امریکی حکومت کی مجوزہ پابندی کے خلاف ٹک ٹاک نے عدالت سے رجوع کرلیا

24 اگست 2020

ای میل

— رائٹرز فوٹو
— رائٹرز فوٹو

سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک نے امریکی حکومت کی جانب سے اپنی سروس پر مجوزہ پابندی کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔

ٹک ٹاک کے مطابق اس مقدمے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 6 اگست کے ایگزیکٹیو آرڈر کو چیلنج کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 'بغیر کسی شواہد کے اتنا سخت فیصلہ کیا گیا اور وہ بھی مناسب طریقہ کار کے بغیر'۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر نے ٹک ٹاک اور وی چیٹ پر پابندیوں کے احکامات جاری کردیے

کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیئے سے اتفاق نہیں کرتی اور ٹرمپ انتظامیہ نے سوشل میڈیا ایپ کی جانب سے خدشات دور کرنے کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کو نظرانداز کردیا۔

بیان کے مطابق کمپنی مقدمے بازی کی بجائے بات چیت کو ترجیح دینا چاہتی ہے، مگر اسے لگتا ہے کہ اس کے ہاتھ باندھ دیئے گئے ہیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا 'ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے ہمارے امریکی آپریشنز پر پابندی کی دھمکی دی گئی، جس سے 10 ہزار امریکی شہریوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع ختم ہوجائیں گے اور وہ لاکھوں امریکی اس سروس سے محروم ہوجائیں گے جو تفریح، دوستوں سے تعلق کے لیے ایپ کا رخ کرتے ہیں، اس وجہ سے ہمارے پاس کوئی انتخاب نہیں رہا تھا'۔

ٹک ٹاک کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی امریکی مارکیٹ کے لیے اپنے عزم کا اظہار کرنے کے لیے متعدد اقدامات کرچکی ہے جبکہ امریکا میں تمام اہم عہدوں پر امریکی شہریوں کی خدمات حاصل کی گئی جو چینی قوانین کے تحت کام نہیں کرتے۔

مزید براں کمپنی کی جانب سے صارفین کا ڈیٹا چین میں محفوظ نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے لیے امریکا اور متعدد سرورز سے مدد لی جاتی ہے۔

ٹک ٹاک کا مزید کہنا تھا کہ اس نے ایسی سافٹ ویئر رکاوٹیں تیار کی ہیں جو صارفین کے ڈیٹا کو بائٹ ڈانس کی دیگر پراڈکٹس سے الگ رکھتی ہیں، خیال رہے ٹک ٹاک کی ملکیت بائٹ ڈانس کے پاس ہے۔

کمپنی نے مزید بتایا کہ لگ بھگ ایک سال سے وہ امریکا کی غیرملکی سرمایہ کاری کی کمیٹی کی جانب سے ٹک ٹاک کے بزنس کے حوالے سے طلب کردہ تفصیلات اور معلومات فراہم کررہی ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ٹک ٹاک دعویٰ کررہی ہے کہ وہ امریکی حکومت کو ہر طرح کی تفصیلات فراہم کرچکی ہے کہ وہ کس طرح کام کرتی ہے اور شہریوں کے لیے خطرہ نہیں، مگر ان تفصیلات کا ذکر 6 اگست کے حکم نامے کہیں نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ 22 اگست کو ٹک ٹاک کی مالک کمپنی بائٹ ڈانس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ کمپنی کے پاس ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف عدالت میں جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچا۔

بائٹ ڈانس نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی قوانین ان کی کمپنی اور ان کے صارفین کے ساتھ مناسب برتاؤ کا تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس لیے انہیں اپنے بچاؤ کا حق حاصل ہے۔

کمپنی کی جانب سے مختصر بیان میں کہا گیا کہ بائٹ ڈانس آنے والے ہفتے کے آغاز میں ہی امریکی عدالت میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف درخوست دائر کرے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ 6 اگست کو ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے ٹک ٹاک کو آئندہ 45 دن میں اپنے امریکی اثاثے کسی دوسری امریکی کمپنی کو فروخت کرنے کی مہلت دی تھی۔

صدارتی حکم نامے میں کہا گیا تھا اگر چینی ایپلی کیشنز کو آئندہ 45 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت نہیں کیا گیا تو ان پر امریکا میں پابندی لگادی جائے گی۔

ٹک ٹاک کو 15 ستمبر 2020 کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی تاہم بعد ازاں 16 اگست کو ٹرمپ انتظامیہ نے مذکورہ مدت میں مزید 45 دن کا اضافہ کردیا تھا۔

16 اگست کو امریکی صدر کی جانب سے جاری کیے گئے نئے حکم نامے میں قومی سلامتی کے تحفظات کو جواز بناتے ہوئے بائیٹ ڈانس کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ امریکا میں اپنے کاروبار کو اگلے 90 دن میں کسی امریکی کمپنی کو فروخت کردے۔

امریکی صدر کی جانب سے ٹک ٹاک کے خلاف بندش کے ایگزیکٹو آرڈر جاری کیے جانے کے بعد مائیکرو سافٹ، ایپل، ٹوئٹر اور اوریکل نامی امریکی کمپنیوں نے ٹک ٹاک کے امریکی اثاثے خریدنے میں دلچسپی بھی ظاہر کی تھی۔

امریکی حکومت اور خصوصی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹک ٹاک کو امریکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں اور انہوں نے امریکی سرکاری عہدیداروں اور فوجی عہدیداروں کے ٹک ٹاک استعمال پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ٹک ٹاک امریکی صارفین کا ڈیٹا چینی حکومت اور وہاں کی خفیہ ایجنسیز کو فراہم کرتا ہے تاہم ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن، انتظامیہ ان دعوؤں کی تردید کرتی ہے۔