اب کون کرے گا راج؟ چین یا امریکا؟

29 جولائ 2020

ای میل

سینئر فوجی کمانڈروں کو جن ابتدائی باتوں کا درس دیا جاتا ہے ان میں ایک یہ بھی ہوتی ہے کہ کبھی بھی ایک ساتھ 2 محاذوں پر مت لڑو۔

ہٹلر اور نازیوں نے یہ سبق اس وقت سیکھا جب جرمن افواج نے مغرب میں جنگ میں مصروف ہونے کے باوجود سوویت یونین پر حملہ کردیا۔ اگرچہ سوویت یونین نے اپنے 2 کروڑ 50 لاکھ لوگ کھو دیے لیکن اس لڑائی نے جرمنوں کو کنگال کرکے رکھ دیا اور یوں ان کی شکست کی راہ ہموار ہوگئی۔

جرمنی کے معاملے میں تو نازی نظریات اور ہٹلر کے گھمنڈ نے فوجی ٹینکوں کو ماسکو کی طرف دھکیلا تھا، مگر آج 'امریکا کو دوبارہ عظیم' بنانے کے لیے ٹرمپ کے سیاسی منتر اور امریکی بالادستی کی خاطر دائیں بازو کے یقین نے ملک کو چین کے ساتھ بے معنی جھگڑا مول لینے پر مجبور کردیا ہے۔

ایسا نہیں کہ کچھ ہی دنوں میں جنگ کا باقاعدہ آغاز ہوجائے گا یا اس پورے معاملے میں چین بالکل معصوم ہے، مگر بنیادی نکتہ یہ ہے کہ امریکیوں کو ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنا غلبہ کھو دینے کا خوف ستائے جا رہا ہے، جس کا اندازہ ہواوے پر پابندی سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اس دوڑ میں خود کو آگے اور چین کو پیچھے رکھنے کے لیے امریکا اپنے فرمانبردار ممالک کو اپنی حمایت پر مجبور کرنے کے لیے اپنا سفارتی اثر و رسوخ استعمال کر رہا ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان کو اب ایران سے کوئی خطرہ کیوں نہیں؟

دوسری طرف چین نے امریکی دباؤ میں آکر سر خم کرنے سے انکار کردیا ہے اور اسی لیے تجارتی جنگ میں امریکی پابندیوں کا اب تک بھرپور انداز میں مقابلہ کیا ہے۔ مگر جنوبی بحیرہ چین کے حصوں پر چینی دعوؤں کی وجہ سے پورے خطے میں خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے اس وجہ سے اس نے ویتنام، میانمار اور فلپائن جیسے اپنے دوستوں کو کھودیا ہے۔ جنوبی کوریا اور جاپان اس وقت چین کو ایک نئے جوش وجذبے کے ساتھ متحرک دیکھ رہے ہیں جس کی وجہ سے ان ممالک نے اپنے دفاعی نظام پر نظرِثانی شروع کردی ہے۔

دوسری طرف دُور دراز علاقوں میں چین اور بھارت کی چٹانی سرحد پر ہونے والی حالیہ جھڑپوں سے ثابت ہوگیا ہے کہ دونوں ممالک فالتو زمین کے ٹکڑوں پر اپنا اپنا قبضہ جمانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ خوش قسمتی سے بیجنگ کا ہوش ٹھکانے آیا اور وہاں کی قیادت کو اندازہ ہوا کہ انہوں نے ایک ہی وقت میں کئی سارے محاذ کھول دیے ہیں اور بھارت کے ساتھ کھولا گیا محاذ ساکھ کو زیادہ ٹھیس پہنچائے بغیر پسِ پشت رکھا جاسکتا ہے۔

ڈینگ ژیاؤپنگ کی سربراہی میں جب چینی معیشت نے اپنے دروازے کھولنا شروع کیے تو ماؤ کے بعد آنے والی نئی قیادت کو اندازہ ہوا کہ چین اور امریکا کے مابین اقتصادی اور فوجی عدم توازن اتنا زیادہ ہے کہ ماؤ بیانیے کے باوجود اس کے ساتھ لڑائی مول نہیں لی جاسکتی۔ لہٰذا ان کی طویل المدت حکمتِ عملی یہ تھی کہ اقتصادی طاقت حاصل کی جائے کیونکہ اس طرح پھر جدید فوجی صلاحیت کے حصول کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

مزید پڑھیے: سرد جنگ کا آغاز ہوچکا، بس اعتراف باقی ہے

ژی جن پنگ کے عہدہ صدارت سنبھالنے تک چین کے بنیادی مقاصد قدرے معتدل تھے اور ان کا محور معیشت، جدید ٹیکنالوجی، جدید اسلحے اور ٹریننگ تھا۔ مگر ان کے بڑھتے بحری اور فضائی گشت نے ان کے ساحلوں پر آنے والے امریکی بیڑوں اور طیاروں کو آزمائش میں ڈالنا شروع کردیا تھا۔

اب ٹرمپ کے منتخب ہونے کے بعد اور ان کی جانب سے تجارتی معاملے پر طاقت کے مظاہرہ کے بعد ژی بھی ڈٹ گئے ہیں اور ڈیوٹی کے اضافے کے بدلے ڈیوٹی میں اضافے کا اعلان کیا گیا۔ تاہم چین کے ایغور مسلمانوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک اور ہانگ کانگ مظاہرین پر اس کے کریک ڈاؤن کے باعث امریکا کو چین مخالف محاذ کھڑا کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

یاد رہے کہ چین کے شہر ووہان سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور بیجنگ کی جانب سے مرض کے بارے میں ابتدائی معلومات کو سنجیدہ نہ لینے کے سبب بھی چین کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

چینی صدر ژی کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ تاخیر اور بہت زیادہ مہنگے قرضوں کے ساتھ ساتھ مقامی اور چینی سرمایہ کاروں کی مبیّنہ کرپٹ سرگرمیوں کے الزامات کی زد میں ہے۔ ان تمام عناصر نے مل کر چین کا تاثر خراب کیا ہے۔ ژی کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ٹرمپ کے رویے نے اس کڑواہٹ سے کسی حد تک توجہ ہٹا کر واشنگٹن کی طرف کردی ہے۔

مگر جہاں ایک طرف ژی جیانگ صوبے میں قریب 10 لاکھ ایغور مسلمانوں کو غیر انسانی حالات میں قید رکھنے کے خلاف مغرب میں احتجاجی مظاہرے کیے اور اداریے چھاپے جا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف مسلم دنیا شرمناک چپ سادھے ہوئے ہے۔ اگر یہی سلوک مغرب میں کسی مسلمانوں کے گروہ کے ساتھ روا رکھا جاتا تو شرط لگا لیجیے ہر روز مشتعل احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہوتے۔

مگر عام طور پر سخت گیر مسلمان حکومتوں کے داخلی معاملات میں مداخلت سے خود کو باز رکھتے ہوئے اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر کوئی سوال کیے بغیر انہیں اسلحہ بیچ کر چین نے ان میں سے زیادہ تر ممالک سے سزا کی چھوٹ کا سودا کرلیا ہے۔

مزید پڑھیے: چاہ بہار ریلوے منصوبے سے بھارت کا انخلا: پاکستان کے لیے امکانات اور خدشات!

اگر ٹرمپ دوبارہ منتخب ہوجاتے ہیں تو ہم تناؤ میں شدت کی توقع کرسکتے ہیں جو اس سرد جنگ کو ایک مسلح تنازع میں تبدیل کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ ٹرمپ کے مزید 4 برس اس قدر ناگوار ہوں گے کہ اس پر غور کرنا بھی محال ہے۔ لیکن اگر بائیڈن وائٹ ہاؤس پر قابض ہوتے ہیں تو بھی یوٹرن کی امید نہیں لگائیے گا۔ دونوں ممالک نے بے تحاشہ بوجھ اٹھایا ہوا ہے اور اس سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں۔

ہانگ کانگ میں آزادی پر قدغن کے مخالف انگلش ناقدین سے میں اکثر پوچھتا ہوں کہ گزشتہ صدی کے دوران جب یہ ایک برطانوی کالونی تھا تب اسے کس قدر جمہوری آزادی دی گئی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ ماضی قریب میں سابقہ برطانوی کالونیوں میں اس سے کہیں زیادہ بدترین انسانی حقوق کی پامالیاں کی گئی ہیں اور اس کے خلاف کبھی ایسے شدید احتجاجی مظاہرے نہیں دیکھے گئے جو آج چینی سلوک کے خلاف ہانگ کانگ کے مشتعل مظاہرین کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

یورپ اور امریکا کے زیادہ تر حصوں میں عمومی خیال یہ پایا جاتا ہے کہ چین کا ابھار 'معاملات کے فطری نظم' کو متاثر کر رہا ہے بلکہ یہ وہ الفاظ ہیں جنہیں استعمال کرنے والے انگلش سیاستدان کو حال ہی میں نسلی امتیاز کے باعث شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

بھلے ہی ایسا کہا گیا ہو یا نہ کہا گیا ہو، لیکن یہی وہ جذبات ہیں جو لبرل حلقوں میں بھی پائے جاتے ہیں جن کا بظاہر یہ ماننا ہے کہ سفید فام نسلوں کو فیصلے کا خداداد حق حاصل ہے۔ چنانچہ عمومی طور پر غیر سفید فام ممالک کی جانب سے ہی چین کے ابھار کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔

یہ مضمون 18 جولائی 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔