بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 72 ویں برسی

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2020

ای میل

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح—فوٹو: اسکرین شاٹ
بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح—فوٹو: اسکرین شاٹ

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی 72 ویں برسی ملک بھر میں آج انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جارہی ہے۔

بانی پاکستان کے یوم وفات کے موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، سیاسی و سماجی شخصیات کا مزار قائد پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔

اسی سلسلے میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، گورنر سندھ عمران اسمٰعیل اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بابائے قوم کے مزار پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔

مزید پڑھیں: 'شکریہ جناح'، اہم شخصیات کا قائد اعظم کو خراج عقیدت

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بابائے قوم کی برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم کے وژن کے مطابق پرامین اور مستحکم پاکستان ہمارا ہدف ہے اور انشااللہ اتحاد اور اتفاق سے ہم ہدف حاصل کرکے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے مسلمانوں کے لیے دو قومی نظریے کی بنیاد پر جدوجہد کی، بابائے قوم کی قیادت میں پاکستان خود مختار ریاست بن کر ابھرا جس پر قوم قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

صدر مملکت، گورنر اور وزیراعلیٰ نے مزار قائد پر حاضری دی—اسکرین شاٹ
صدر مملکت، گورنر اور وزیراعلیٰ نے مزار قائد پر حاضری دی—اسکرین شاٹ

برصغیر کے مسلمانوں کو پاکستان کی صورت میں ایک آزاد وطن دینے والے محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو پیدا ہوئے اور انہوں نے ابتدائی تعلیم کا آغاز 1882 میں کیا۔

وہ 1893 میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے 1896 میں وکالت کا امتحان پاس کیا اور وطن واپس آئے۔

محمد علی جناح کی شخصیت ایک اعلیٰ اور مثالی کِردار کی حامل تھی، انہوں نے مذہب کے جمہوری اور انصاف پر مبنی اُصولوں کو اپنا کر عزت حاصل کی، وکالت اور سیاست میں رہ کر اپنے دامن کو صاف ستھرا رکھا اور مسلمانوں کی ذِہنی تعمیرِنو میں روشنی کا مینار بنے رہے۔

انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز اعلیٰ معیار اور دیانت سے کِیا اور اپنے لیے ایک ایسا لائحۂ عمل وضع کیا جو ہمیشہ جامع اور مکمل رہا۔

یہ بھی پڑھیں: قائد اعظم کی زندگی کے گمشدہ اوراق

آپ (محمد علی جناح) کا انتقال پاکستان کے آزاد ہونے کے ایک سال بعد 11 ستمبر 1948 کو ہوا۔

بابائے قوم کا یوم وفات ہمیں ایک ایسے عظیم ترین قائد کی یاد دلاتا ہے جس نے برصغیر کے خوف زدہ اور مایوس مسلمانوں کو ایک نصب العین دیا تھا۔

انہوں نے حصول منزل کے لیے ایک ایسی بے مثل قیادت فراہم کی جس نے بے شمار رکاوٹوں کے باوجو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ایک علیحدہ وطن کا قیام یقینی بنادیا۔