بھارت: برطرف سوفٹ ویئر انجینئر نے بحالی کیلئے کمپنی کو ہیک کرلیا

29 جولائ 2020

ای میل

آئی ٹی ماہر نے جرم کا اعتراف کیا اور کہا کہ نوکری میں بحالی کی امید پر سب کچھ کیا—فوٹو:اوڈیٹی سینٹرل
آئی ٹی ماہر نے جرم کا اعتراف کیا اور کہا کہ نوکری میں بحالی کی امید پر سب کچھ کیا—فوٹو:اوڈیٹی سینٹرل

بھارت میں نوکری میں بحالی کے لیے سابقہ کمپنی کو ہیک کرنےاور اہم معلومات کو ویب سائٹ سے ہٹانے والے سوفٹ ویئر انجینئر کو گرفتار کرلیا گیا۔

اوڈیٹی سینٹرل کی رپورٹ کے مطابق آئی ٹی ماہر کی شناخت وکیش شرما کے نام سے ہوئی ہے جو کمپنی میں سینئر سوفٹ ویئر انجینئر کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔

آئی ٹی ماہر کو کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کے دوران تنخواہ کے معاملات میں اختلاف پر نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق انہوں نے دوسری نوکری تلاش کرنے کے بجائے مبینہ طور پر اپنی پرانی نوکری میں بحال ہونے کے لیے غیرمعمولی طریقے سے کوشش کی۔

وکیش شرما نے سابقہ کمپنی کا ڈیٹا بیس ہیک کرلیا اور اس امید کے ساتھ ہزاروں مریضوں کی معلومات ڈیلیٹ کردیں کہ ان کی پرانی کمپنی کے مالک معاملات کو درست کرنے لیے ان سے رابطہ کریں گے۔

لیکن ایسا نہیں ہوا۔

کمپنی کے مالک نے سیکیورٹی معاملات کی خلاف ورزی پر پولیس سے رابطہ کیا اور ہیکنگ کے بارے میں تفتیش شروع کردی گئی۔

وکیش کی جانب سے مزید معلومات ہٹانے سے قبل ہی آئی پی کا سراغ لگالیا گیا اور انہیں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

رپورٹ کے مطابق انہیں اولڈ موجپور سے گرفتار کرلیا گیا اور انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف بھی کرلیا۔

وکیش شرما نے اعترافی بیان میں کہا کہ انہوں نے سابقہ کمپنی کا ڈیٹا بیس ہیک کیا اور مریضوں کی 18 ہزار انٹریز ڈیلیٹ کیں۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 3 لاکھ مریضوں کی بلوں کی معلومات بھی ڈیلیٹ کیں اور 22 ہزار جعلی انٹریز بھی کیں۔

وکیش شرما کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ سب کچھ اس امید پر کیا تھا کہ صورت حال کو ٹھیک کرنے کے لیے انہیں دوبارہ بلایا جائے گا۔