سینیٹ نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق مزید دو بل منظور کرلیے

اپ ڈیٹ 19 اگست 2020

ای میل

جماعت اسلامی کے ممبران نے ایک بل پر ان کی پیش کردہ ترامیم پر غور نہ کرنے پر احتجاج بھی کیا۔ فائل فوٹو:اے پی پی
جماعت اسلامی کے ممبران نے ایک بل پر ان کی پیش کردہ ترامیم پر غور نہ کرنے پر احتجاج بھی کیا۔ فائل فوٹو:اے پی پی

اسلام آباد: سینیٹ نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق دو مزید بلوں کو جماعت اسلامی کے ممبران کے احتجاج کے باوجود منظور کرلیا۔

جماعت اسلامی کو سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی اور وزیر قانون فروغ نسیم نے یقین دہانی کرائی کہ ان کی مجوزہ ترامیم پر آئندہ ہفتے ایک نئے بل کی شکل میں غور کیا جائے گا۔

سینیٹ نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ٹرسٹ بل 2020 اور منشیات پر کنٹرول (ترمیمی) بل 2020 کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط کے مطابق پاس کیا تاکہ ملک کو دہشت گردی سے متعلق مالی اعانت کے معاملے میں گرے لسٹ سے نکالا جاسکے۔

جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز اور پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی درخواستوں پر سخت احتجاج کے بعد پیر کے روز دونوں بلز کی منظوری کو مؤخر کردیا گیا تھا کیونکہ حزب اختلاف کے سینیٹرز مجوزہ قانون سازی پر بات کرنا چاہتے تھے۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گھر صاف کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، مشاہد حسین

بعد ازاں اپنی تقاریر میں تینوں جماعتوں کے سینیٹرز نے حکمراں پاکستان تحریک انصاف پر 'بین الاقوامی دباؤ کے تحت جلد بازی میں قانون سازی کرنے' پر نہ صرف شدید تنقید کی بلکہ اہم قوانین کی منظوری میں حکومت سے تعاون کرنے پر ملک کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

دونوں بلز کے مؤخر کیے جانے سے قبل ہی سینیٹ نے شور شرابے کے درمیان انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 منظور کرلیا تھا، اس زور شرابہ زیادہ تر بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے اراکین سینیٹ کی جانب سے کیا گیا تھا۔

دو دیگر بل – لمیٹڈ لائبلیٹی پارٹنرشپ (ترمیمی) بل 2020 اور کمپنیز (ترمیمی) بل 2020 کو دوبارہ ایوان بالا میں نہیں اٹھائے جا سکے کیونکہ ان کو سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ اور ریونیو سے ابھی تک منظوری نہیں دی گئی ہے۔

حکومت کی جانب سے حزب اختلاف کی جماعتوں کی تجویز کردہ متعدد ترامیم کو شامل کرنے کے بعد یہ پانچوں بل قومی اسمبلی نے پہلے ہی منظور کرلیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: پاکستان کو ایف اے ٹی ایف سے 5 ماہ کا اضافی وقت مل گیا

بلوں کی منظوری کے بعد مسلم لیگ (ن) کے مشاہد حسین سید نے کسٹم ایکٹ کی مبینہ خلاف ورزی پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی طرف سے پاکستان میں فلسطینی سفیر احمد ربعی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے سے متعلق معاملہ اٹھایا۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نے کہا کہ ایف بی آر نے سفیر سے معافی مانگ لی ہے لیکن یہ قابل قبول نہیں ہے کیونکہ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مسلم ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سفارت کار کو نہ صرف دو گاڑیوں کی درآمد سے متعلق نوٹس پیش کیا گیا بلکہ ایف بی آر کے سامنے پیش ہونے کو بھی کہا گیا جو ویانا کنونشن اور دیگر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، مزید یہ کہ ان کی گاڑیاں ضبط کی گئیں جو دوست ملک کے سفیر کے ساتھ 'زیادتی' ہے۔

انہوں نے اس معاملے پر خاموش رہنے پر دفتر خارجہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا حالانکہ یہ معاملہ گزشتہ ماہ اس کے علم میں لایا گیا تھا۔

سینیٹ کے چیئرمین نے مشاہد سید کی سربراہی میں امور خارجہ سے متعلق کمیٹی کو معاملہ بھجواتے ہوئے کہا کہ وہ ایوان کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کریں۔