400 خطرناک قیدیوں کی رہائی کی اجازت کے بعد 'بین الافغان امن مذاکرات کی راہ ہموار'

اپ ڈیٹ 09 اگست 2020

ای میل

افغان صدر اشرف غنی لویہ جرگہ کے آخری دن پر قرارداد کو لہرا رہے ہیں — فوٹو: اے پی
افغان صدر اشرف غنی لویہ جرگہ کے آخری دن پر قرارداد کو لہرا رہے ہیں — فوٹو: اے پی

افغانستان میں لویہ جرگہ نے 400 خطرناک طالبان قیدیوں کی رہائی کی اجازت دے دی ہے جس کے ساتھ ہی امن مذاکرات کی راہیں ہموار ہو گئی ہیں۔

کابل کی امن کونسل کے سربراہ نے اتوار کے روز کہا کہ ہزاروں ممتاز افغانوں نے قریب 400 متنازع عسکریت پسند قیدیوں کی رہائی کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں: اشرف غنی کا جرگے سے 400 قیدیوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کی اپیل

قیدیوں کی قسمت دونوں متحارب فریقین کے مابین امن مذاکرات کے آغاز میں ایک اہم رکاوٹ رہی ہے جہاں مذاکرات کے آغاز سے پہلے ہی قیدیوں کا تبادلہ مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا۔

یہ قرارداد قبائلی عمائدین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل روایتی افغان اجلاس تین روزہ "لویہ جرگہ" کے اختتام پر منظور کی گئی جہاں کبھی کبھار متنازع امور پر یہ اجلاس منعقد کر کے کیا جاتا ہے۔

جرگے کی رکن عطیفہ طیب نے اعلان کیا کہ جرگے نے امن مذاکرات کے آغاز میں حائل رکاوٹ دور کرنے، خون خرابہ روکنے اور عوام کی بھلائی کے لیے 400 طالبان قیدیوں کی رہائی کے مطالبے کو منظور کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مائیک پومپیو کا افغان طالبان سے امن عمل پر تبادلہ خیال

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ان 400 قیدیوں کی فہرست دیکھی ہے جس میں بہت سے قیدیوں پر سنگین نوعیت کے جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے، ان میں سے اکثر متعدد حملوں میں ملوث تھے جن میں سیکڑوں افغانی اور غیر ملکی ہلاک ہوئے تھے جبکہ 150 سے زیادہ افراد کو موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

جرگہ نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ عوام کو یہ یقین دہانی کرائیں کہ رہا ہونے والے قیدیوں کی نگرانی کی جائے گی اور انہیں میدان جنگ میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی جنگجوؤں کو ان کے اپنے ممالک میں واپس بھیجا جانا چاہیے۔

جرگے نے ملک میں 'سنجیدہ ، فوری اور دیرپا جنگ بندی' کا مطالبہ بھی کیا۔

مزید پڑھیں: بھارت میں ایئر انڈیا کا طیارہ رن وے پر خوفناک حادثے کا شکار، 17 مسافر ہلاک

افغان حکومت کے امن مذاکرات کے قائد اور لویہ جرگہ کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ لویا جرگہ کے فیصلے نے امن مذاکرات کے راستے میں حائل آخری عذر اور رکاوٹ کو بھی دور کردیا ہے، ہم امن مذاکرات کے راستے پر گامزن ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی نے اعلان کیا کہ وہ اتوار کے روز قیدیوں کی رہائی کے ایک فرمان پر دستخط کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کو اب یہ مظاہرہ کرنا چاہیے کہ وہ ملک گیر جنگ بندی سے خوفزدہ نہیں ہیں۔

خطرناک قیدیوں کی رہائی پر کچھ افغانوں کے تحفظات

افغان حکومت نے تقریبا 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کیا ہے لیکن حکام طالبان کے مطالبے کے مطابق حتمی قیدیوں کو رہا کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے نظربند افراد کی رہائی پر زور دیا تھا کہ حالانکہ وہ اس بات کو مانتے تھے کہ یہ غیرمقبول فیصلہ ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان: مشتعل مظاہرین کا سرکاری دفاتر پر دھاوا، پولیس کے ساتھ جھڑپیں

ان قیدیوں میں 44 ایسے دہشت گرد بھی شامل ہیں جو بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی وجہ سے امریکا اور دیگر ممالک کے لیے تشویش کا باعث تھے۔

پانچ کا تعلق کابل کے انٹرکنٹینینٹل ہوٹل پر 2018 کے حملے سے ہے جس میں 14 غیر ملکیوں سمیت 40 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

کابل میں جرمن سفارت خانے کے قریب مئی 2017 میں ٹرک پر بم دھماکے میں ملوث ایک طالبان عسکریت پسند بھی اس فہرست میں شامل ہے، جہاں مذکورہ حملے میں افغان فوج کا سابق افسر سمیت اندرونی حملے میں پانچ فرانسیسی فوجی ہلاک ہو گیا تھا۔

2003 میں افغانستان میں قتل کیے گئے فرانسیسی امدادی کارکن بٹینا گوسالارڈ کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ وہ اس فہرست میں قاتلوں کی رہائی کو قبول نہیں کریں گے۔

مزید پڑھیں: وینزویلا: حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے الزام میں سابق امریکی فوجیوں کو سزا

بٹینا کے اہل خانہ نے فیصلے کے اعلان سے قبل اے ایف پی کو ایک بیان میں کہا کہ اس طرح تجارتی بنیادوں پر انہیں آزاد کرنے کا ایسا فیصلہ ہمارے اہلخانہ کے لیے ناقابل فہم ہو گا۔

اجتماع کے پہلے روز رکن قومی اسمبلی اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن بلقیس روشن نے قیدیوں کی رہائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایک بینر ہاتھوں میں اٹھا رکھا تھا جس میں لکھا تھا کہ طالبان کو چھڑانا قومی غداری ہے البتہ اس فیصلے سے امن مذاکرات کی امیدوں میں اضافہ ہوا ہے۔

سابق صدر حامد کرزئی نے لویہ جرگہ کو بتایا کہ میرے پاس موجود معلومات کی بنیاد پر انٹرا افغان مذاکرات 400 طالبان قیدیوں کی رہائی کے بعد دو سے تین دن میں شروع ہوجائیں گے۔

فروری میں ہونے والے امریکا طالبان معاہدے کے تحت انٹرا افغان مذاکرات کا آغاز ہوا تھا جس میں واشنگٹن نے کہا تھا کہ وہ سیکیورٹی ضمانتوں کے بدلے 2021 کے وسط تک افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا لے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم، مقبوضہ کشمیر میں ناانصافیوں کےخلاف بولنے پر مہاتیر محمد کے شکر گزار

امریکی سیکریٹری دفاع مارک ایسپر نے ہفتے کے روز فاکس نیوز کو بتایا کہ امریکا نومبر کے آخر تک ملک میں امریکی فوجیوں کی تعداد کو کم کر کے 5000 سے بھی کم کر دے گا لیکن انہوں نے مزید کہا کہ اس کا انحصار حالات پر ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں سال نومبر میں دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے تیار ہیں اور وہ بار بار کہتے رہے ہیں کہ وہ امریکا کی سب سے طویل جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں جو تقریبا 20 سال قبل 9/11 کے حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔

پاکستان کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کا خیرمقدم

پاکستان نے قیدیوں کی رہائی سے متعلق افغان لویہ جرگہ کی سفارشات کا خیرمقدم کیا ہے۔

پاکستان نے 400 طالبان قیدیوں کی رہائی کے لویہ جرگہ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ قیدیوں کی رہائی سے متعلق اس اقدام کے نفاذ کے ساتھ ہی انٹرا افغان مذاکرات کا جلد از جلد آغاز ہو گا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ افغان رہنماؤں کو لازمی طور پر اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور افغانستان میں جامع، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیہ کو محفوظ بنانے کے لیے انٹرا افغان مذاکرات کے ذریعے مل کر تعمیری انداز میں کام کرنا چاہیے۔

پاکستان نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو بھی انٹرا افغان مذاکرات کی کامیابی کے لیے اپنی حمایت کو جاری رکھنا چاہیے تاکہ افغانستان میں پائیدار امن و استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے مستقل طور پر افغانستان کی زیر قیادت امن اور مفاہمت کے عمل کی حمایت کی ہے اور اس عمل میں پاکستان کے مثبت کردار کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔

پاکستان اپنے اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن، مستحکم، متحد، جمہوری، خودمختار اور خوشحال افغانستان کے لیے اپنی حمایت کی توثیق کرتا ہے۔