8سال بعد بلدیہ فیکٹری سانحے کا فیصلہ آج سنائے جانے کا امکان

اپ ڈیٹ 17 ستمبر 2020

ای میل

پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے صنعتی حادثے بلدیہ فیکٹری میں لگنے والی آگ میں 260 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے— فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے صنعتی حادثے بلدیہ فیکٹری میں لگنے والی آگ میں 260 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے— فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت 8 سال بعد پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے صنعتی حادثے بلدیہ فیکٹری میں آگ لگنے کے واقعے میں متحدہ قومی موومنٹ کے قانون ساز رؤف صدیقی اور 9 دیگر ملزمان کے خلاف اپنا فیصلہ سنائے گی۔

11ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن میں فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں مرد و خواتین سمیت فیکٹری میں کام کرنے والے 260 مزدور جاں بحق ہو گئے تھے۔

مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری: 7 سال بعد زمینی حقائق اب بھی وہی ہیں

اس وقت کے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے صوبائی وزیر صنعت و تجارت رؤف سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جس میں ایم کیو ایم کے بلدیہ ٹاؤن کے سیکٹر انچارج عبدالرحمٰن عرف بھولا، زبیر عرف چریا، حیدرآباد کی کاروباری شخصیت عبدالستار خان، عمر حسن قادری، اقبال ادیب خانم اور فیکٹری کے چار چوکیداروں شاہ رخ، فضل احمد، ارشد محمود اور علی محمد شامل ہیں۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اس وقت ایم کیو ایم کراچی کی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کی ہدایت پر فیکٹری کے مالک کی جانب سے 25کروڑ روپے کا بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگا دی تھی۔

حماد صدیقی اور کاروباری شخصیت علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے کیونکہ یہ دونوں بیرون ملک فرار ہو گئے تھے۔

سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمے کی سماعت کرنے والے انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 7 کے جج کی جانب سے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے اور فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے کیونکہ شواہد کی ریکارڈنگ، پراسیکیوشن کے گواہوں کے بیانات، ملزمان کے بیانات، اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے حتمی دلائل اور ملزمان کے وکیل اپنے دلائل تقریباً مکمل کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری پر دستاویزی فلم ’ڈسکاؤنٹ ورکر‘

پراسیکیوشن فارنزک، بیلسٹک اور کیمیکل تجزیاتی رپورٹس اور ملزمان کے خلاف 400 افراد کی گواہی سمیت مقدمے کو مکمل کر چکی ہے۔

پراسیکیوٹر ساجد محمود شیخ کے مطابق فیکٹری میں آگ لگنے سے 264 افراد جل کر راکھ ہو گئے تھے اور ان میں سے 17 افراد کی شناخت نہیں ہو سکی تھی۔

اس کے برعکس نامزد ملزمان نے تمام تر الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

مقدمے میں ہنگامی موڑ

ابتدائی طور پر چارج شیٹ میں مبینہ غفلت پر فیکٹری مالک عبدالعزیز بھیلا، ان کے دو بیٹوں ارشد بھیلا اور شاہد بھیلا ، ایک جنرل منیجر اور چار چوکیداروں کو نامزد کیا گیا تھا۔

البتہ فروری 2015 میں کیس نے اس وقت نیا موڑ لیا جب پاکستان رینجرز نے سندھ ہائی کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ جمع کرائی جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ 25کروڑ روپے بھتے کی عدم ادائیگی پر فیکٹری میں آگ لگائی اور اسی جے آئی ٹی کی بنیاد پر دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا گیا۔

مزید پڑھیں: حماد صدیقی نے 20 کروڑ روپے بھتہ نہ ملنے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگوائی، جے آئی ٹی رپورٹ

مارچ 2016 میں پولیس نے ٹرائل کورٹ کو بتایا کہ فیکٹری میں منظم منصوبہ بندی کے تحت آگ لگائی گئی اور یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے۔

پولیس نے اپنی جے آئی ٹی میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی اور حماد صدیقی، مبینہ فرنٹ مین عبدالرحمٰن عرف بھولا، کاروباری بھائیوں علی حسن قادری اور عمر حسن قادری، ڈاکٹر عبدالستار، اقبال ادیب خانم، زبیر عرف چریا اور دیگر کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔

البتہ طویل تفتیش کے بعد پولیس نے اگست 2016 میں ضمنی تفتیشی رپورٹ جمع کرائی تھی جس میں انہوں نے حماد صدیقی، عبدالرحمٰن دیگر تین نامعلوم ساتھیوں کے خلاف چارج شیٹ فائل کی تھی اور دیگر 13 افراد کو ٹرائل میں نامزد نہیں کیا تھا۔

لیکن عدالت نے جن افراد کے نام نئی چارج شیٹ میں شامل نہیں کیے گئے تھے ان کو بھی ملزم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مالکان نے فیکٹری کے دروازے بند کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ دیگر افراد نے بھی جرم کا ارتکاب کیا۔

دسمبر 2016 میں عبدالرحمٰن عرف بھولا کو انٹرپول کے ذریعے بنکاک سے گرفتار کیا گیا اور انہوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف جرم کرتے ہوئے بیان ریکارڈ کرایا، اپریل 2017 میں پولیس نے بھولا کے خلاف ضمنی چارج شیٹ فائل کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری: ایم کیو ایم کو کروڑوں روپے بھتہ دینے کا کہا گیا، مالک

مذکورہ ضمنی چارج شیٹ میں عبدالرحمٰن نے اعترافی بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے زبیر عرف چریا اور دیگر کو حماد صدیقی کی ہدایت پر فیکٹری میں آگ لگانے کی ہدایت کی تھی کیونکہ فیکٹری مالکان مانگی گئی بھتے کی رقم یا فیکٹری میں شراکت داری سے انکار کر چکے تھے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد رؤف صدیقی نے مبینہ طور پر فیکٹری کے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا اور بعد میں انہیں پتہ چلا تھا کہ رؤف صدیقی اور حماد صدیقی کو مقدمہ ختم کرنے کے لیے فیکٹری مالکان سے 4 سے 5کروڑ روپے کی رقم ملی تھی لیکن پولیس نے اپنی ضمنی رپورٹ میں رکن صوبائی اسمبلی کو معصوم قرار دیا تھا۔

اس کے بعد پبلک پراسیکیوٹر نے مقدمے میں رؤف صدیقی کو نامزد نہ کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ رکن صوبائی اسمبلی کے خلاف اتنے ثبوت موجود ہیں کہ انہیں چارج شیٹ میں نامزد کیا جا سکتا ہے۔

جنوری 2018 میں عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے رؤف صدیقی کو بھی ملزم قرار دیا تھا۔