تقسیمِ ہند کے دوران بھی قرنطینہ جیسے حالات سے گزرے تھے

05 ستمبر 2020

ای میل

—انتخاب عالم
—انتخاب عالم

78 سالہ سابق کرکٹر انتخاب عالم ایک ایسے شخص ہیں جو کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن اور قرنطینہ سے بیزار نظر نہیں آئے ہیں۔ وہ تقسیمِ ہند کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انہیں محدود کھانے پینے کے سامان اور ایک جوڑی کپڑے کے ساتھ 5 سے 6 دن ایک ہی کمرے میں رہنا پڑا تھا۔

'مجھے ان حالات کا تجربہ ہے۔ (ان حالات) کو تصور میں لانا بھی محال ہے۔ اس زمانے یعنی 1947ء میں کچھ بھی ہمارے بس میں نہیں تھا۔ یہ (کورونا وائرس کی عالمی وبا کا) لاک ڈاؤن تو بہت سہل ہے۔ آج، آپ اپنے گھروں کے اندر بیٹھے ہیں۔ آپ کو کھانا مل رہا ہے۔ آپ فون پر کسی سے بھی بات کرسکتے ہیں۔ آپ ٹی وی بھی دیکھ سکتے ہیں۔ آپ کو گھر پر ہی تمام سہولیات دستیاب ہیں۔

وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ 'یہ کٹھن گھڑی ہے۔ لیکن یہ کٹھن اس لحاظ سے ہے کہ اگر آپ وائرس کا شکار ہوجاتے ہیں تو آپ کی وجہ سے دیگر بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ وائرس سے متاثر ہونے کے بعد قرنطینہ کے اصولوں کی پاسداری کریں تو وائرس سے بچنے کا (پھر بھی) امکان رہتا ہے۔ تقسیمِ ہند کے دوران تو بچنے کا کوئی امکان ہی نہیں تھا۔ ایک بار (کسی محفوظ مقام سے) باہر قدم رکھنے کے بعد آپ کے لوٹنے کی کوئی امید نہیں ہوتی تھی'۔

انتخاب عالم 1947ء کے شملہ ہل اسٹیش کا حوالہ دے رہے تھے جہاں ان کے گھر والے رہتے تھے۔ انہیں یاد ہے کہ وہ مقام برف پوش ہمالیائی پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا۔ مگر ان کے بچپن کا مسرتوں بھرا ماحول جلد ہی ہمیشہ کے لیے بدل جانے والا تھا۔ اس وقت 5 سالہ انتخاب عالم اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنے والد کے کولیگ کے گھر میں جب چھپے ہوئے تھے تب انہیں پتا چلا کہ ایک مشتعل گروہ ان کی طرف بڑھ رہا ہے۔

جیسے ہی آوازیں قریب آتی محسوس ہوئیں تو انہیں یہ آواز سنائی دی کہ 'وہ آچکے ہیں۔ چند لمحوں بعد میرے والدین مجھے جلدی جلدی ایک قریبی پاور ہاؤس لے گئے جو پورے شملہ کو بجلی فراہم کرتا تھا۔ وہ ایک پہاڑی علاقہ تھا جہاں سانپوں اور چیتوں کی بہتات بھی تھی، پھر بھی ہم 2 سے 3 دن تک اسی جگہ پر ٹھہرے رہے'۔

آج چاردیواری میں رہنے کا مقصد وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ 73 برس قبل صرف چاردیواری کے اندر رہنا مقصود نہیں تھا بلکہ دشمنوں کے ہاتھوں سے بچنا مقصود تھا۔ 'آپ باہر قدم نہیں رکھ سکتے تھے۔ اگر باہر جاتے تو قتل کردیے جاتے'۔

جب افراتفری تھمی تو ان کے والد نے اس مہاراجہ سے رابطہ کیا جن کے ساتھ وہ کئی برسوں تک کرکٹ کھیلتے رہے تھے۔ رابطہ قائم ہونے پر ان کے اہلِ خانہ کی مدد کے لیے ایک ٹرک آ پہنچا۔ جس کے بعد وہ لداخی محلے پہنچے اور کچھ دن ایک مسلم خاندان کے ساتھ قیام پذیر رہے۔ کچھ وقت بعد ایک دوسرے ٹرک کا بندوبست کیا گیا جو انہیں کالکا نامی شہر لے گیا۔

'کالکا ٹرین اسٹیشن کے قریب ایک خالی زمین تھی۔ میری والدہ نے کسی سے چادر لے کر دو ڈنڈیوں کی مدد سے ایک چھوٹی چھونپڑی بنالی۔ ہم نے ایک پورا ہفتہ اسی جھونپڑی کے اندر گزارا۔ ہمارے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں تھی۔ رات کے وقت ہمیں فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی تھیں'۔

انہیں وہ لمحات یاد ہیں جب وہ کالکا سے لاہور جانے والی ٹرین پر سوار ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ یہ پاکستان جانے والی آخری ٹرین بھی تھی۔ 'ہمیں کسی بھی طرح چھپنا تھا۔ اب معاملہ کچھ یوں تھا کہ ایک ٹرین مال کی ترسیلات کے لیے تھی جبکہ اس کے بعد والی مسافروں کے لیے تھی۔ اسٹیشن پر ایک غلط فہمی ہوگئی تھی۔ راستے میں آنے والے اسٹیشن پر کھڑے گارڈ نے غلط سنا اور سوچا کہ یہ مال لے جانے والی ٹرین ہے اور یوں اس نے ہری جھنڈی دکھا دی اور فسادیوں نے بھی ٹرین کو چیک نہیں کیا'۔

پاکستان پہنچنے کے بعد انتخاب عالم کے گھر والوں کو اس سے قبل آنے والی ٹرینوں میں ہوئے قتل عام کا پتا چلا۔ ان میں کوئی بھی مسافر زندہ نہیں بچا تھا۔ لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ موجودہ وقت میں پاکستان ریلوے نے لاہور ریلوے اسٹیشن پر قرنطینہ مرکز قائم کیا ہوا ہے۔ لیکن وہ دن بھی جیسے قرنطینہ میں ہی گزرے تھے۔ ہم قریب 2 ماہ تک قریبی مہاجر کیمپ میں ٹھہرے رہے۔

—تصویر بشکریہ لکھاری
—تصویر بشکریہ لکھاری

آج جہاں کئی ممالک کو وائرس کے خلاف اپنی لڑائی میں 1918ء کی عالمی وبا یا پھر دوسری جنگِ عظیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے وہیں پاکستان اور بھارت کو اپنی قدرے تازہ جدوجہد کی یاد تازہ ہو رہی ہے۔ تاہم ان چند اقتصادی اور سماجی مسائل کا تو موازنہ ناممکن سا نظر آتا ہے جو دونوں ملکوں میں پیدا ہوگئے تھے، ان میں بھوک، بے روزگاری اور غربت سے لے کر تیزی سے پھیلتی بیماریاں بھی شامل تھیں۔ 'ان دنوں ہیضے اور پیچس سے متاثر ہونے کا خطرہ بھی لوگوں کے سروں پر منڈلا رہا تھا۔

’آج حکومت کو ایک بڑے امتحان کا سامنا ہے۔ مگر جب 1947ء میں ملک کے پہلے بجٹ کا اعلان ہوا تو پاکستان کے پاس پیسے نہیں تھے۔ مہاتما گاندھی نے پاکستان کے لیے پیسوں کا بندوبست کیا۔ ان دنوں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا ایک جذبہ ہوتا تھا جو آج کے دور میں ناپید ہے۔

'دوسری جنگِ عظیم کے دوران چینی کی قلت پیدا ہوگئی تھی اور لوگوں سے بغیر شکر کی چائے پینے کے لیے کہا گیا اور انہوں نے بغیر شکر کی چائے پی۔ لیکن اِس قوم کو شعور دینا تقریباً ناممکن ہے۔ دیہات میں لوگوں کو پتا ہی نہں کہ کیا ہو رہا ہے۔ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ سینیٹائزر کیا چیز ہوتی ہے'۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عام پاکستانیوں کے لیے تقسیمِ ہند کا واقعہ کئی حوالوں سے زیادہ خونی اور صدماتی تھا۔ مگر پاکستان میں لوگوں کی آزادیوں کو کچھ اس طرح محدود کردیا گیا ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ 73 برس قبل راشن خریدنے سے متعلق جتنے سخت ضابطے تھے اتنے سخت آج کے گروسری کی خریداری کے ضابطے نہیں ہیں مگر ان کی موجودگی ہمیں ایسے حالات میں لے جاتی ہیں جس کا سامنا پہلے کبھی نہیں ہوا۔

انتخاب عالم اپنی نئی طرزِ زندگی کے بارے میں یہ اعتراف کرتے ہیں کہ 'میں گھر سے باہر نہیں جاتا۔ ہمارے ہاں ملازمین نہیں ہیں لہٰذا ہم خود ہی سارا کام کرتے ہیں۔ ہم اپنے گارڈ کو یہ ہدایت دے چکے ہیں کہ کسی کو بھی گھر کے اندر داخل نہ ہونے دیا جائے۔ اگر کسی کی آمد ضروری ہو تو پہلے مہمانوں کے جوتے لازماً دھلوائے جاتے ہیں'۔

آج جہاں انسانیت کسی نہ کسی طرح کے لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہی ہے وہیں انتخاب عالم قرنطینہ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنے لان میں پُرسکون وقت گزار رہے ہیں اور ٹی وی پر پاکستان اور انگلینڈ کے مابین جاری کرکٹ ٹورنامنٹ سے بھی خوب لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ 'پاکستانی ٹیم کے دورہ انگلینڈ سے مجھے خوشی ہوئی ہے۔ اس طرح لوگوں کو کورونا وائرس کی تکلیف کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اگر آپ ایس او پیز کی پیروی کرتے ہیں تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو بہتر سے بہتر کی امید رکھنی چاہیے اور کھیل کا سلسلہ جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں'۔

انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں (وہ surrey ٹیم میں شامل تھے) اور ایک متاثر کن کپتان کے طور پر پہچانے جانے والے انتخاب عالم نے 1969ء اور 1981ء کے درمیان 232 فرسٹ کلاس کرکٹ میچوں میں 629 وکٹیں لیں اور 5 ہزار 707 رنز اسکور کیے۔

ان کے خیال میں لاک ڈاؤن نے ان کے محبوب پروفیشن کو کس حد تک متاثر کیا ہے؟

اگلے چند برسوں میں دونوں بین الاقوامی اور ڈومیسٹک کرکٹ بہت زیادہ مختلف نظر آسکتی ہے۔ دھیرے دھیرے، اس میں بہتری آتی جائے گی۔ میں جانتا ہوں کہ اس وقت میدان خالی ہیں۔ تماشائیوں کی سپورٹ نہ ہونے سے کھلاڑی ذہنی طور پر متاثر ہوسکتے ہیں مگر آپ کو حقیقت تسلیم کرنی ہوگی۔ لاکھوں، کروڑوں لوگ اب بھی انہیں ٹی وی پر دیکھ رہے ہیں۔ میں یہاں صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ دیگر کھیلوں کے بارے میں بھی بات کر رہا ہوں۔ فٹ بالروں نے بھی تماشائیوں کے بغیر اپنا کھیل کھیلنا شروع کردیا ہے'۔

مستقبل کے بارے میں وہ کیا رائے رکھتے ہیں؟

'چونکہ بیرون ملک سفر زیادہ مہنگا ہوسکتا ہے اس لیے ہمیں انتظار کرنا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کا کس طرح آغاز ہوتا ہے۔ اس غرض سے انہیں نئے طریقے اور وسائل تلاش کرنا ہوں گے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرپاتے تو کھلاڑیوں کے لیے اپنا گزارا کرنا مشکل ہوجائے گا۔ پروفیشنل اسپورٹس پر اس کے بُرے مالی اثرات مرتب ہوں گے۔ چنانچہ کھیل کو جاری رکھنا ہوگا'۔

جس نے تقسیمِ ہند سے جنم لینے والا صدمہ سہا اور ایک نئی مملکت کا خون آلود جنم دیکھا اس کے لیے وائرس سے نمٹنا بائیں ہاتھ کا کام ہے، انتخاب عالم ماضی کے واقعات سے گِر کر اٹھنے کا سبق بخوبی سیکھ چکے ہیں۔


یہ مضمون ڈان اخبار کے ایؤس میگزین میں 16 اگست 2020ء کو شائع ہوا۔