ہانگ کانگ کے میڈیا ٹائیکون جمی لائی بیٹوں سمیت گرفتار

11 اگست 2020

ای میل

جمی لائی کی میڈیا کمپنی نیکسٹ ڈیجیٹل کے دو عہدیداروں کو بھی گرفتار کیا گیا—فوٹو:رائٹرز
جمی لائی کی میڈیا کمپنی نیکسٹ ڈیجیٹل کے دو عہدیداروں کو بھی گرفتار کیا گیا—فوٹو:رائٹرز

ہانگ کانگ کے میڈیا ٹائیکون اور معروف کاروباری شخصیت جمی لائی سمیت میڈیا اور کاروبار سے منسلک دیگر متعدد افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جمی لائی کے اخبار کے دفاتر پر بیرونی طاقتوں سے گٹھ جوڑ کے الزام پر چھاپہ ماراگیا۔

مزید پڑھیں:چین کا پابندیوں پر ردعمل، امریکی سینیٹرز پر پابندی کا اعلان

رپورٹ کے مطابق جمی لائی کو ہانگ کانگ کے نئے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور اس قانون کےنفاذ کے بعد مشہور شخصیت کی گرفتاری ہے۔

خیال رہے کہ جمی لائی کو ہانگ کانگ کے جمہوریت نواز حلقوں میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے گزشتہ برس ہونے والے مظاہروں کی حمایت کی تھی۔

ہانگ کانگ کے 71 سالہ میڈیا ٹائیکون دوہری شہریت کے حامل ہیں اور ان پر رواں برس فروری میں غیرقانونی اجتماع میں شرکت اور اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

برطانیہ شہریت کے حامل کاروباری شخصیت کو پولیس ضمانت دی گئی تھی۔

بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں چینی ادارے گلوبل ٹائمز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمی لائی پر الزام ہے کہ وہ مظاہرین کے حامی ہیں اور ان کے اخبارات نفرت پر اکسانے، افواہیں پھیلانے، ہانگ کانگ کے حکام اور نظام کو برسوں سے بدنام کررہے ہیں۔

دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران جمی لائی کی گرفتاری سے متعلق ایک سوال پر کہا کہ یہ ہانگ کانگ کا اندرونی قانونی معاملہ ہے اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:چین کی پارلیمنٹ نے ہانگ کانگ نیشنل سیکیورٹی بل منظور کرلیا

گلوبل ٹائمز کے مطابق جمی لائی کو ان کے دفتر میں ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور دفتر میں درجنوں پولیس اہلکاروں نے چھاپہ مارا۔

پولیس نے جمی لائی کے علاوہ ان کے دو بیٹوں اور ان کی میڈیا کمپنی نیکسٹ ڈیجیٹل کے دو سینئر عہدیداروں کوبھی گرفتار کرلیا ہے۔

ہانگ کانگ کی پولیس نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون سمیت 10 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے ، جن کی عمریں 23 سال سے 72 سال کے درمیان ہیں۔

رپورٹس کےمطابق پولیس جمہوریت نواز رہنما اگنیس چاؤ کے گھر کے باہر جمع ہوگئے جبکہ ان کے ساتھی ناتھن لا نے ٹوئٹر پر چاؤ کی گرفتار کی تصدیق کی۔

انہوں نے لکھا کہ 'اگنیس چاؤ کو نیشنل سیکیورٹی قانون کے تحت گرفتار کرلیا گیا اور ہم ان کی گرفتاری سے متعلق وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'نیشنل سیکیورٹی قانون ہمارے معاشرے کی آزادی کو ختم اور خوف کی سیاست کی ترویج کررہا ہے'۔

قبل ازیں چین نے امریکا کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کے جواب میں امریکا کے 5 سینیٹرز سمیت 11 عہدیداروں پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جان نے بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ امریکا کے محکمہ خارجہ کی جانب سے چینی حکومت کے 11 عہدیداروں پر پابندی ہانگ کانگ اور چین کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'امریکا کے اس طرح کے اقدامات بین الاقومی قانون اور بنیادی عالمی اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور چین اس کو یکسر مسترد اور مذمت کرتا ہے'۔

مزید پڑھیں:ہانگ کانگ میں سیکیورٹی قانون کے خلاف خاموش احتجاج

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ 'امریکا کے غلط قدم کے جواب میں چین نے امریکا کے سینیٹرز اور دیگر عہدیداروں پر ہانگ کانگ کے معاملات میں قابل مذمت کردار ادا کرنے پرپابندی کا فیصلہ کرلیا ہے'۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'اس پابندی کا اطلاق آج سے ہوگا'۔

چینی پابندی کا شکار ہونے والے افراد میں 5 امریکی سینیٹرز مارکو روبیو، ٹیڈ کروز، جوش ہاؤلے، ٹومکوٹن اور پیٹ ٹومی شامل ہیں۔

دیگر اعلیٰ عہدیداروں میں نیشنل انڈوومنٹ فار ڈیموکریسی، نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ، انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ کے صدور اور ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور فریڈم ہاؤس کے صدر شامل ہیں، جن پر چین نے پابندی لگادی ہے۔

ژاؤ لی جان کا کہنا تھا کہ میں زور دے کر کہوں گا کہ ہانگ کانگ میں ایک ملک دو نظام کامیاب ہے۔

خیال رہے کہ 1991 میں برطانیہ نے ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کیا تھا اور چین یہاں 'ایک ملک، دو نظام' فریم ورک کے تحت حکمرانی کر رہا ہے اور ہانگ کانگ کو نیم خود مختاری حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چین نے ہانگ کانگ کے معاملے پر برطانیہ کو ’جوابی ردعمل‘ سے خبردار کردیا

گزشتہ سال اکتوبر میں ہانگ کانگ میں مجرمان کی حوالگی سے متعلق مجوزہ قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج و مظاہرے کیے گئے تھے، جس نے جمہوری سوچ رکھنے والے ہانگ کانگ کے عوام اور بیجنگ کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کے درمیان شدید اختلافات کو واضح کردیا تھا۔

ہانگ کانگ میں اس احتجاج کا آغاز پرامن طور پر ہوا تھا تاہم حکومت کے سخت ردعمل کے بعد یہ احتجاج و مظاہرے پرتشدد ہوگئے تھے۔

شدید احتجاج کے بعد ہانگ کانگ کے شہریوں کو ٹرائل کے لیے چین بھیجنے کی اجازت دینے والے قانون کو واپس لے لیا گیا تھا تاہم اس کے باوجود احتجاج کئی ماہ تک جاری رہا تھا جس میں حقوق کے لیے ووٹنگ کرانے اور پولیس کی پرتشدد کارروائیوں کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبے شامل تھے۔

چین نے رواں برس ہانگ کانگ کے حوالے نیشنل سیکیورٹی قانونی کی منظوری دی تھی جو نافذ ہوچکا ہے، جس کے بعد امریکا اور برطانیہ کی جانب سے سخت ردعمل دیا تھا لیکن چین نے اس کو مسترد کرتے ہوئے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا.