ایف بی آر نے ٹیکس آڈٹ کے لیے 12 ہزار 553 کیسز منتخب کرلیے

19 ستمبر 2020

ای میل

گزشتہ سال ایف بی آر نے 14 ہزار 154 کیسز آڈٹ کے لیے منتخب کیے تھے جبکہ اس سے ایک سال قبل یہ تعداد 44 ہزار 868 تھی۔ اے ایف پی:فائل فوٹو
گزشتہ سال ایف بی آر نے 14 ہزار 154 کیسز آڈٹ کے لیے منتخب کیے تھے جبکہ اس سے ایک سال قبل یہ تعداد 44 ہزار 868 تھی۔ اے ایف پی:فائل فوٹو

اسلام آباد: جہاں حکومت ٹیکس مشینری میں اصلاحات لانے میں مصروف ہے وہیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے الیکٹرانک بیلٹنگ کے ذریعے آڈٹ کے لیے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کے 12 ہزار 553 کیسز کا انتخاب کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ایف بی آر نے 14 ہزار 154 کیسز آڈٹ کے لیے منتخب کیے تھے جبکہ اس سے ایک سال قبل یہ تعداد 44 ہزار 868 تھی۔

آڈٹ کے لئے منتخب کردہ مقدمات کی تعداد میں کمی سے ایف بی آر کی آڈٹ کرنے کی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر نے تاجر کو 10 سال کے مقررہ وقت کے بجائے ایک ماہ میں 5 ارب روپے واپس کردیے

آڈٹ کے لئے منتخب ہونے والے کل کیسز میں سے 10 ہزار 441 انکم ٹیکس کے جبکہ سیلز ٹیکس کے 2 ہزار 65 اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے 27 کیسز ہیں۔

وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ایف بی آر کے چیئرمین جاوید غنی اور تاجروں کی موجودگی میں الیکٹرانک بیلٹنگ کے لیے بٹن دبائے۔

آڈٹ کے لیے منتخب کردہ قومی ٹیکس نمبر / CNIC کے کیسز ایف بی آر کی ویب سائٹ پر جاری کردیے گئے ہیں۔

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ آڈٹ کیسز کے انتخاب کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف اعلی رسک کے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے کیسز پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے آڈٹ کے لیے کم سے کم تعداد میں کیسز کا انتخاب کیا جارہا ہے تاکہ آڈٹ کو مناسب اور وقت کے ساتھ ساتھ مکمل کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے اور بدعنوانی سے متعلق شکایات کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

مشیر خزانہ نے امید ظاہر کی کہ ایف بی آر سرکاری محکموں اور ٹیکس دہندگان دونوں کو خدمات فراہم کرکے اپنے معیار میں بہتری لائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر نے تاجروں کیلئے خصوصی ٹیکس اسکیم کے غلط استعمال کا پتہ لگا لیا

انہوں نے کاروباری برادری کو اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی اور امید ظاہر کی کہ ملک کے کاروباری شعبے کے لیے مستقبل روشن ہوگا۔

ٹیکس دہندگان کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے ایف بی آر کے خلاف کاروباری برادری کی شکایات کے ازالے کے لیے دو کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ہیں جن میں بورڈ کے نمائندے اور کاروباری افراد اور تکنیکی کمیٹی شامل ہیں جن میں ریفنڈ کے معاملات سے متعلق شکایات شامل ہیں اور اس میں نجی شعبے کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔

چیئرمین جاوید غنی نے کہا کہ بورڈ شفافیت، سادگی اور پیش گوئی کے اصولوں پر کام کر رہا ہے۔

ٹیکس سال 2018 کے لیے کیسز (تمام ٹیکسز کے لیے) کے انتخاب کا معیار رسک پر مبنی اور پیرامیٹرک ہے۔

کیسز کا انتخاب سائنسی طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا ہے جس کے لیے ایک سافٹ ویئر تیار کیا گیا ہے اور اسے 'رسک پر مبنی آڈٹ مینجمنٹ سسٹم' (رامس) کا نام دیا گیا ہے۔