کراچی کا ڈوبنا بڑا المیہ ہے، کسی کو احساس ہی نہیں، سندھ ہائیکورٹ

اپ ڈیٹ 29 جولائ 2020

ای میل

سندھ ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی—فائل فوٹو: وکی میڈیا کامنز
سندھ ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی—فائل فوٹو: وکی میڈیا کامنز

سندھ ہائیکورٹ نے شہر قائد میں کچرا نہ اٹھانے اور بارش کے بعد کی صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کا ڈوبنا بڑا المیہ ہے، کسی کو احساس ہی نہیں۔

صوبائی دارالحکومت میں قائم عدالت عالیہ میں پانی کی نکاسی اور گندگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جہاں جسٹس خادم حسین نے شہر کی صورتحال اور اداروں کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

سماعت کے آغاز میں ہی عدالت نے ڈائریکٹر کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) اور میئر کراچی کے دفتر سے ذمہ دار افسر کو فوری طلب کیا۔

دوران سماعت جسٹس خادم حسین شیخ نے کہا کہ کچرے کی وجہ سے برسات میں کراچی ڈوب گیا، کراچی کا ڈوبنا بڑا المیہ ہے، کسی کو احساس ہی نہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش، 6 افراد جاں بحق، بیشتر علاقوں سے بجلی غائب

جسٹس خادم حسین شیخ بولے کہ ہر طرف غیر قانونی تعمیرات اور کچرا نہ اٹھانے کی وجہ سے کراچی ڈوب گیا، ہر ادارہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتا ہے، کسی نے دیکھا کراچی میں گاڑیاں بارش کے پانی میں ڈوبی ہوئیں تھیں؟ لوگ گھروں سے اپنے بچوں کو نہیں نکال پا رہے تھے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برسات میں لوگوں کے گھر اور سامان سب تباہ ہوگیا، کیا ہم میں سے کوئی بارش کے اور گندے پانی میں جا سکے گا؟

انہوں نے عدالت میں موجود صوبائی حکومت کے وکیل سے پوچھا کہ یہ تو بارش نے شہر ڈبویا، اب عید قربان پر الائیشوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے کیا بندوبست کیا گیا ہے؟

اس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ حکومت نے متعلقہ اداروں کو فنڈ فراہم کرنے ہیں، الائیشوں کو ٹھکانے لگانے کا بندوبست کیا جائے گا، جس پر جسٹس خادم حسین شیخ کا کہنا تھا کہ حکومت کو کام کرنے سے پہلے فنڈز کی فکر ہوتی ہے۔

اس موقع عدالت نے شہر کے ضلع وسطی سے کچرا نہ اٹھانے اور برسات کے بعد نکاسی آب کا نظام متاثر ہونے پر صوبائی حکومت اور بلدیاتی اداروں پر برہمی کا اظہار کیا۔

جس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ضلع وسطی سے کچرا اٹھانے کی ذمہ داری کے ایم سی اور سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کی ہے، اس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ جھوٹ بولا جارہا ہے، ضلع وسطی میں سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کو کچرا اٹھانے کی ذمہ داری نہیں دی گئی۔

بعد ازاں سماعت کے دوران عدالتی حکم پر ڈائریکٹر کے ایم سی اور دیگر حکام پیش ہوئے اور رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی جس پر عدالت نے کے ایم سی، ڈی ایم سی اور دیگر کی رپورٹس مسترد کردیں۔

جسٹس خادم حسین شیخ نے کہا کہ آپ لوگ، لوگوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں، ہم اسی شہر میں رہتے ہیں ہمیں سب معلوم ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں لوگوں کی زندگی اور مال سب خطرے میں ہے، اداروں نے سب کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے، عدالتی حکم کے باوجود شہر سے کچرا نہیں اٹھایا گیا، سب نے دیکھا کہ شہر کا کچرا بارش کے بعد سڑکوں پر تیر رہا تھا۔

جسٹس خادم حسین شیخ کا کہنا تھا کہ ہم بھی اسی شہر میں رہتے ہیں یہ سب کسی کی نظروں سے اوجھل نہیں ہے۔

اس پر کے ایم سی کے وکیل نے کہا کہ کراچی کا کچرا اٹھانا کے ایم سی کی ذمہ داری نہیں ہے، کچرا اٹھانا سندھ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ کی ذمہ داری ہے، جس پر جسٹس خادم حسین نے کہا کہ جس طرح برسات کے بعد کچرا سڑکوں پر بہہ رہا تھا، الائیشیں نہ اٹھانے سے کیا یہی حال ہوگا؟ الائیشوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے کیا کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟

عدالتی استفسار پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ عید قرباں پر الائیشوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے نجی ٹھیکیدار کو ٹھیکہ دیا گیا ہے، جس پر عدالت نے پوچھا کہ حکومت کی جانب سے مشینری یا کوئی ٹیمیں تشکیل دی گئیں ہیں؟ یا پھر ایسے ہی کہہ دیا جیسے پہلے سب ہوتا رہا ہے یا پورے شہر کو 5 افراد صاف کریں گے۔

جسٹس خادم حسین بولے کہ ہمیں عید قرباں پر الائیشوں کو ٹھکانے لگانے کے حوالے سے حکومتی کارکردگی نظر آنی چاہیے۔

بعد ازاں عدالت نے سندھ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ، کے ایم سی، ڈی ایم سی اور دیگر اداروں سے 13 اگست کو تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش، کرنٹ لگنے سے مزید 3 افراد جاں بحق

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ہمیں تفصیلی جواب چاہیے کراچی میں برسات سے پہلے اور برسات کے بعد اداروں کی جانب سے کیا کیا اقدامات کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے اوائل سے ہی کراچی میں مون سون سیزن کا آغاز ہوا تھا اور شہر قائد میں کچھ گھنٹوں کی بارش نے انتظامی دعوؤں کی قلعی کھول دی تھی۔

بارش ہونے سے نہ صرف شہر کی اہم شاہراہوں اور نشیبی علاقے زیر آب آئے تھے بلکہ مختلف علاقوں میں گھروں میں بھی پانی جمع ہوگیا تھا جبکہ اس مون سون کے تیسرے اسپیل میں شہر کے کافی حصے نالے بپھرنے، گٹرا بلنے کے باعث زیر آب آگئے تھے۔

ان بارشوں کے دوران لوگوں کو نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ مختلف حادثات اور کرنٹ لگنے سے درجنوں افراد جان کی بازی بھی ہار گئے۔