کے الیکٹرک کو طویل لوڈ شیڈنگ پر نیپرا اور صارفین کے غیض و غضب کا سامنا

اپ ڈیٹ 18 ستمبر 2020

ای میل

کےالیکٹرک پیک آور میں بجلی کی قیمت 20 روپے 70 پیسے جبکہ آف پیک آورز میں 14 روپے 38 پیسے وصول کرتی ہے—فائل فوٹو: اے پی پی
کےالیکٹرک پیک آور میں بجلی کی قیمت 20 روپے 70 پیسے جبکہ آف پیک آورز میں 14 روپے 38 پیسے وصول کرتی ہے—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: کے الیکٹرک کے لیے بجلی کی قیمتوں میں ایک روپے 54 پیسے اضافے کی درخواست پر ہونے والی سماعت کے دوران کراچی کے متعدد علاقوں میں طویل لوڈ شیڈنگ پر پاور ریگولیٹر اور صارفین کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیشنل الیکٹرک ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور بجلی کمپنی سے کہا کہ رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہ کی جائے تا کہ عوام سکون سے سو سکیں۔

چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی نے وسط مدتی ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائی ٹی) کے تحت قیمت میں اضافے کے لیے درخواست کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی کی قیمت میں اضافے کی درخواست پر کے الیکٹرک کو سخت سوالات کا سامنا

چیئرمین نیپرا نے کہا کہ کے الیکٹرک انتظامیہ مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کے بجائے واقعات پر رد عمل ظاہر کرتی ہے، انہوں نے انتظامیہ سے سوال کیا کہ 'آپ مستقبل پر نظر کیوں نہیں رکھتے، اگر آپ ہر چیز پر رد عمل دیتے رہے تو اس طرح کیسے کام ہوگا'۔

سماعت کے دوسرے روز جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے شہر بھر میں طویل دورانیے کی لوڈ شیڈنگ اور عوام کی زندگیوں سے کھیلنے پر کے الیکٹرک کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ 'کے الیکٹرک کس بنیاد پر سرمایہ کاری کے لیے رقم کا مطالبہ کررہی ہے، انہوں نے سوال کیا کہ ریگولیٹر نے اب تک کے الیکٹرک کا لائسنس کیوں منسوخ نہیں کیا ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ کے الیکٹرک کو بجلی کی قیمت میں اضافہ کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے'۔

سماعت کے دوران صارفین نے کے الیکٹرک کی جانب سے آف پیک آورز (دن وہ اوقات جس میں بجلی کی طلب کم ہوتی ہے) کے دوران زیادہ سے زیادہ لوڈشیڈنگ کرنے اور پیک آور میں بجلی کی بندش کی شکایت کی۔

مزید پڑھیں: نیپرا نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا فیصلہ محفوظ کرلیا

خیال رہے کہ کے الیکٹرک پیک آور میں بجلی کی قیمت 20 روپے 70 پیسے جبکہ آف پیک آورز میں 14 روپے 38 پیسے وصول کرتی ہے۔

صارفین نے ریگولیٹر سے درخواست کی کہ صحت مندانہ مقابلے کو فروغ دینے کے لیے شہر میں بجلی تقسیم کرنے والی مزید کمپنیوں کو کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے چیف فنانشل افسر محمد عامر غازیانی نے کہا کہ کراچی میں بجلی کی طلب 32 سو میگا واٹ ہے جبکہ اس وقت 28 سو میگا واٹ بجلی دستیاب ہے یعنی 4 سو میگا واٹ کی کمی ہے انہوں نے بجلی کی کمی کی وجہ گیس کے کم پریشر کو قرار دیا۔

چیئرمین نیپرا کے ایک سوال کے جواب میں کے الیکٹرک افسر نے بتایا کہ کمپنی زیادہ نقصان والے علاقوں میں 9 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کررہی ہے درمیانے نقصانات والے علاقوں میں 3 سے 4 گھنٹوں جبکہ کم نقصانات والے علاقوں میں صرف 2 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا کا کراچی میں حالیہ بارشوں میں کرنٹ لگنے سے اموات کا نوٹس

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 900 میگا واٹ کے بجلی گھر کا پہلا پیداواری یونٹ 2021 میں فعال ہوجائے گا۔

چیئرمین نیپرا نے کہا کہ بجلی گھر میں تاخیر کے الیکٹرک کی وجہ سے ہوئی ہے اس لیے ریگولیٹر اس کا بوجھ صارفین پر منتقل نہیں کرے گا۔

نیپرا چیئرمین نے پوچھا کہ کمپنی مرمت کے لیے فنڈز کیوں مانگ رہی ہے کیوں کہ ٹیرف میں آپریشن اور مرمت کے لیے فنڈز مختص ہیں جس پر کے ای عہدیدار نے کہا کہ اضافی رقم مشینوں پر خرچ کی جائے گی۔