طلبہ کا او، اے لیولز کے نتائج میں کمی، ’امتیازی سلوک' پر احتجاج

اپ ڈیٹ 14 اگست 2020

ای میل

طلبہ نے سی اے آئی ای کی مارکنگ کو غیر منصفانہ قرار دیا اور پاکستانی حکومت سے برطانوی حکومت کے ساتھ معاملہ اٹھانے پر زور دیا۔ فوٹو: محمد عاصم
طلبہ نے سی اے آئی ای کی مارکنگ کو غیر منصفانہ قرار دیا اور پاکستانی حکومت سے برطانوی حکومت کے ساتھ معاملہ اٹھانے پر زور دیا۔ فوٹو: محمد عاصم

اسلام آباد: سیکڑوں طلبہ اور ان کے اہل خانہ نے کیمبرج اسسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن (سی اے آئی ای) کے امتحانات کے جمعرات کو اعلان کیے گئے نتائج کے خلاف نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور بعدازاں ڈی چوک کی طرف مارچ کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق طلبہ نے سی اے آئی ای کی مارکنگ پر تنقید کی اور اسے غیر منصفانہ قرار دیا اور پاکستانی حکومت سے برطانوی حکومت کے ساتھ معاملہ اٹھانے پر زور دیا۔

واضح رہے کہ اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے سی اے آئی ای کے او اور اے لیولز کے امتحانات نہیں ہوئے تھے جس کی وجہ سے طلبہ کو متوقع گریڈز کی بنیاد پر ان کے نتائج دیئے گئے۔

مزید پڑھیں: نجی اسکول کس طرح بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کر رہے ہیں؟

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے یہ معاملہ سی اے آئی ای کے سامنے اٹھایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'مجھے غیر منصفانہ گریڈنگ کے بارے میں بہت سی شکایات موصول ہوئی ہیں اور میں نے کیمبرج کو طلبہ کی تشویش سے آگاہ کیا ہے، مجھے امید ہے کہ سی اے آئی ای اس پر غور کرے گا اور حل کے لیے اقدامات کرے گا'۔

احتجاج کرنے والے طلبہ نے الزام لگایا کہ ان کے ساتھ انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے طلبہ کے مقابلے میں امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکاٹ لینڈ نے نتائج میں کمی کے بارے میں عوامی غم و غصے کے اظہار کے بعد نتائج کا جائزہ لیا ہے جبکہ انگلینڈ میں حکومت نے بیان جاری کیا ہے جس میں طلبہ کو دیے گئے نتائج، موک نتائج یا مفت دوبارہ امتحان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ صورتحال مثالی نہیں ہے لیکن امتحانات بورڈ اور برطانیہ کی حکومت نے طلبہ کو رعایت دی ہے کہ وہ کوشش کریں اور بہترین حل تلاش کریں۔

تاہم ، تقریبا 160 ممالک کے بین الاقوامی طلبہ، جن میں زیادہ تر افریقا اور جنوبی ایشیا سے ہیں، کے ساتھ مختلف رویہ برتا گیا ہے۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اسکولوں نے متوقع گریڈ جمع کروائے ہیں لیکن چند کیسز میں اے پلس کے متوقع گریڈ والے طلبہ نے سی اے آئی ای سے ایف گریڈ حاصل کیے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں نجی اسکولوں کو فیسوں میں 20 فیصد کمی کی ہدایت

طلبہ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی طلبہ پر سی اے آئی ای نے اتنی توجہ نہیں دی اور ان طلبہ کو انفرادی اپیل کا حق نہیں ہے۔

ایک احتجاج کرنے والے طالب علم کے والد حامد خان کے مطابق سی اے آئی ای نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم فیس بک پر ایک بیان جاری کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ ان کا مارکنگ سسٹم کس طرح کام کرتا ہے اور اب تک طلبہ کے اعتراضات کو نظرانداز کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان طلبہ کی کوئی آواز نہیں ہے جس کی وجہ سے سی اے آئی ای کے لیے غیر معمولی اور متعصبانہ سلوک کو تسلیم کیے بغیر 'معمول کے مطابق' کاروبار کرنا آسان ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں بچے اپنی ساری زندگی اس کا خمیازہ بھگت سکتے ہیں۔