'سی سی پی او کا بیان مناسب نہیں، انتظامی معاملات میں الجھے تو ہدف حاصل نہیں کرسکتے'

اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2020

ای میل

وزیر قانون پنجاب راجا بشارت—اسکرین شاٹ
وزیر قانون پنجاب راجا بشارت—اسکرین شاٹ

وزیر قانون پنجاب نے لاہور موٹروے گینگ ریپ کیس سے متعلق سی سی پی او کے بیان کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور وزیراعلیٰ، عمر شیخ کی برطرفی کے مطالبے سے آگاہ ہیں اور یہ ان کا اختیار ہے کہ انہوں نے کیا فیصلہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاہم اس وقت ہماری مکمل توجہ ملزمان کو گرفتار کرنے میں ہے لہٰذا اس وقت اگر ہم انتظامی معاملات میں الجھ گئے تو ہم شاید اصل ہدف حاصل نہ کرسکیں۔

لاہور موٹروے کے قریب پیش آئے گینگ ریپ کے واقعے کے بعد جائے وقوع کے دورے پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اسی رنگ روڈ پر ایک انتہائی افسوسناک واقعہ رونما ہوا اور اس کے بعد سے ہماری ٹیمز تفتیش کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور موٹروے کے قریب 2 مسلح افراد نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ گاڑی بند ہونے پر وہاں مدد کی منتظر تھیں۔

مزید پڑھیں: موٹروے ریپ کیس: مسلم لیگ (ن) کا سی سی پی او لاہور کی برطرفی کا مطالبہ

اب تک موجود معلومات کے مطابق لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کی رہائشی 30 سال سے زائد عمر کی خاتون اپنے 2 بچوں کے ہمراہ رات کو تقریباً ایک بجے اس وقت موٹروے پر پھنس گئیں جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا، اس دوران جب وہ مدد کے لیے انتظام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تب 2 مرد وہاں آئے اور انہیں اور ان کے بچوں (جن کی عمر 8 سال سے کم تھی) بندوق کے زور پر قریبی کھیت میں لے گئے۔

بعد ازاں حملہ آوروں نے بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا، جس کے کچھ وقت بعد پولیس اور خاتون کا ایک رشتے دار جسے پہلے کال کی گئی تھی وہ جائے وقوع پر پہنچے، تاہم تب تک حملہ آور فرار ہوگئے تھے اور خاتون سے کیش اور دیگر قیمتی سامان بھی لے گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سی سی پی او عمر شیخ کی جانب سے ایک متنازع بیان دیا گیا جس میں کہا گیا کہ 'خاتون رات ساڑھے 12 بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں، میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو آپ جی ٹی روڈ کا سیدھا راستہ لیں اور گھر چلی جائیں اور اگر آپ موٹروے کی طرف سے نکلی ہیں تو اپنا پیٹرول چیک کر لیں'۔

سی سی پی او کے اس ریمارکس پر عوام کی جانب سے سخت مذمت کی گئی اور ان کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اسی معاملے پر آج راجا بشارت سے جب سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیان سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ سی سی پی او کے بیان سے اتفاق نہیں کرتا اور سمجھتا ہوں کہ وہ مناسب بیان نہیں تھا، اس وقت ہماری مکمل توجہ ملزمان کو گرفتار کرنے میں ہے تاہم اس وقت اگر ہم انتظامی معاملات میں الجھ گئے تو ہم شاید اصل ہدف حاصل نہ کرسکیں۔

سی سی پی او کی برطرفی کے مطالبے پر انہوں نے کہا کہ حکومت اور وزیراعلیٰ اس مطالبے سے آگاہ ہیں اور یہ ان کا اختیار ہے کہ انہوں نے کیا فیصلہ کرنا ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب نے میری سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن، فرانزک اور موٹروے سمیت سارے اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں، آج اس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کے بعد جائے وقوع کو دیکھنے کا فیصلہ ہوا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری نگران کمیٹی تمام معاملات تحقیقات سمیت انتظامی معاملات کو بھی دیکھ رہی ہے، تاہم ایک خصوصی کمیٹی آئی جی کی جانب سے بنائی گئی ہے جس کے ماتحت 28 ٹیمز کام کر رہی ہیں۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جائے وقوع سے جو بھی ثبوت ملا وہ فرانزک کو دیا جبکہ متاثرہ خاتون کا میڈیکل بھی ہوچکا ہے اور ان سے بھی فرانزک سے متعلق مواد لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پنجاب حکومت اور عثمان بزدار کا پورا زور اس بات پر ہے کہ ہمیں کسی طرح بھی اصل ملزمان تک پہنچنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ لاہور پولیس کے لیے چیلنج ہے، ہم نے اصل کردار کو سامنے لانا ہے اور قانون کے مطابق انہیں قرار واقعی سزا دلوانی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گینگ ریپ کا شکار خاتون کے حوالے سے بیان پر سی سی پی او لاہور کو تنقید کا سامنا

انہوں نے کہا کہ اس وقت جتنا ایک عام آدمی کا دل دکھی ہے اتنا ہی حکومت میں شامل ہر فرد بشمول وزیراعلیٰ کا دل دکھی ہے، تاہم میں سمجھتا ہوں کہ صوبے کی تمام خواتین کے تحفظ کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے۔

دوران گفتگو راجا بشارت کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے جو کمیٹی بنائی ہے اس کے 2 کام ہے ایک اسے تحقیقات کرنی ہے دوسرا یہ آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے تجاویز بھی دینی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پنجاب ہائی وے پیٹرولنگ اتھارٹی بنائی تھی لیکن اسے غیرفعال کردیا گیا تھا لیکن اب وزیراعلیٰ نے اس کے لیے نئی گاڑیاں خریدنے کا کہا ہے جبکہ پولیس کی پیٹرولنگ اور تھانوں کی ورکنگ بہتر بنانے کے لیے 500 نئی گاڑیاں خریدی جارہی ہیں، حکومت کی طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی کیونکہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

اس موقع پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت جو عام شہری کے جذبات ہیں وہی حکومت میں موجود ہر فرد کے جذبات ہے، تاہم عوام کے جذبات میں تسلی لانے کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ اصل مجرمان تک پہنچیں اور پھر انہیں سزا دی جائے۔

موٹروے کی حدود سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں، کوئی بھی پہلو مغفی نہیں رکھا جائے گا۔

اس قسم کے واقعات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کا سدباب ہونا چاہیے اور اس کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔