شمالی وزیرستان میں فوجی قافلے کے قریب دھماکا، افسر سمیت 3 جوان شہید

اپ ڈیٹ 04 ستمبر 2020

ای میل

دھماکے میں 23سالہ لیفٹیننٹ ناصر حسین خالد، 33سالہ نائیک محمد عمران اور 30سالہ سپاہی عثمان اختر نے جام شہادت نوش کیا— تصاویر بشکریہ آئی ایس پی آر
دھماکے میں 23سالہ لیفٹیننٹ ناصر حسین خالد، 33سالہ نائیک محمد عمران اور 30سالہ سپاہی عثمان اختر نے جام شہادت نوش کیا— تصاویر بشکریہ آئی ایس پی آر

خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے قافلے کے قریب آئی ای ڈی دھماکے میں ایک افسر سمیت 3 اہلکار شہید ہو گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شمالی وزیرستان میں شگانشپا روڈ پر گھیریوم سیکٹر میں سڑک کی مرمت کرنے والی ٹیم کی حفاظت پر مامور پاک فوج کے دستے کے قریب دہشت گردوں کی جانب سے ریموٹ کنٹرول دھماکا کیا گیا۔

مزید پڑھیں: جنوبی وزیرستان: آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ، پاک فوج کے 3 جوان شہید

دھماکے میں 23 سالہ لیفٹیننٹ ناصر حسین خالد، 33 سالہ نائیک محمد عمران اور 30 سالہ سپاہی عثمان اختر نے جام شہادت نوش کیا۔

اس کے علاوہ اس حملے میں 4 فوجی زخمی بھی ہوئے۔

دھماکے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجگور میں سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ، 3 جوان شہید، 8 زخمی

خیال رہے کہ 31 اگست 2020 کو جنوبی وزیرستان میں سرچ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ سے پاک فوج کے 3 جوان شہید ہو گئے تھے۔

اس سے قبل 12 جولائی کو خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران پاک فوج کے 4 جوان شہید ہو گئے تھے، جبکہ 4 دہشت گردوں کو بھی ہلاک کردیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 8 مئی کو بھی میرانشاہ کے علاقے میں ہی ایک سیکیورٹی چیک پوسٹ پر راکٹ حملے میں پاک فوج کے 2 اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: باجوڑ میں سرحد پار سے چیک پوسٹ پر فائرنگ، پاک فوج کا جوان شہید

اس سے قبل اپریل میں ضلع شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں بھی 10 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 6 زخمی ہوئے تھے۔

اسی مہینے میں 26 اپریل کو شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کارروائی کے دوران پاک فوج کے 2 جوان شہید ہوگئے تھے جبکہ 9 دہشت گردوں کو بھی ہلاک کیا گیا تھا۔