سعودی عرب کی نجی اسکولوں کو غیر مقامی پرنسپلز کو برطرف کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 12 اگست 2020

ای میل

سعودی عرب نے مقامی افراد کو اسکولوں کے پرنسپلز تعینات کرنے کی ہدایت کردی—فوٹو:بشکریہ اردو نیوز
سعودی عرب نے مقامی افراد کو اسکولوں کے پرنسپلز تعینات کرنے کی ہدایت کردی—فوٹو:بشکریہ اردو نیوز

سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے ملک میں موجود نجی اور بین الاقوامی اسکولوں کے پرنسپلز کو برطرف کرکے مقامی افراد کو ان عہدوں پر تعینات کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

عرب نیوز کے ادارے کی رپورٹ کے مطاابق 'سعودی وزارت تعلیم نے ملک بھر میں قائم تمام نجی اور بین الاقوامی اسکولوں کے پرنسپلز کو سبکدوش کرنے کا فیصلہ کیا ہے'۔

رپورٹ کے مطابق 'اس فیصلے پر عمل درآمد 11 اگست 2020 سے ہوگا'۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کا مستقبل کا شہر دنیا کو دنگ کردے گا

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے 'نائب وزیر تعلیم ڈاکٹر عبدالرحمٰن العاصمی نے تمام تعلیمی اداروں کو فیصلے پر عمل درآمد کے لیے خط لکھا ہے'۔

نائب وزیر تعلیم نے تعلیمی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ 'تمام نجی اور بین الاقومی اسکولوں کے پرنسپلز کو 11 اگست 2020 سے سبکدوش کردیا جائے'۔

رپورٹ کے مطابق 'یہ فیصلہ نرسری، پرائمری، مڈل، ثانوی سمیت تعلیم کے تمام درجوں کے لیے مقرر پرنسپلز اور ہیڈ ماسٹرز پر لاگو ہوگا'۔

تعلیمی اداروں سے کہا گیا ہے کہ حکومت کی ان ہدایات سے تمام سرمایہ کاروں کو بھی مطلع کردیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق 'سعودی وزارت تعلیم نے ہدایات جاری کی ہیں کہ نجی اسکول سعودی عرب کے اہل شہریوں کو اپنے پرنسپلز اور ہیڈ ماسٹرز تعینات کریں'۔

مزید پڑھیں: 'آزادی کا جشن' منانے کے لیے سعودی خواتین نے سگریٹ نوشی شروع کردی

خیال رہے کہ سعودی حکومت نے گزشتہ برس اہم اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی غرض سے قومی پالیسی اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کی تکمیل کے لیے نئے ضوابط جاری کردیے تھے۔

حکومت نے نجی اسکولوں کو دو کے بجائے تین منزلہ عمارت تعمیر کرنے کی بھی اجازت دی تھی تاکہ نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کو وسعت دی جاسکے۔

قومی پالیسی کے تحت ہر طالب علم کے لیے اسکول میں ایک مربع میٹر کی جگہ مختص کرنے کی پابندی عائد کردی گئی جبکہ اسکولوں میں فاصلے کی شرط ختم کردی گئی تھی۔