چاند کے ایک انوکھے معمے نے سائنسدانوں کو چکرادیا

06 ستمبر 2020

ای میل

— اے ایف پی فائل فوٹو
— اے ایف پی فائل فوٹو

راتوں کو تاریک آسمان میں مدھم روشنی بکھیرنے والا چاند سائنسدانوں کے لیے ہمیشہ سے تجسس کا باعث رہا ہے۔

چاند کے بارے میں بہت کچھ ہے جو سائنسدانوں کے ذہنوں کو چکرانے کے لیے کافی ہے، جن میں سے ایک اسے زنگ لگنا ہے۔

جی ہاں چاند کو زنگ لگ رہا ہے اور یہ جان کر سائنسدانوں کا ردعمل بھی آپ جیسا ہی تھا، کیونکہ ایسا بظاہر ممکن نہیں۔

اس کی وجہ بھی سادہ ہے جب چاند پر آکسیجن ہی نہیں تو زنگ لگ ہی نہیں سکتا۔

اگر آپ کو علم نہ ہو کہ زنگ کیسے لگتا ہے تو جان لیں کہ نمی کے ساتھ دوسرا اہم ترین عنصر آکسیجن ہے، مگر نئے شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ چاند پر یہ حیرت انگیز عمل ہوا ہے۔

چاند کی سطح پر پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف تو ہوا ہے مگر آکسیجن وہاں موجود نہیں۔

یہی وجہ ہے جب چاند کے حوالے سے جمع ڈیٹا کا تجزیہ ناسا اور ہوائی انسٹیٹوٹ آف جیوفزکس اینڈ پلانیٹولوجی نے کیا تو وہ زنگ کے آثار دریافت کرکے دنگ رہ گئے۔

چاند پر آئرن والی متعدد چٹانیں ہیں مگر زنگ تو اسی وقت لگتا ہے جب لوہا آکسیجن اور پانی یا نمی کی زد پر ہو۔

ناسا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا 'پہلے تو ہمیں یقین ہی نہیں آیاا، کیونکہ چاند کے ماحول کو دیکھتے ہوئے ایسا ہونا ہی نہیں چاہیے'۔

چاند پر نہ صرف ہوا کا نام نام و نشان نہیں بلکہ وہاں سورج سے ہائیڈروجن کا بہاؤ بہت زیادہ ہوتا ہے، کسی چیز پر زنگ اس وقت لگتا ہے جب آکسیجن لوہے سے الیکٹرونز کو نکال دیتا ہے، جبکہ ہائیڈروجن سے یہ عمل الٹا ہوجاتا ہے یعنی الیکٹرونز کا اضافہ ہوجاتا ہے، جس سے زنگ کا لگنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

تحقیقی ٹیم کے قائد اور ہوائی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی شوائی لی نے کہا 'یہ چکرا دینے والا معاملہ تھا، کیونکہ چاند کا ماحول زنگ کے لیے موزوں نہیں'۔

جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع تحقیق میں کئی ماہ کی محنت کے بعد سائنسدانوں کو لگتا ہے کہ وہ اس کا جواب پانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور یہ معمہ درحقیقت ہمارے اپنے سیارے یعنی زمین سے جڑا ہے۔

اس حوالے سے ایک بڑا سراغ یہ ہے کہ چاند کے اس حصے میں زنگ کے آثار نظر آئے ہیں جس کا رخ زمین کی جانب ہے۔

زمین ایک مقناطیسی میدان کے گھیرے میں اور شمسی ہوا کے نتیجے میں مقناطیسی کشش کی ایک طویل لکیر ہوا کے ساتھ بنتی ہے۔

چاند اس لکیر میں پورے چاند کی رات سے 3 دن قبل داخل ہوتا ہے اور 6 دن میں اس سے گزر کر دوسری جانب نکلتا ہے۔

ان 6 دنوں میں زمین کی مقناطیسی لکیر چاند کی سطح کو الیکٹرونز سے بھرتی ہے اور اس دوران کافی کچھ عجیب بھی ہوتا ہے۔

ناسا کے مطابق یعنی چاند پر مٹی کے ذرات سطح سے اور تیر سکتے ہیں اور چاند کی مٹی آندھی کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔

محققین کے خیال میں اس دوران زمین سے آکسیجن بھی مقناطیسی لکیر کے ذریعے سفر کرکے چاند ر ہنتی ہے اور وہاں انی کے مالیکیولز سے مل کر زنگ کا باعث بنتی ہے۔

زمین کی مقناطیسی کشش مکمل چاند کے دوران لگ بھگ تمام شمسی ہواؤں کو بلاک کرتی ہے، یعنی اند اس عرصے کے دوران ہائیڈروجن سے محفوظ رہتا ہے، جس سے زنگ کے لیے ایک راستہ کھل جاتا ہے۔

شوائی لی کا کہنا تھا کہ اس دریافت سے چاند کے قطبی حصوں کے بارے میں ہمارے معلومات نئی شکل اختیار کرسکے گی، زمین ممکنہ طور پر چاند کی سطح کے ارتقا میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مگر اب بھی کچھ سوال حل طلب ہیں مثال کے طور پر چاند پر بیشتر زنگ زمین والے رخ پر نظر آیا مگر کچھ حصے اس خطے میں بھی ہیں جہاں زمین سے آکسیجن کا ہہنچنا ممکن نہیں، یہ بھی واضح نہیں کہ چاند پر موجود پانی کس طرح چٹانوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔

اب ناسا کی جانب سے ایسے آلات تیار کیے جاارہے ہیں جو زمین کے معدنیاتی ذخائر کے ڈیٹا کو اکٹھا کرسکیں، جبکہ چاند پر برفانی پانی کے نقشے بھی بنائے جائیں گے، جس سے اس معمے کے بارے میں مزید جاننا ممکن ہوسکے گا۔