موٹروے پر خاتون سے زیادتی کے اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، وزیر اعلیٰ پنجاب

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2020

ای میل

اس واقعے میں عابد کے ساتھ وقار الحسن شریک ملزم تھا، انعام غنی — فوٹو: اے پی پی
اس واقعے میں عابد کے ساتھ وقار الحسن شریک ملزم تھا، انعام غنی — فوٹو: اے پی پی

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

لاہور میں صوبائی وزرا اور آئی جی پنجاب کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ 'ملزمان کی گرفتاری میں مدد کرنے والوں کے لیے 25،25 لاکھ روپے کا انعام رکھا ہے اور ملزمان کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔'

مرکزی ملزم عابد علی — فوٹو: حکومت پنجاب
مرکزی ملزم عابد علی — فوٹو: حکومت پنجاب

انہوں نے کہا کہ پولیس اور متعلقہ اداروں کو ہدایات کی ہیں کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں، میرا متاثرہ خاتون سے بھی رابطہ ہوا ان کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے اور جن درندوں نےخاتون سے زیادتی کی ہےجلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے متاثرہ خاتون سے متعلق متنازع بیان کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 'آئی جی پنجاب نے سی سی پی او کو نامناسب بیان پر شوکاز نوٹس دیا ہے، سی سی پی او سے 7 روز میں جواب مانگا گیا ہے اور جواب پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔'

مرکزی ملزم کا ڈی این اے میچ کرگیا، آئی جی پنجاب

آئی جی پنجاب انعام غنی نے کیس کی تحقیقات میں اب تک ہونے والی پیشرفت سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ 'سائنسی تحقیقات میں وقت لگتا ہے، گزشتہ رات 12 بجے کے قریب کنفرم ہوا کہ عابد علی نامی ملزم واقعے میں ملوث ہے، ملزم کا پہلے ڈی این اے ٹیسٹ ہوا تھا جس سے نمونے میچ کر گئے۔'

شریک ملزم وقارالحسن — فوٹو: ڈان نیوز
شریک ملزم وقارالحسن — فوٹو: ڈان نیوز

انہوں نے کہا کہ 'عابد علی بہاولنگر کے علاقے فورٹ عباس کا رہائشی ہے، ملزم کی نشاندہی کے بعد راتوں رات ہم نے فورٹ عباس سے ساری تفصیلات جمع کیں جبکہ عابد کے نام پر 4 سمیں تھیں جو مختلف اوقات میں وہ بند کرچکا۔'

ان کا کہنا تھا کہ ملزم کے گھر پر چھاپے کے دوران عابد اور اس کی بیوی کھیتوں میں فرار ہوگئے، اس کی بچی ہمیں ملی ہے۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ اس واقعے میں عابد کے ساتھ وقار الحسن شریک ملزم تھا، ملزمان کا تمام ریکارڈ موجود ہے، ہم ان کے پیچھے ہیں اور جلد ان تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ متاثرہ خاتون کو وقت پر مدد فراہم نہیں کی جاسکی کیونکہ واقعے کے وقت موٹروے پولیس اس روٹ پر موجود نہیں تھی۔

قبل ازیں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل کا کہنا ہے کہ موٹروے زیادتی کیس میں مطلوب ملزمان میں سے ایک کا ڈی این اے ریکارڈ سے میچ کرگیا ہے اور مرکزی ملزمان کی نشاندہی ہوگئی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں شہباز گل نے کہا کہ 'ملزم کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔'

انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، صوبائی پولیس چیف اور سی سی پی او لاہور کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کیس سے متعلق صبح 4 بجے تک اجلاس ہوا۔

وزیر اعلیٰ کی جانب سے کیس میں اس اہم پیشرفت سے متعلق جلد پریس کانفرنس میں اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔

عثمان بزدار کے سابق ترجمان شہباز گل نے کہا کہ 'وزیر اعلیٰ نے کیس کی خود نگرانی کی، کام بولتا ہے، الفاظ نہیں۔'

قبل ازیں وزیر اعلیٰ کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا اظہر مشوانی کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ عثمان بزدار کو جمع کرادی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موٹروے گینگ ریپ کیس کی گتھی تاحال نہیں سلجھ سکی

اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے کیس پر مل کر کام کر رہے ہیں اور مشتبہ ملزمان کی ڈی این اے پروفائلنگ کی جارہی ہے۔

اظہر مشوانی نے کہا کہ پنجاب ہائی وے پیٹرول کے اہلکار اب موٹروے پر تعینات کر دیے گئے ہیں جہاں واقعہ پیش آیا، حکومت نے موٹروے کی ہیلپ لائن (130) کو 15 اور 1124 ہیلپ لائنز سے منسلک کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ کیس کے حوالے سے اہم پیشرفت خاتون سے اجتماعی زیادتی کے واقعے کے تین روز بعد سامنے آئی ہے۔

اس واقعے پر ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور واقعے نے لاہور ۔ سیالکوٹ موٹروے پر سیکیورٹی کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔

خیال رہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور کے مضافات میں حملہ آور فرانسیسی شہریت رکھنے والی خاتون کو ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد اے ٹی ایم کارڈ لے گئے تھے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب ایک خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ گاڑی کا فیول ختم ہونے پر موٹروے پر کھڑی تھیں کہ 2 مسلح افراد وہاں آئے اور مبینہ طور پر خاتون اور ان کے بچوں کو مارا، جس کے بعد وہ انہیں قریبی کھیتوں میں لے گئے جہاں خاتون کا ریپ کیا گیا۔

بعد ازاں جمعرات کو آنے والے شدید غم و غصے کے بعد حکومت جمعہ کو کوشش کرتی نظر آئی تاہم جب تک کیس کی تحقیقات میں شامل مختلف ایجنسیوں کی جانب سے کوئی کڑی کی تفصیلات مجسس پاکستانیوں سے چھپی ہے سرکاری تصویر صرف کوششوں سے بڑھ کر نظر نہیں آرہی۔

تفتیش کاروں نے ان 2 مشتبہ افراد کے تعاقب میں اپنی مہارت کا استعمال کیا جو شاید اپنی انگلیوں کے نشان اور ڈی این اے اس وقت پیچھے چھوڑ گئے جب انہوں نے متاثرہ خاتون اور بچوں کو زبردستی کار سے نکالنے کے لیے کار کی کھڑکی توڑی۔