امریکا کی شام میں بشارالاسد حکومت پر مزید پابندیاں

اپ ڈیٹ 30 جولائ 2020

ای میل

بشارالاسد کی حکومت پر گزشتہ ماہ بھی پابندیاں عائد کی گئی تھیں — فائل/فوٹو:اے ایف پی
بشارالاسد کی حکومت پر گزشتہ ماہ بھی پابندیاں عائد کی گئی تھیں — فائل/فوٹو:اے ایف پی

امریکا کے اسٹیٹ اور ٹریژری ڈپارٹمنٹ نے شام کے صدر بشارالاسد اور ان کی افواج کی جانب سے کی گئیں بدترین کارروائیوں پر مزید 14 طرز کی پابندیاں عائد کردی۔

سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کی جانب سے جاری بیان میں انہوں نے شام پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا۔

مزید پڑھیں:امریکا کی جنگ کے خاتمے کیلئے شام پر مزید سخت پابندیاں

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے جاری بیان کے مطابق قیصر سیرین سویلین پروٹیکشن ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت یہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور اس عمل کا آغاز گزشتہ ماہ کیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 'آج ہم نے حما اور میرات النعمان واقعات سے متعلق پابندی کے لیے نامزد کردیا ہے جو اسد حکومت کی ظالمانہ اقدامات کی یاد دلاتا ہے اور یہ دونوں واقعات 2011 اور 2019 میں اسی ہفتے پیش آئے تھے'۔

خیال رہے کہ 9 برس قبل شامی حکومت کی فورسز نے حما شہر پر بدترین ظالمانہ کارروائی کی تھی جہاں پرامن مظاہرین کو قتل کیا گیا تھا۔

بشارالاسد اور اس کی اتحادی فورسز نے گزشتہ برس میرات النعمان کی مصروف مارکیٹ میں بمباری کی تھی، جس کے نتیجے میں 42 معصوم شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسد حکومت کی فوج ظلم، جبر اور کرپشن کی علامت بنی ہوئی ہے، انہوں نے ہزاروں شہریوں کو قتل کیا، پرامن مظاہرین کو حراست میں لے کر ان پر تشدد کیا۔

بیان کے مطابق بشارالاسد کی فورسز نے انسانی جانوں کے ضیاع کا خیال رکھے بغیر اسکولوں، ہسپتالوں اور مارکیٹوں کو تباہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:شام میں ایک لاکھ سے زائد افراد زیرحراست اور لاپتہ ہیں، اقوام متحدہ

پابندیوں کے حوالے سے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 'ذوہیر توفیق الاسد اور سیرین عرب آرمی کی فرسٹ ڈویژن پر سیکشن 13894 اور دیگر دفعات کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے'۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ذوہیر توفیق الاسد کے بیٹے کرام الاسد پر بھی پابندی ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ بشارالاسد کے بیٹے حفیظ الاسد بھی پابندی کی زد میں آئے ہیں'۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ ہم متاثرین کے ساتھ پیش آنے والے مظالم کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے بشارالاسد اور ان کی حکومت کو ان کے ظالمانہ کردار پر قابل احتساب بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اب بشارالاسد کی بے وقعت اور مجرمانہ جنگ کے خاتمے کا وقت ہے اور جن پر پابندی لگائی گئی ہے ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کے مسئلے کے سیاسی حل کے لیے یو این ایس سی آر 2254 کے تحت ہی منزل کی جانب پرامن اور سیدھا راستہ ہوگا اور شام کے عوام امن کے مستحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قیصر ایکٹ اور امریکا کی شام پر دیگر پابندیوں کا مقصد شام کے عوام کو نقصان پہنچانا نہیں ہے اور ہم اپنے بین الاقوامی اور شامی شراکت داروں کے ذریعے انسانی بنیادوں پر امداد جاری رکھیں گے، جس میں بشارالاسد کے زیر قبضہ علاقے بھی شامل ہیں۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق شام میں جب سے تنازع شروع ہوا ہے، اس وقت سے اب تک امریکا نے انسانی بنیادوں پر 11 ارب 30 کروڑ ڈالر کا تعاون کیا ہے اور یہ امداد آئندہ بھی جاری رہے گی۔

مزید پڑھیں:اقوام متحدہ نے شام میں جنگ بندی کے خاتمے پر خبردار کردیا

امریکا نے کہا ہے کہ حما اور میرات النعمان کے متاثرین اور بشارالاسد کی فورسز کے دیگر جنگی جرائم اور انسانیت سوز کارروائیوں کا شکار ہونے والے افراد کو انصاف فراہم کرنا چاہیے اور ظالموں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔

مزید کہا گیا ہے کہ بشارالاسد اور ان کے دیگر حامیوں کے پاس ایک ہی موقع ہے کہ وہ اپنے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کو تسلیم کریں اور شام میں جاری طویل جنگ کے خاتمے اور پائیدار سیاسی حل کے لیے اقدامات کریں جو اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق ہوں۔

یاد رہے کہ امریکا نے رواں برس جون میں شام میں جاری طویل خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے صدر بشارالاسد کی حکومت پر سخت ترین مالی پابندیاں عائد کردی تھیں۔

امریکا نے 39 کمپنیاں، بشارالاسد اور ان کی اہلیہ اسما سمیت کئی افراد کو پابندیوں کا نشانہ بنایا تھا جبکہ بشارالاسد کو دہائیوں سے جاری خانہ جنگی اور احتجاج کے باعث بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔

مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ نئی پابندیاں بشارالاسد پر معاشی اور سیاسی دباؤ بڑھانے کی شروعات ہیں جبکہ مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے کہا تھا کہ 'ہم مزید پابندیاں لگائیں گے اور ہم اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک بشارالاسد اور ان کی حکومت شام کے عوام کے خلاف اپنی غیر ضروری اور بدترین جنگ ختم نہیں کرتے اور حکومت تنازع کے سیاسی حل کے لیے تیار نہیں ہوتی'۔

مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ بشارالاسد کی بہن اور بھائی، فوج کے کئی جرنیلوں اور ایرانی ملیشیا سمیت پرامن سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹ میں نامزد کیے گئے افراد شامل ہیں تاہم نام صرف بشارالاسد کی اہلیہ اسما کا لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:شام میں جنگی جرائم: امریکا نے اقوام متحدہ کی رپورٹ مسترد کردی

واضح رہے کہ شام کی حکومت کو پہلے ہی امریکا اور یورپی یونین کی پابندیوں کا سامنا ہے جس کے تحت ریاست، سیکڑوں کمپنیوں اور شہریوں کے اثاثے منجمد ہیں۔

واشنگٹن اپنے شہریوں پر شام کو برآمدات اور سرمایہ کاری پر پابندی لگا چکا ہے، اسی طرح تیل اور ہائیڈروکاربن سے متعلق مصنوعات کی ترسیل بھی منجمد ہے۔

امریکی پابندیوں کے مطابق شام سے مالی رابطہ رکھنے والے کسی بھی فرد کے اثاثے بلاامتیاز منجمد ہوسکتے ہیں، جو کئی شعبوں سے متعلق ہیں۔

ان پابندیوں سے روس اور ایران کے ادارے بھی نشانہ بنیں گے جو بشارالاسد کے مرکزی شراکت دار ہیں۔

خیال رہے کہ شام میں 2011 میں حکومت کے خلاف مظاہروں سے شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک ایک اندازے کے مطابق 3 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے اور بہت سے لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں۔