طالبان کا وفد بین الافغان مذاکرات کیلئے قطر پہنچ گیا

05 ستمبر 2020

ای میل

امریکا کی جانب سے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے مسلسل زور دیا جارہا ہے — فائل فوٹو / اے پی
امریکا کی جانب سے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے مسلسل زور دیا جارہا ہے — فائل فوٹو / اے پی

طالبان کا وفد قطر پہنچ گیا جس کے بعد افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے آغاز کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بتایا کہ 'ہماری مذاکراتی ٹیم کے تمام اراکین دوحا پہنچ چکے ہیں، چند چھوٹے تکنیکی مسائل کے حل کے بعد مذاکرات کا آغاز ہوگا۔'

یہ بین الافغان مذاکرات امریکا اور طالبان کے درمیان رواں سال فروری میں دوحا میں ہونے والے امن معاہدے کا حصہ ہیں۔

امریکا کی جانب سے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے مسلسل زور دیا جارہا ہے، تاکہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: مائیک پومپیو کا افغان طالبان سے امن عمل پر تبادلہ خیال

امریکا کے مشیر قومی سلامتی رابرٹ او برائن نے گزشتہ ہفتے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ٹیلی فونک گفتگو بھی کی تھی۔

واشنگٹن کی جانب سے پاکستان پر بھی طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

طالبان کے وفد نے حال ہی میں امن مذاکرات پر تبادلہ خیال کے لیے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم تاحال کابل میں ہی موجود ہے، تاہم لاجسٹک ٹیم رواں ہفتے دوحا پہنچی تھی۔

افغان حکومت کی مفاہمتی کونسل کے ترجمان فریدون خازون نے کہا کہ ان کی مذاکراتی ٹیم بات چیت کے لیے تیار ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ 'قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور اب مذاکرات میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں ہے۔'

مزید پڑھیں: افغان صدر کا مزید 2 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان

تاہم ان کا کہنا تھا کہ 'طالبان مذاکرات کے لیے تیار نظر نہیں آرہے، ہم ان سے جلد مذاکرات کے آغاز کی امید رکھتے ہیں۔'

واضح رہے کہ طالبان اور امریکا کے درمیان معاہدے کے مطابق بین الافغان مذاکرات کا آغاز مارچ میں ہونا تھا۔

تاہم قیدیوں کے تبادلے اور موجودہ کشیدگی پر اختلافات کے باعث مذاکرات میں مسلسل تاخیر ہوتی رہی ہے۔