اپوزیشن، ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکلنے کی کوششیں سبوتاژ کر رہی ہے، وزیر اعظم

اپ ڈیٹ 12 اکتوبر 2020

ای میل

یہ لوگ این آر او نہ ملنے تک حکومت کو گرانے کی دھمکی دے رہے ہیں، وزیر اعظم — فائل فوٹو / ڈان نیوز
یہ لوگ این آر او نہ ملنے تک حکومت کو گرانے کی دھمکی دے رہے ہیں، وزیر اعظم — فائل فوٹو / ڈان نیوز

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن، حکومت کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوششیں سبوتاژ کر رہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئئٹس میں وزیر اعظم نے کہا کہ 'آج سینیٹ میں اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق دو اہم بلز انسداد منی لانڈرنگ اور دارالحکومت وقف املاک کو ناکام بنایا، میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ اپوزیشن رہنماؤں کے ذاتی مفادات اور ملک کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'چونکہ احتساب کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے، اپوزیشن رہنما پارلیمنٹ کو کام کرنے سے روکنے کی کوشش کرکے اپنا کرپشن کا پیسہ بچانے کے لیے بےتاب ہیں، ان لوگوں نے پہلے حکومت کی کورونا کے خلاف موثر حکمت عملی کو کمزور کرکے اور اب پاکستان کی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوششوں کو سبوتاژ کرکے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی سے منظور شدہ انسداد منی لانڈرنگ سمیت دو بل سینیٹ میں مسترد

وزیر اعظم نے کہا کہ 'اپوزیشن اپنی لوٹ مار کو بچانے کے لیے جمہوریت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتی ہے، انہوں نے این آر او حاصل کرنے کے لیے نیب کو بدنام اور حکومت کو بلیک میل کیا جبکہ یہ ملکی معیشت کو تباہ کرکے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں بھی شامل کروا دیتے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ لوگ این آر او نہ ملنے تک حکومت کو گرانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔'

عمران خان نے کہا کہ 'میں واضح کرتا چلوں کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے، میری حکومت کوئی این آر او نہیں دے گی کیونکہ یہ قوم کے اعتماد کے ساتھ غداری ہوگی، پرویز مشرف نے دو سیاسی رہنماؤں کو این آر اوز دیے جس سے ہمارا قرض چار گنا بڑھا اور معیشت تباہ ہوئی، لیکن اب کوئی این آر او نہیں ملے گا۔'

ایف اے ٹی ایف کو نیب کے دائرہ کار بڑھانے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش ہورہی ہے، شیریں رحمٰن

وزیر اعظم کے بیان پر ردعمل میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما و سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر شیری رحمٰن نے ٹوئٹس کرتے ہوئے کہا کہ 'سینیٹ میں بلز کی مخالفت کی گئی کیونکہ ان میں وارنٹ کے بغیر گرفتاری کا اختیار پولیس اور تفتیش کاروں کو دیا گیا ہے، اس کا ایف اے ٹی ایف نے مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی صورت اس کا دفاع کیا جاسکتا ہے یہاں تک کہ سب سے زیادہ تنگ نظر جمہوریت میں بھی نہیں، ایسے قوانین سفاکانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'ہم نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بچانے اور بنیادی حقوق کی پامالی سے روکنے کے لیے کمیٹیوں میں قوانین کی ترمیم کے حوالے سے کافی محنت کی ہے، ایف اے ٹی ایف کو نیب کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش ہو رہی ہے تاکہ اپوزیشن کا شکار کیا جاسکے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم بھی واضح کر دیں، سپریم کورٹ کے فیصلے، ہیومن رائٹس واچ اور پاکستان بار کونسل نے اس معاملے پر شکوک کا اظہار کیا ہے، ہم پاکستان کو ایک کرپٹ حکومت کے آسرے پر بغیر کسی محاسبے کے پولیس اسٹیٹ نہیں بننے دے سکتے۔'

مزید پڑھیں: سینیٹ نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق مزید دو بل منظور کرلیے

واضح رہے کہ سینیٹ میں قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم کے بیان پر اپوزیشن اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے منظور شدہ ان دو بلز کو مسترد کردیا تھا۔

سینیٹ کے اجلاس کے دوران ایک موقع پر قائد ایوان ڈاکٹر وسیم شہزاد نے کہا کہ جب بھی منی لانڈرنگ کا نام آتا ہے تو یہ اس طرح کیوں ہوجاتے ہیں، کیا منی لانڈرنگ سے محبت ہے یا پھر چڑ ہے۔

قائد ایوان اور پی پی پی سینیٹراسلام الدین شیخ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تو قائد ایوان نے انہیں ایوان سے نکلنے کا اشارہ کیا اورکہا کہ اسلام الدین شیخ نوکری بنا رہا ہے، اس لیے انہیں نوکری بنانے دو۔

قائد ایوان کے بیان پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔

حکمران جماعت کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ پہلے بتا دیں کہ بے بی بلاول ہے جوعمر میں ہم سے 10 سال چھوٹا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف پر بلیک میل کررہی ہے، نیب بل میں 14 ترامیم لے آئے کہ ہمیں چوری کرنے دو۔

اپوزیشن نے فیصل جاوید کے الفاظ پر ایوان میں احتجاج کیا اور سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ آپ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو صبح شام گری ہوئی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جبکہ ہم نے پاکستان کے لیے تعاون کیا تھا۔

سینیٹ میں اپوزیشن نے سابق صدر آصف زرداری اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے متعلق قائد ایوان کے بیان پر شدید احتجاج کیا اورقومی اسمبلی سے منظور شدہ اینٹی منی لانڈرنگ اور اسلام آباد دارالحکومت وقف املاک بل مسترد کردیا۔