نے دفاعی چیمپیئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ابھی ابھی زیر کیا ہے۔

فواد عالم کسی بھی آن فیلڈ کرکٹ جنگ کا حصہ نہیں تھے۔ پی ایس ایل بہت پہلے ہی انہیں مسترد کرچکی ہے۔ پوری دنیا کی ٹی20 کرکٹ بھی انہیں مسترد کرچکی ہے اور انہوں نے 2018ء کے بعد سے دنیا میں کہیں بھی فرنچائز میچ نہیں کھیلا ہے۔

اب وہ بعد از میچ میزبانی کے گُر سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ میچ کے بعد کھلاڑیوں سے بمشکل 2 منٹ کا انٹرویو کرتے ہیں وہ بھی ایسے اسپانسر کے لیے جو ہمیں اب یاد بھی نہیں۔

کمپوزیشن بشکریہ سعد عارفی
کمپوزیشن بشکریہ سعد عارفی

رواں سال ہونے والے پی ایس ایل ٹورنامنٹ کے دوران میں نے چاہا فواد عالم کے بارے میں قریب سے جانا جائے، اس لیے میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔

وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ 'میں کیمرے کے سامنے آپ جیسی بہتری لانا چاہتا ہوں'۔

یاد رہے کہ یہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی کھلاڑی کہے کہ وہ مجھ سے کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ ایڈم گلکرسٹ نے بگ بیش لیگ کے میچوں میں کمنٹری کرنے کے بعد مجھ سے بذریعہ ٹوئیٹر فیڈ بیک مانگا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے وہ پیغام اپنے دوست کو دکھایا تھا تاکہ تسلی ہوجائے کہ کہیں کوئی شخص مجھ سے مذاق نہ کر رہا ہو۔

لاہور کی یہ سرد رات ہے۔ فواد کے اس تبصرے پر تو پہلے میں کچھ شرمایا اور پھر سوچنے لگا کہ کیا اس نے یہ بات بغیر سوچے سمجھے کہی ہے؟

میں نے جواب دیا کہ، 'اس حوالے سے مجھے بہترین مشورہ یہی دیا گیا تھا کہ اداکاری کی کلاسیں لی جائیں۔ ایک لینس کے ذریعے اَن دیکھے ناظرین کے آگے خود کو اچھا پیش کرنے میں یہ کلاسیں بہت زیادہ کارآمد ثابت ہوتی ہیں'۔ میں انہیں یہی مشورہ دے پایا۔ اب میں میڈیا کا کوئی ابھرتا چمکتا ستارہ تو نہیں ہوں۔ اس لیے میں ان باتوں کے بارے میں کیا جانوں؟

چند ماہ بعد فواد عالم پاکستانی ڈرامے میں جلوہ گر ہوں گے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس رات ہونے والی ہماری گفتگو کے غیر متوقع اثر نے ہی انہیں وہاں تک پہنچنے میں مدد کی ہوگی۔

ہم نے گفتگو کا سلسلہ جاری رکھا اور مزید چند منٹوں تک اپنے تجربات کا تبادلہ کرتے رہے۔ مجھے پی ایس ایل کے اس سیزن کی وجہ سے فواد عالم کو قریب سے جاننے کا موقع ملا تھا کیونکہ لیگ میچوں کے دوران ہم اکثر ایک دوسرے سے ٹکراتے رہتے تھے۔

وہ بہت پُرسکون اور عاجز طبیعت کے مالک ہیں۔ فٹنس اور سخت محنت پر ذرا بھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ ان کی کرکٹ کہانی پاکستانی قومی ٹیموں کے ساتھ بے غرض محبت کی کہانی ہے۔ مگر وہ نہ تو کسی پر انگلی اٹھاتے ہیں، نہ بہانوں کا سہارا لیتے ہیں اور نہ ہی دوسروں پر الزام تراشیاں کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے: فواد عالم کے ٹیم میں منتخب نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟

وہ شوخ مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں کہ، 'انشاء اللہ میں ایک بار پھر پاکستان کے لیے کھیلوں گا'۔ کئی دوسرے کھلاڑی جنہیں اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے وہ ایسے لمحے میں بڑے ہی مایوس و ناراض لہجے میں یہ بات کرتے۔

مگر فواد عالم دوسروں سے الگ ہیں۔


جون 2016، لاہور


فوجی کیمپ اختتام کو پہنچتا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ان پر تقریباً 100 ڈالر کا خرچہ کیا، جو کسی بھی طور پر معمولی بات نہیں۔

کوچ مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ عزت و احترام کے ساتھ ان کے اسکواڈ کی فٹنس کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ بریانی کھلاڑیوں کی پہنچ سے دُور رکھی جائے۔ زیادہ سے زیادہ وقت ورزش کو دیا جائے۔ مطلب یہ کہ ثقافتی تبدیلی مقصد ٹھہرا۔

31 کھلاڑیوں کو کیمپ میں بھیجا گیا۔ نصف اسکواڈ فٹنس ٹیسٹ پاس نہیں کرسکا البتہ فواد عالم، مصباح الحق اور یونس خان نے شاندار انداز میں یہ ٹیسٹ پاس کیے۔

ان میں سے 2 کھلاڑی انگلینڈ گئے اور اپنے پیچھے وہ لیگیسی چھوڑی جسے دنیائے کرکٹ کبھی بھلا نہیں پائے گی۔ یعنی سلیوٹ مارے گئے، پش اپس لگائے گئے، سنچریاں اور ڈبل سنچریاں داغی گئیں اور 2-2 سے برابر ہونے والی ٹیسٹ سیریز میزبان کے ہاتھوں سے نکل گئی۔

چند ماہ بعد پاکستان نے دنیا کی نمبر وَن ٹیسٹ ٹیم کا خطاب بھی حاصل کرلیا۔

فواد عالم کو ٹیم میں سلیکٹ نہیں کیا گیا اور ان کی جگہ افتحار احمد نے لی۔ اس حوالے سے پی سی بی کا باضابطہ مؤقف یہ تھا کہ افتخار احمد کی صورت میں ہمیں آف اسپن کا آپشن دستیاب تھا۔ بظاہر ایک بلے باز کے لیے پارٹ ٹائم آف اسپن کا ہنر بہت ہی اہمیت رکھتا ہے۔

ریکارڈ کے لحاظ سے فواد عالم کی فرسٹ کلاس باؤلنگ کا اسٹرائیک ریٹ جنوبی افریقی اسپنر پیٹ سمکوکس کی ٹیسٹ باؤلنگ کے اسٹرائیک ریٹ سے زیادہ بہتر ہے۔

جب میں نے سیدھا مکی آرتھر سے پوچھا کہ فواد عالم کو ٹیم میں کیوں شامل نہیں کیا گیا تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ ان کی تکنیک جمی اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ کا سامنا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ بظاہر تو ان کی تکنیک ورلڈ کلاس بھی نہیں کہی جاسکتی۔

اس بات کو ہضم کرنا مشکل تھا۔

مزید پڑھیے: فواد عالم، ایک ناقابلِ فراموش کردار

قائدِاعظم ٹرافی کی ابتدا میں فواد نے 56 کی اوسط سے رنز بنائے بلکہ فواد نے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں 56 سے زائد کی اوسط سے رنز بنائے ہیں۔ وہ اس فارمیٹ میں 12 ہزار سے زائد رنز بنا چکے ہیں۔ اعداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ فواد عالم اپنی ہر تیسری اننگ میں 50 سے زائد رنز اسکور کرتے ہیں۔

یہ تو کسی ورلڈ کلاس بلے باز کے اعداد ہی ہیں۔

میں سوچتا ہوں کہ مکی آرتھر پھر شیونرائن چندرپال، سائمن کیٹچ اور اسٹیو اسمتھ کی تکنیکوں پر کیا رائے رکھتے ہوں گے؟

سری لنکن ٹیم 2 میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کھیلنے دسمبر 2019ء میں پاکستان کے دورے پر آئی تھی۔

فواد عالم کو ایک بار پھر فرسٹ کلاس سیزن میں بہترین کارکردگی، ان کے صبر اور میڈیا کی بے تحاشا مثبت توجہ کی بنیاد پر ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔

لیکن پھر فواد عالم کو ایک بار پھر کوئی موقع نہیں ملا۔

میں نے فواد عالم سے پوچھا کہ کیا چیف سلیکٹر اور کوچ مصباح الحق نے انہیں نہ کھلانے کے لیے سلیکٹ کرنے پر کوئی وضاحت دی تھی؟

'نہیں۔ انہوں نے مجھے کچھ بھی نہیں بتایا۔ کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔ پتا نہیں کیوں؟'


جولائی 2020ء، برطانیہ


پاکستانی اسکواڈ انگلینڈ کی سرزمین پر قدم رکھ چکا ہے۔

ٹیم میں فواد عالم بھی شامل ہیں۔

انہیں سلیکٹ کیا گیا ہے اور ممکنہ طور پر وہ چھٹے نمبر پر کھیلیں گے کیونکہ کورونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر حارث سہیل نے دورے پر جانے سے انکار کردیا تھا۔

فواد عالم نے آخری بار 2009ء میں ٹیسٹ میچ کھیلا تھا۔

وہ اس وقت 23 برس کے تھے اور آج ان کی عمر 34 سال ہے۔

مزید پڑھیے: 'فولاد' عالم

کسی کو پتا نہیں کہ وہ اس بار کیسا کھیل پیش کریں گے؟ اگر سٹا حرام نہ ہوتا تو میں اپنے گھر کو داؤ پر لگا کر کہتا کہ سیریز میں زیادہ اسکور بنانے والے کھلاڑیوں کی صف میں فواد عالم بابر اعظم اور شان مسعود کو ٹکر دیتے نظر آئیں گے۔

بے فکر ہوکر یہ شرط لگائی جاسکتی ہے۔ فواد عالم ایک شائستہ، یک اسلوب رنز بنانے کی مشین ہے۔

ممکن ہے فواد عالم اگلی بار 6 برس بعد انگلینڈ کے دورے پر آئیں۔ پاکستانی کھلاڑیوں کو 40 برس کی عمر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

تسلی کے لیے مصباح، یونس یا آفریدی سے ہی پوچھ لیجیے۔

مستقبل میں شاید لارڈز کے میدان میں فواد عالم پش اپ کرتے نظر آرہے ہوں گے۔ شان مسعود پوری ٹیم کے آگے فوجی سلیوٹ کی سربراہی کر رہے ہوں گے۔ پاکستان پھر سے دنیا کی بہترین ٹیم کا خطاب حاصل کر رہا ہوگا۔

یاد رکھیے ہم یہاں پاکستانی کرکٹ کے بارے میں بات کر رہے ہیں اس لیے اس امکان سے مکمل طور پر انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

کیا آپ نے سوچ لیا تھا کہ فواد عالم کا بطور بین الاقوامی کرکٹر باب تمام ہوا؟

میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ یہ تو بس شروعات ہے۔


یہ مضمون 12 جولائی 2020ء کو ڈان اخبار کے ایؤس میگزین میں شائع ہوا۔