انڈونیشیا: نوجوان کی دو گھنٹے کیمرے کے ساتھ بیٹھے رہنے کی ویڈیو وائرل

اپ ڈیٹ 30 جولائ 2020

ای میل

—فوٹو:اوڈیٹی سینٹرل
—فوٹو:اوڈیٹی سینٹرل

اگر آپ چاہتے ہیں کہ یوٹیوب میں آپ کی ویڈیوز کو ہزاروں افراد دلچسپی سے دیکھیں تو اپنی ویڈیو کو دوسروں سے مقبول بنانے کے لیے آپ کو تخلیقی انداز اپنانا ہوگا۔

انڈونیشیا کے نوجوان یوٹیوبر محمد دیدت نے رواں ماہ کے اوائل میں ایسے ہی ایک خیال پر کام کیا اور مسلسل دو گھنٹوں تک صوفے پر بیٹھ کر کوئی کام کیے بغیر صرف کیمرے پر نظریں جمائے رکھیں۔

اوڈیٹی سینٹرل کی رپورٹ کے مطابق اس ویڈیو کو اب تک تقریباً 15 لاکھ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں اور انڈونیشیا کے سوشل میڈیا میں اس پر مختلف طرح کی میمز بنائی جاچکی ہیں۔

محمد دیدت کی ویڈیو جب سے وائرل ہوئی ہے ان کے دیکھا دیکھی دیگر سلیبریٹیز بھی ان کی کامیابی تک پہنچنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اب آپ کو یوٹیوب پر چار سے پانچ گھنٹوں بلکہ آٹھ آٹھ گھنٹوں تک صرف کیمرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ویڈیوز دیکھنے کو ملیں گی۔

21 سالہ یوٹیوبر کا کہنا تھا کہ مجھے چند مداحوں نے تبدیلی کے لیے تعلیمی اور مثبت ویڈیو بنانے کی درخواست کی تھی جس کے بعد اس تصور پر کام کیا۔

محمد دیدت نے ویڈیو کے ساتھ لکھا کہ 'بغیر کام کے دو گھنٹے، یہ میری وڈیو کا ٹائٹل تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو انڈونیشیا کی معاشرے کے اصرار پر نوجوانوں کو آگاہی کے لیے بنائی گئی جو بوجھل دل اور نہ چاہتے ہوئے نشر کی گئی۔

یوٹیوبر نے اپنے ناظرین کو مخاطب کرکے کہا کہ 'میں نے اس ویڈیو کو تیار کیا لیکن اس کے فائدے کی بات کی جائے تو اس کا انحصار آپ پر ہے۔'

انہوں نے کہا کہ میرا آپ کو مشورہ ہے اور امید بھی ہے کہ آپ محظوظ ہوں گے اور اس ویڈیو سے سبق حاصل کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد محمد دیدت میڈیا کو انٹرویو دینے میں مصروف ہیں اور اپنے تجربے سے آگاہ کر رہے ہیں۔

ابتدائی طور پر انہوں نے 5 سے 10 منٹ تک کچھ نہ کرنے کی ویڈیو بنانے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن بعد میں جب ریکارڈنگ شروع ہوئی تو انہوں نے 2 گھنٹوں تک ایسے ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔

ریکارڈنگ کے دوران ان کو تشویش تھی کہ ان کے والدین بلائیں گے، جس کو وہ زیادہ دیر نظر انداز نہیں کرسکتے تھے لیکن خوش قسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔

دیدت کا کہنا تھا کہ 'مجھے ویڈیو کے اس قدر پھیلنے کی امید نہیں تھی، میں تو صرف اپنے سبسکرائبرز کے لیے مزاحیہ ویڈیو بنانا چاہتا تھا'۔