موٹروے گینگ ریپ کے خلاف احتجاج میں شرکت پر خلیل الرحمٰن کو تنقید کا سامنا

14 ستمبر 2020

ای میل

خلیل الرحمٰن قمر نے ماضی میں خواتین سے متعلق نامناسب اور متنازع بیانات دیے تھے—فوٹو: اسکرین شاٹ
خلیل الرحمٰن قمر نے ماضی میں خواتین سے متعلق نامناسب اور متنازع بیانات دیے تھے—فوٹو: اسکرین شاٹ

پاکستان کے نامور ہدایت کار اور ڈراما رائٹر خلیل الرحمٰن قمر ویسے تو اپنے پروجیکٹس اور خواتین سے متعلق بیانات کے باعث خبروں میں رہتے ہیں۔

تاہم حال ہی میں لاہور موٹروے گینگ ریپ کیس کے خلاف ہونے والے احتجاج پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

خیال رہے کہ اپنے مقبول ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ کی وجہ سے شہرت حاصل کرنے کے بعد اپنے متعدد انٹرویوز میں خلیل الرحمٰن قمر نے خواتین سے متعلق نامناسب اور متنازع بیانات دیے تھے۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’برابری کی بات ہے تو پھر لڑکیاں اٹھا کر لے جائیں مردوں کو اور گینگ ریپ کریں ان کا، پھر بات ہو برابری کی اور پتا چلے کہ کون سی برابری مانگ رہی ہیں'۔

مزید پڑھیں: خلیل الرحمٰن قمر کے نامناسب جملوں پر ٹی وی انتظامیہ کی ماروی سرمد سے معذرت

مصنف کا مزید کہنا تھا کہ 'میں ہر عورت کو عورت نہیں کہتا، میری نظر میں عورت کے پاس ایک خوبصورتی ہے اور وہ اس کی وفا اور حیا ہے، اگر وہ نہیں تو میرے لیے وہ عورت ہی نہیں'۔

ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ 'مجھ سے بڑا فیمنسٹ پاکستان میں کوئی نہیں، لیکن میں صرف اچھی خواتین کو سپورٹ کرتا ہوں'۔

اسی طرح انہوں نے اداکارہ سونیا حسین کے حوالے سے ایک پروگرام مین نامناسب بات کہتے ہوئے کہا تھا کہ ’سونیا حسین ابھی اس قابل ہی نہیں ہو سکیں کہ وہ ان کے لکھے اسکرپٹ پر اداکاری کر سکیں‘۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ خلیل الرحمٰن قمر نے کسی ٹی وی پروگرام میں خواتین کے خلاف نازیبا استعمال کی ہو، وہ اس سے قبل بھی خواتین سے متعلق نامناسب بیانات دے چکے تھے۔

بعدازاں انہوں نے 3 مارچ کی شب ’نیو ٹی وی‘ کے ایک پروگرام میں ’عورت مارچ‘ پر بحث کے دوران خواتین کے حقوق کی رہنما ماروی سرمد کے لیے انتہائی نامناسب زبان استعمال کی تھی جس پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ماروی سرمد کو گالی دے کر اپنا بدلہ لیا، خلیل الرحمٰن قمر

تاہم گزشتہ دنوں خلیل الرحمٰن قمر جب موٹر وے پر پیش آنے والے ریپ کے واقعے کے خلاف لاہور میں جاری احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچے تو عوام کی جانب سے ان کے گزشتہ بیانات کی وجہ سے ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

سوشل میڈیا پر زیر گردش ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے جب خلیل الرحمٰن قمر میڈیا سے گفتگو کرنے لگے تو کچھ لوگوں کی جانب خواتین سے متعلق ماضی میں دیے گئے بیانات کا حوالہ دیا گیا اور ان کے خلاف نعرے بازی بھی کی گئی۔

ویڈیو میں ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے خلیل الرحمٰن قمر تو کہتے تھے کہ عورتوں کو گھر میں بیٹھنا چاہیے۔

جس کے بعد خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ 'میں اس بے شرمی پر لعنت بھیجتا ہوں کہ کوئی اگر سمجھتا ہے کہ خلیل الرحمٰن قمر نے کبھی کہا ہے کہ عورتوں کو گھر میں بیٹھنا چاہیے'۔

انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ میں عورت کو ایک فاختہ کی طرح اڑتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں لیکن حدود کے اندر، اس سے کم میں نے کبھی نہیں کہا۔

خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ اللہ گواہ ہے کہ میں اس بات کے سخت خلاف تھا کہ عورت مارچ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خواتین کے اور ہم سب کے مسائل ایک جیسے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب اس ملک میں قانون کی بالادستی ہوگی تو ہمیں یہ بھی سمجھ آجائے گی کہ خدانخواستہ کہیں عورت سے زیادتی نہیں ہورہی۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے خلیل الرحمٰن قمر نے مزید کہا تھا کہ اس بہیمانہ واقعے پر ہم سب کے دل بری طرح رو رہے ہیں اور تڑپ رہے ہیں کہ اگر فوری انصاف نہیں ملا تو معلوم نہیں ہمارا معاشرہ کس طرف چلا جائے۔

علاوہ ازیں ایک اور ویڈیو میں خلیل الرحمٰن قمر نے احتجاج میں شرکت سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ دعا کریں یہ صرف احتجاج نہ رہے، یہ کوشش بار آور ثابت ہو اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیان سے متعلق خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ بعض اوقات پریشر ہوتا ہے اور سہواً بھی منہ سے ایسی باتیں نکل جاتی ہیں اور اگر سہواً ہوا ہے تو وہ فوراً معافی مانگ لیں۔

موٹروے ریپ کیس

خیال رہے کہ 9 ستمبر کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر گجرپورہ کے علاقے میں 2 مسلح افراد نے ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ وہاں گاڑی بند ہونے پر اپنے بچوں کے ہمراہ مدد کی منتظر تھی۔

واقعے کی سامنے آنے والی تفصیل سے یہ معلوم ہوا تھا کہ لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کی رہائشی 30 سال سے زائد عمر کی خاتون اپنے 2 بچوں کے ہمراہ رات کو تقریباً ایک بجے اس وقت موٹروے پر پھنس گئیں جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا۔

اس دوران خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو بھی کال کی تھی، جس نے خاتون کو موٹروے ہیلپ لائن پر کال کرنے کا کہا تھا جبکہ وہ خود بھی جائے وقوع پر پہنچنے کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔

مزید پڑھیں: زیادتی کا شکار خاتون سے متعلق بیان پر سی سی پی او لاہور کو نوٹس جاری

تاہم جب خاتون مدد کے لیے انتظام کر رہی تھیں تب 2 مرد وہاں آئے اور انہیں اور ان کے بچوں (جن کی عمر 8 سال سے کم تھی) بندوق کے زور پر قریبی کھیت میں لے گئے، بعد ازاں ان مسلح افراد نے بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا، جس کے بعد وہ افراد جاتے ہوئے ان کا اے ٹی ایم کارڈ ساتھ لے گئے۔

اس واقعے کے بعد جائے وقوع پر پہنچنے والے خاتون کے رشتے دار نے اپنی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ بھی تھانہ گجرپورہ میں درج کروایا تھا۔

تاہم اس واقعے کے بعد سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے ایک ایسا بیان دیا تھا جس نے تنازع کھڑا کردیا اور عوام، سول سوسائٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

سی سی پی او نے کہا تھا کہ 'خاتون رات ساڑھے 12 بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں، میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو آپ جی ٹی روڈ کا سیدھا راستہ لیں اور گھر چلی جائیں اور اگر آپ موٹروے کی طرف سے نکلی ہیں تو اپنا پیٹرول چیک کر لیں'۔

یہی نہیں واقعے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا گیا تھا جس پر حکومت بھی ایکشن میں آئی تھی اور آئی جی پنجاب پولیس نے مختلف تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی تھیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی صوبائی وزیر قانون راجا بشارت کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی بنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سی سی پی او لاہور نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی

علاوہ ازیں 12 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب انعام غنی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

ساتھ ہی اس موقع پر بتایا گیا تھا کہ واقعے کے مرکزی ملزم کی شناخت عابد علی کے نام سے ہوئی اور اس کا ڈی این اے میچ کرگیا ہے جبکہ اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں، اس کے علاوہ ایک شریک ملزم وقار الحسن کی تلاش بھی جاری ہے۔

تاہم 13 ستمبر کو شریک ملزم وقار الحسن نے سی آئی اے لاہور میں گرفتاری دیتے ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی بعد ازاں اس کے سالے نے بھی گرفتاری دیتے ہوئے ان پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

بعدازاں 14 ستمبر کو سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے اپنے بیان پر معافی مانگی جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ لاہور موٹر وے پر گینگ ریپ میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔