اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے برآمدی شعبے کے لیے بجلی اور گیس کی سبسڈی کی شرح کی منظوری دے دی جبکہ آلو کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کے اقدام کو مسترد کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت اجلاس میں پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے لیے سبسڈی کی شرائط میں 'سیلولر سروسز اسپیکٹرم' سے متعلق ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔

مزیدپڑھیں: کراچی کو گیس، بجلی کی فراہمی میں بہتری کی یقین دہانی

اجلاس میں برآمدی شعبوں سے متعلق ایک بین الوزارتی کمیٹی کے بارے میں مفاہمت کی گئی اور برآمدی شعبوں (صفر درجے والے شعبوں) کے لیے بجلی اور آر ایل این جی کے مراعات یافتہ نرخوں کو جاری رکھنے کی منظوری دی گئی۔

فیصلے کے تحت پاور کمپنیاں جولائی اور اگست کے لیے 5 برآمدی شعبے کو 7.5 سینٹ فی یونٹ (کلو واٹ) کی شرح پر بجلی فراہم کریں گی اور پھر باقی مالی سال کے لیے 9 سینٹ فی یونٹ بجلی فراہم کریں گی، اس سے بجٹ پر 13 ارب روپے کا مالی اثر پڑے گا۔

اس کے علاوہ مقامی گیس اور آر ایل این جی کا مرکب مذکورہ شعبوں کو 65 لاکھ ڈالر فی برٹش تھرمل یونٹ کی مقررہ شرح سے بھی فراہم کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی، گیس کے بلز معاف کرنے کا منصوبہ، وفاق سندھ حکومت پر برہم

توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے بھی درآمدی گیس کی اصل قیمت 5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگی جو نقد سرپلس کا باعث بنے گی اور مستقبل میں ایل این جی لاگت میں اضافے کے صورت میں ایڈجسٹ ہوجائے گی۔

ای سی سی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ فنانس ڈویژن پاور ہولڈنگ کمپنی (پی ایچ ایل) کے توسط سے بجلی کے شعبے کے لیے 31 ارب روپے کی موجودہ گارنٹی جاری رکھے گی۔

اجلاس میں نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز (این جی ایم ایس) اسپیکٹرم کے اجرا، موبائل براڈ بینڈ خدمات کی بہتری اور ملک میں فروخت نہ ہونے والے اسپیکٹرم کی نیلامی کے لیے ڈاکٹر حفیظ شیخ کی سربراہی میں ایک مشاورتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔

مذکورہ کمیٹی میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات، وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت، صنعت و پیداوار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقیاتی اور خصوصی اقدامات کے علاوہ انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کے دیگر ممبران بھی شامل ہوں گے تاکہ آئندہ ہونے والے مسائل سے بچا سکے۔

مزیدپڑھیں: نیپرا نے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں بجلی کے نرخ بڑھا دیے

کمیٹی ملک میں زیادہ سے زیادہ این جی ایم ایس اسپیکٹرم کے اجرا کے لیے مارکیٹ ٹیلی وژن رپورٹ اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی سفارشات کا جائزہ لے گی۔

کمیٹی این جی ایم ایس اسپیکٹرم کی اجرا کے لیے وفاقی حکومت کی پالیسیوں یا ہدایات کی جانچ کے بعد حتمی سفارشات طے کرے گی اور پھر پی ٹی اے کے ذریعے اجرا کیے گئے اقدام کی نگرانی کرے گی۔

علاوہ ازیں ای سی سی نے 22 جولائی کو نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (این پی ایچ ڈی اے) کی سبسڈی سے متعلق فیصلے میں ترمیم کی بھی منظوری دی۔

تبصرے (1) بند ہیں

Khan Sep 10, 2020 06:39pm
3 جی کی نیلامی کا تو معلوم ہوا تھاا ور 4جی کا پتہ چلا کہ زونگ نے اس کو خریدا۔ باقی کمپنیاں کس قانون کے تحت 4 جی سروس فراہم کررہی ہے۔ کیا یہ کارٹ لائزیشن نہیں ہے۔ 4جی کا معلوم ہی نہیں ہو رہا ہے کہ حکومت کو کتنی آمدنی ہوئی۔ اسی طرح اتصالات سے 80 کروڑ ڈالر کب لیے جائینگے۔