پاکستانی فنکار کا 'الغوزہ' پر قومی ترانہ بجا کر وطن سے محبت کا منفرد اظہار

ای میل

الغوزہ دراصل موسیقی کا ایک ساز ہے جسے منہ کی پھونک کے ذریعے بجایا جاتا ہے—فائل فوٹو: ڈان
الغوزہ دراصل موسیقی کا ایک ساز ہے جسے منہ کی پھونک کے ذریعے بجایا جاتا ہے—فائل فوٹو: ڈان

کسی بھی ملک کا قومی ترانہ ایک جادوئی اثر رکھتا ہے جو لمحوں میں قوم کو متحد کرتا ہے اور اس کی دھن اور بول سنتے ہیں لوگ تعظیم میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

کچھ ایسی ہی محبت اور تعظیم پاکستانی قومی کی اپنے قومی ترانے سے ہے اور جہاں بھی 'پاک سرزمین شاد باد' کی صدا سنائی دیتی ہے فوراً اس کا ادب اور احترام کیا جاتا ہے۔

پاکستانی قومی ترانے کو دنیا کے چند بہترین ترانوں میں شمار کیا جاتا ہے جو پاکستانی قوم کی اپنی تہذیب، ثقافت، اقدار، جذبات و احساسات اور وطن سے محبت کی ترجمانی کرتا ہے۔

حفیظ جالندھری کے لکھے بول اور احمد جی چھاگلہ کی دھن کے تحت ترتیب دیئے گئے نغمے کو 1954 میں پاکستان کے قومی ترانے کا درجہ ملا تھا۔

قومی ترانے میں تین بند ہیں اور ہر بند میں پانچ مصرعے ہیں یعنی کل پندرہ جس میں زیادہ تر الفاظ فارسی زبان کے ہیں اور اس کا دورانیہ ایک منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

یوں تو جذبہ حب الوطنی رکھنے کے ساتھ ساتھ فنِ موسیقی پر عبور رکھنے والے پاکستانی قومی ترانے کو اپنے پسندیدہ ساز میں بجاتے ہیں اور اسے جدت بخشنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پاکستان کے قومی ترانے کی دھن صرف بانسری، پیانو سمیت موسیقی کے دیگر آلات پر بجائی جاچکی ہے، لیکن الغوزہ پر بجائی گئی قومی ترانے کی دھن دیگر سازوں سے منفرد اور دل کو چھولینے والی ہے۔

الغوزے پر قومی ترانے کی یہ دھن معروف الغوزہ نواز خمیسو خان کے بیٹے اکبر خمیسو خان نے بجائی ہے جس کے ذریعے انہوں نے وطن سے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔

اس ساز پر پاکستان ٹیلی وژن کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، اس پیشکش کو حسن حیات نے پروڈیوس کیا ہے اور جب بھی یہ دھن بجائی جاتی ہے تو بار بار سننے کا دل کرتا ہے۔

قومی ترانے کی دھن بجانے سے متعلق اکبر خمیسو خان کہتے ہیں کہ یہ میری خواہش تھی کہ میں پاکستان کے قومی ترانے کی دھن الغوزے پر بجاؤں جو پوری بھی ہوئی۔

اکبر خمیسو خان نے پاکستان بھر سمیت دیگر ممالک میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے اور انتہائی کم وقت میں شہرت پائی۔

الغوزہ دراصل موسیقی کا ایک ساز ہے جسے منہ کی پھونک کے ذریعے بجایا جاتا ہے۔

اس آلے کو خصوصی طور پر سندھی، بلوچی، راجستھانی، کچھی اور پنجابی موسیقی سمیت دیگر برصغیر کی زبانوں کی موسیقی میں بجایا جاتا ہے۔

الغوزے سے ملتے جلتے موسیقی کے آلات دیگر ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں مگر یہ مخصوص ساز برصغیر پاک و ہند میں پایا جاتا ہے۔

یہ ساز ہر موسیقار نہیں بجا سکتا بلکہ اسے تربیت یافتہ خصوصی موسیقار بجاتے ہیں۔