موٹروے ریپ کیس: سی سی پی او لاہور نے اپنے بیان پر معذرت کرلی

اپ ڈیٹ 14 ستمبر 2020

ای میل

سی سی پی او لاہور عمر شیخ—فائل فوٹو: ڈان نیوز
سی سی پی او لاہور عمر شیخ—فائل فوٹو: ڈان نیوز

لاہور کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) عمر شیخ نے موٹروے گینگ ریپ کیس سے متعلق اپنے متنازع بیان پر معافی مانگ لی۔

صحافیوں کے سامنے دیے گئے ایک ویڈیو بیان میں سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے کہا کہ 'میں نے پہلے بھی معذرت کی تھی کیونکہ میرا کوئی بھی غلط مطلب یا تاثر نہیں تھا اور اگر اس میں میری وجہ سے کوئی غلط فہمی ہوئی تو میں تہہ دل سے اپنی بہن، جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، اس سے معذرت کرتا ہوں'۔

انہوں نے کہا کہ 'میں ان تمام طبقات سے جہاں پر رنج و غم اور غصے کی کیفیت ہے میں ان سب سے معذرت کرتا ہوں'۔

مزید پڑھیں: سی سی پی او کے بیان پر پوری پنجاب کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے تھی، لاہورہائیکورٹ

تاہم اس موقع پر صحافی کی جانب سے اصل ملزمان کی تاحال گرفتاری میں پولیس کی ناکامی سے متعلق سوال کیا جس پر سی سی پی او نے کوئی جواب نہیں دیا۔

واضح رہے کہ 9 ستمبر کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر گجرپورہ کے علاقے میں 2 مسلح افراد نے ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ گاڑی بند ہونے پر اپنے بچوں کے ہمراہ مدد کی منتظر تھیں۔

اس واقعے کے بعد جہاں ایک طرف عوام میں شدید غم و غصہ تھا وہی سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے ایک متنازع بیان نے اس میں مزید شدت ڈال دی تھی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے انہیں ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

سی سی پی او لاہور نے کہا تھا کہ 'خاتون رات ساڑھے 12 بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں، میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو آپ جی ٹی روڈ اکا سیدھا راستہ لیں اور گھر چلی جائیں اور اگر آپ موٹروے کی طرف سے نکلی ہیں تو اپنا پیٹرول چیک کر لیں'۔

انہوں نے کہا تھا کہ کہ ان کی گاڑی ہرگز خراب نہیں ہوئی اور ایک بجے جیسے ہی انہوں نے ٹول پلازہ عبور کیا ہے تو اس کے چار کلومیٹر بعد ان کا پیٹرول ختم ہو گیا لیکن وہ کن حالات میں اتنی رات کو جا رہی تھیں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا بلکہ ان کے اہلخانہ کو اس بارے میں زیادہ پتہ ہو گا۔

بعد ازاں عمر شیخ نے خاتون کے حوالے سے اپنے متنازع بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے عوام کو ایک پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ہمارا معاشرہ ایسا نہیں ہے لہٰذا احتیاط سے کام لینا چاہیے لیکن ہم نے اپنی ذمے داری سے پہلو تہی نہیں کی۔

اپنے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سی سی پی او نے کہا تھا کہ خاتون کو جی ٹی روڈ سے جانے کا مشورہ دینے کا مقصد انہیں مورد الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ یہ بتانا تھا کہ ہمارا معاشرہ ایسا ہے کہ آپ احتیاط سے کام لیں۔

یہ بھی پڑھیں: موٹروے پر مدد کی متلاشی خاتون کا 'ڈاکوؤں' نے 'گینگ ریپ' کردیا

ان کا کہنا تھا کہ کے خاتون کے شوہر اور اہلخانہ فرانس میں ہیں اور ان کے ذہن میں فرانس کا ماحول تھا جس کی وجہ سے وہ رات میں گھر سے باہر نکلیں، وہ سمجھ رہی تھیں کہ ہمارا معاشرہ بھی اسی طرح محفوظ ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ فرانس وغیرہ میں معاشرے صرف قانون سے محفوظ نہیں ہیں بلکہ وہاں اخلاقی قدروں، قانون کی بالادستی اور عملداری کی وجہ سے محفوظ ہیں اسی لیے خواتین وہاں رات میں سفر کرتی ہیں اور ان کو کچھ نہیں ہوتا۔

سی سی پی او کے ان بیانات نے عوام میں شدید غم و غصے کی لہر پھیلا دی تھی اور سیاستدانوں، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عام شہریوں کی جانب سے سی سی پی او کو ہٹانے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

بعد ازاں 12 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا تھا کہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس پنجاب انعام غنی نے عمر شیخ کو ان کے ریمارکس پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا۔

ساتھ ہی عثمان بزدار نے سی سی پی او کے بیان کو 'غیر ضروری بیان' قرار دیا تھا۔

وزیراعلیٰ نے بتایا تھا کہ آئی جی نے سی سی پی او کو ان کے بیان پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ جواب جمع کروانے کے بعد سی سی پی او کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔